ہاؤسنگ سوسائٹی بناتے ہوئے علیم خان نے سرکاری اراضی پر تجاوزات قائم کیں، سی ڈی اے کی تصدیق

اپ ڈیٹ 26 جولائ 2020

ای میل

سی ڈی اے نے دسمبر میں طلب کی گئی رپورٹ کو گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تاخیر پر تنقید کے بعد جمع کرادی۔ فوٹو بشکریہ فیس بک
سی ڈی اے نے دسمبر میں طلب کی گئی رپورٹ کو گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تاخیر پر تنقید کے بعد جمع کرادی۔ فوٹو بشکریہ فیس بک

اسلام آباد ہائیکورٹ کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے تصدیق کی ہے کہ پنجاب میں سینئر وزیر علیم خان نے اپنی پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کو کری روڈ سے منسلک کرنے کے لیے سرکاری اراضی پر تجاوزات قائم کیں۔

یہ رپورٹ، جسے دسمبر میں جمع کرایا جانا تھا، کو گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تاخیر پر تنقید کے بعد جمع کرادیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت کے جواب میں سی ڈی اے نے علیم خان کے خلاف تجاوزات قائم کرنے کے الزام میں ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست کی سماعت کے بعد یہ رپورٹ پیش کی۔

ہاؤسنگ ڈیولپر نے دعوٰی کیا تھا کہ انہوں نے اس زمین کے لیے ایک سڑک تعمیر کی تھی جو اس مقصد کے لیے مختص کی گئی تھی تاہم سی ڈی اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نہ صرف اس سڑک کے لیے زمین مختص کی گئی تھی بلکہ سی ڈی اے کے چیئرمین کے طور پر کام کرنے والے دو سینئر بیوروکریٹس کی طرف بھی انگلی اٹھائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: علیم خان پنجاب کابینہ کا دوبارہ حصہ بن گئے

رپورٹ میں کہا گیا کہ 'ڈیولپر سی ڈی اے زمین اور پروجیکٹ کی اراضی کے درمیان خلا کے مالک نہیں تھے'۔

ہاؤسنگ سوسائٹی کے اس دعوے کے بارے میں کہ اس سڑک کو سی ڈی اے نے اپنے تصوراتی منصوبے میں پہلے ہی تجویز کیا تھا سی ڈی اے نے کہا کہ 'یہ صرف کری کے لیے تصوراتی منصوبہ تھا نہ منظور شدہ لے آؤٹ'۔

سی ڈی اے نے علیم خان کو مئی 2018 میں سڑک تعمیر کرنے کی اجازت دینے کی اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ '9 مئی 2018 کے سی ڈی اے بورڈ کے اس فیصلے نے ڈیولپر کو اجازت نامے (این او سی) کی شرائط کی ضروریات کو پورا کرنے کی اجازت دی۔

علیم خان کی تعمیرات اور مرکزی سڑک کے درمیان کوئی رسائی سڑک نہیں تھی جو این او سی کے لیے ضروری ہے تاہم سی ڈی اے نے سڑک کو تعمیر کرنے کی اجازت دی جس کے نتیجے میں وہ این او سی کے لیے اہل بن سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 'اگر سی ڈی اے نے اپنی زمین تک رسائی کی اجازت نہ دی ہوتی اور تصوراتی منصوبے کو حقیقی سڑک کے طور اپناتے تو یہ شرط پوری نہیں ہوسکتی تھی'۔

رپورٹ کے مطابق بعد میں اس رسائی سڑک کی فراہمی کی بنیاد پر ایک این او سی جاری کیا گیا تھا اور 2018 کے آخر تک جس زمین پر سڑک بنائی گئی تھی اسے سی ڈی اے کو منتقل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نومبر 2019 میں اس معاملے پر ہونے والی ابتدائی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے سے کہا تھا کہ وہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو حاصل شدہ اراضی کو استعمال کرنے کے لیے دی گئی اجازت کو جواز بنائے اور 'اس عدالت کو مطمئن کرے کہ یہ ایسا کیس نہیں جسے تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت دیا جائے'۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: علیم خان کے خلاف تجاوزات کیس نیب کو ارسال کرنے کا عندیہ

واضح رہے کہ پارک ویو سٹی ایک ناقابل رسائی علاقے بنایا جارہا تھا اور سی ڈی اے ریکارڈ کے مطابق جون 2018 میں اس سوسائٹی کو اس زمین کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی جب عثمان اختر باجوہ سی ڈی اے کے چیئرمین تھے۔

سی ڈی اے کے چیئرمین افضل لطیف کے دور میں سی ڈی اے کے حق میں کچھ علاقوں رسائی روڈ کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی جس نے اس منصوبے کو سی ڈی اے کی زمین سے جوڑ دیا تھا۔

اس معاملے کی نشاندہی سی ڈی اے کی منصوبہ بندی ونگ نے کی تھی جس کے سربراہ ممبر پلاننگ اسد محبوب کیانی تھے، جو اس کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔

ہفتے کے روز اس کیس کی سماعت کے دوران کوئی بھی سی ڈی اے کی طرف سے عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ 'یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے کیونکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سی ڈی اے اور مقامی انتظامیہ نے ایک نجی ادارے کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے سہولیات دے کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے'۔

انہوں نے سی ڈی اے کے چیئرمین کو ایک نمائندہ نامزد کرنے کی ہدایت کی جو وضاحت کرے کہ علیم خان کو این او سی کیوں جاری کیا گیا تھا جب کہ علیم خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس خارج کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔

اس سے قبل عدالت نے دسمبر 2017 میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کی درخواست خارج کردی تھی جس میں سی ڈی اے کو این او سی جاری کرنے کی ہدایت کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔