آئی پی پیز پر رپورٹ کے اجرا کے بعد آر ایل این جی پاور پلانٹس کے خریداروں کا بولی لگانے سے انکار

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

سرمایہ کاروں نے حکومت کو بتایا ہے کہ وہ آئی پی پیز کے ساتھ  نرخوں پر جاری مذاکرات کو دیکھ رہے ہیں ۔ فائل فوٹو:ڈان
سرمایہ کاروں نے حکومت کو بتایا ہے کہ وہ آئی پی پیز کے ساتھ نرخوں پر جاری مذاکرات کو دیکھ رہے ہیں ۔ فائل فوٹو:ڈان

کراچی: ری گیسفائید لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے دو پاور پلانٹس کی نجکاری میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں نے اس وقت ان منصوبوں کے لیے کسی بھی قسم کی ایکوئٹی بولی نہ لگانے کا اشارہ دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے حکومت کو بتایا ہے کہ وہ آزاد بجلی پیدا کرنے والوں (آئی پی پیز) کے ساتھ نرخوں پر جاری مذاکرات کو دیکھ رہے ہیں جو آئی پی پیز سے متعلق انکوائری رپورٹ کے اجراء کے فوراً بعد شروع کیے گئے۔

وفاقی حکومت کی ملکیت میں پنجاب میں حویلی بہادر شاہ اور بالوکی، دو بجلی گھر ہیں، یہ دونوں پلانٹس سرکاری خزانے سے نجکاری کے ارادے سے تعمیر کیے گئے تھے اور ان کی نجکاری کمرشل آپریشنز کے آغاز کے فوراً بعد ہونی تھی جو 2018 کے وسط میں ہوا تھا۔

گزشتہ سال ستمبر میں وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ وہ ان دونوں پلانٹس کی فروخت سے 300 ارب روپے اکٹھا کرنے کی توقع کر رہے ہیں جو ان کے بقول دسمبر 2020 میں ہوجانا چاہیے تاہم بجٹ دستاویزات میں حکومت نے نجکاری کے عمل سے 100 ارب روپے اکٹھا کیے جانے کا بجٹ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی پی پیز سے مذاکرات کے لیے نئی کمیٹی تشکیل

نجکاری کا پروگرام اب ایک طویل عرصے سے پریشانی کا شکار ہے، مارچ 2019 میں حکومت نے کریڈٹ سورس کو اپنا فروخت کا ایڈوائزر مقرر کیا اور نومبر 2019 میں دلچسپی کے اظہار کرنے والوں (ای او آئیز) نے حکومت کی پہلی کوشش پر بھرپور جواب دیا۔

آخری تاریخ میں توسیع کردی گئی اور آخر کار جنوری 2020 میں 12 پارٹیز کے ای او آئیز موصول ہوگئے لیکن کورونا وائرس سے غیر یقینی صورتحال کا آغاز ہوتے ہی یہ تعداد کم ہوکر 3 ہوگئی۔

ان میں سے ایک کی قیادت قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کررہی ہے جبکہ دیگر میں جاپان کے نبراس پاور اور مٹسوئی اینڈ ماروبینی شراکت دار، تھائی لینڈ کی گلوبل پاور سائنرجی کارپوریشن اور چین کے جنرل نیوکلیئر پاور کارپوریشن کی ملکیت میں ملائیشین بجلی کمپنی، ایڈرا پاور ہولڈنگز شامل ہے۔

حالیہ آن لائن اجلاس، جس میں نجکاری کے وزیر اور سیکریٹری کے علاوہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے بھی شرکت کی تھی، دونوں اداروں نے حکومت کو بتایا کہ وہ 13 آئی پی پیز سے ٹیرف مذاکرات کا نتیجہ آنے تک منصوبوں کے لیے کسی قسم کی ایکوئٹی بولی جمع نہیں کرائیں گے۔

یہ مذاکرات آئی پی پیز سے متعلق انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے اجرا کے بعد شروع کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر آئی پی پیز رپورٹ درست ہے تو مافیا نے ملک کا گینگ ریپ کیا، صدر مملکت

ڈان نے اجلاس کے متعدد شرکا سے بات کی جن کے مطابق جاری مذاکرات کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ وہ منصوبوں کے لیے طویل المدتی مالی اعانت کے لیے بین الاقوامی قرض دہندگان سے وعدوں کو حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

اس سودے کے سلسلے میں معاملے کی گہری واقفیت رکھنے والے ایک سینئر بینکر نے ڈان کو بتایا کہ 'بین الاقوامی قرض دہندہ الجھن کا شکار ہیں، بین الاقوامی سرمایہ کار قرض دہندگان کو اپنے ساتھ لے کر آئے لیکن اس معاملے میں قرض دہندہ پریشان ہیں کہ اس کے نرخوں کو ختم کرکے دوبارہ بات چیت کی جاسکتی ہے اور اثاثے کو کس طرح ماڈل کیا جائے وہ اس کا اندازہ نہیں لگا پارہے ہیں'۔

اپنے عوامی پیغام میں نجکاری کمیشن نے ان چیلنجز کی نشاندہی کی ہے جو انہیں بولی لگانے والوں کو ان منصوبوں کے لیے طویل المدتی مالی اعانت کے انتظام میں مدد دینے میں درپیش ہیں، مثال کے طور پر 23 جولائی کو جب دونوں سرمایہ کاروں نے انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کیا تو اس کے کچھ دن بعد وزیر نجکاری کراچی پہنچے اور بجلی کے ریگولیٹر کے عہدیداروں کے ساتھ بڑے مقامی بینکوں کے صدور سے ملاقات کی، یہ ملاقات اسٹیٹ بینک میں ہوئی۔

اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ 'ان بینکوں کو اس ٹرانزیکشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے قرض دہندہ کے طور پر شرکت کرنے کو کہا گیا تھا، نجکاری کے عمل کے ایک حصے کے طور پر ممکنہ بولی لگانے والوں کو غیر ملکی اور/یا مقامی قرضوں کی مالی معاونت کے ذریعے (سرکاری فنڈز کے ساتھ ساتھ) موجودہ تجارتی قرضوں کو دوبارہ فنانس کرنے کی ضرورت ہوگی، کامیابی سے اس لین دین کو مکمل کرنے کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ممکنہ بولی لگانے والے کافی تعداد میں پاکستانی کرنسی میں مالی اعانت حاصل کرسکیں۔

لیکن جن لوگوں نے اجلاس میں شرکت کی وہ کہتے ہیں کہ یہ سیدھی سادھی فروخت نہیں۔

اجلاس کے بارے میں معلومات رکھنے والے ایک بینکر کا کہنا تھا کہ 'بینک کے صدور ٹیرف پر ریلیف طلب کر رہے تھے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا بولیاں موجودہ ٹیرف یا نظر ثانی شدہ قیمتوں پر ہونی چاہئیں؟'

مزید پڑھیں: حکومت نے آئی پی پیز کو اہم بات چیت کیلئے طلب کرلیا

انہوں نے ایکوئٹی پر منافع کی داخلی شرح کا حوالہ دیا جو کسی سرمایہ کار کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور کہا کہ 'ریٹرن جو ٹیرف میں شامل ہے وہ ہی کلیدی کردار ادا کرتا ہے'۔

تاہم مقامی بینکوں کے لیے مشکلات یہاں ختم نہیں ہوتی ہیں۔

ان کے تخمینے کے مطابق ان دونوں منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے درکار مجموعی قرضہ 160 ارب روپے سے لے کر 180 ارب روپے تک کہیں بھی ہوسکتا ہے جس میں طویل المدتی فنانسنگ اور ورکنگ سرمایہ بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں کیپیٹل مارکیٹ اس کے لیے اتنے گہرے نہیں ہیں، مقامی بینکوں کے لیے اس سودے میں بین الاقوامی قرض دہندگان کا متبادل بننا بہت مشکل ہوگا'۔

حکومت کی طرف سے کچھ افراد اس تجزیے سے متفق تھے، اجلاس میں شرکت کرنے والے ندیم بابر کا کہنا تھا کہ 'بینکرز نے میری رائے میں ایک معقول دلیل دی'۔

ایک اور عہدیدار نے آئی پی پیز اور اس کے ساتھ ٹیرف کی بحالی کے لیے قائم کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے پیدا ہونے والے 'باہمی اتفاق رائے کے فریم ورک' کی اہمیت پر زور دیا، یہ بات ان مسائل کی جانب اشارہ کرتی ہے جو اگر حکومت کو جاری مذاکرات میں آئی پی پیز پر کوئی نتیجہ مسلط کرنے پر غور کرے تو پیدا ہوسکتے ہیں۔

نجکاری کی فہرست میں شامل دو منصوبے ان 13 کا حصہ نہیں ہیں جن کے نرخوں پر حکومت دوبارہ بات چیت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم ان کے نرخوں کا اسٹرکچر کافی حد تک ان 13 جیسا ہی ہے جن کے ایکوئٹی پر 16 فیصد کی فکسڈ ریٹرن ہے۔

شرائط پر دیگر سے دوبارہ مذاکرات کرنے اور انہیں نہ چھیڑنے سے بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کے درمیان ان کے ریٹرن کے لحاظ سے دو درجے پیدا ہوجائیں گے اور ممکنہ طور پر 13 آئی پی پیز کے قانونی مقدمہ کو تقویت بخشیں گے کہ ان کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جیسے جیسے آئی پی پیز کی کمیٹی کے ساتھ بات چیت طویل ہورہی ہے حکومت کے نجکاری پروگرام کا ایک بڑا اور اس کے محصولات کے منصوبے کا ایک اہم حصہ، متاثر ہوتا جا رہا ہے۔

فنانس ڈویژن نے اس کے لیے ایک تحریری بیان میں کہا کہ 'نجکاری کا عمل موجودہ مالی سال کے لیے بجٹ میں نجکاری ڈویژن کے ان پٹ پر مبنی ہے اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے ردعمل کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے'۔

تاہم آف دا ریکارڈ مباحثے میں وزارت خزانہ کے افراد بہت زیادہ ڈائریکٹ تھے، وزارت کے ایک اعلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'آئی پی پیز کے مذاکرات کو اس نجکاری کو سبوتاژ کرنے دینا بے وقوفانہ حکمت عملی ہوگی'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم ان مذاکرات کا جس تیزی سے نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں، اتنا بہتر ہے'۔

ڈان نے وزیر بجلی عمر ایوب اور انکوائری رپورٹ لکھنے والے محمد علی کی رائے کے لیے درخواست کے جواب کے لیے 24 گھنٹے انتظار کیا جو آئی پی پیز سے بات چیت کرنے والی کمیٹی کے ممبر بھی ہیں تاہم اس خبر کے فائل کرنے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔