جب مافیاز حکومت چلاتی ہیں تو چینی، پیٹرول، آٹا نایاب ہوتا ہے، مرتضیٰ وہاب

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

سنندھ کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب کراچی میں پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔ فوٹو:ڈان نیوز
سنندھ کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب کراچی میں پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔ فوٹو:ڈان نیوز

سندھ حکومت کے ترجمان اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب مافیاز حکومت چلاتی ہیں تو چینی، پیٹرول اور آٹا مہنگا ہوجاتا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ 'وفاق کے محصولات میں اضافے کا فائدہ صوبائی حکومتوں کو ہوتا ہے، کہا جارہا ہے کہ جولائی میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اُمید تھی کہ این ایف سی کی مد میں سندھ کو ملنے والے پیسے بھی اب پورے ملیں گے تاہم ہر مہینے سندھ کو 63 ارب روپے ملنے ہوتے ہیں جس میں سے جولائی کے مہینے میں 34 ارب روپے موصول ہوئے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 28 ارب کا شارٹ فال ہے مطلب وفاقی حکومت نے 45 فیصد وعدہ پورا نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: وفاق نے سندھ حکومت کو گندم بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ 'کوئی بحران ہو وفاقی حکومت کے وزرا کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت اس سے نمٹے گی تاہم ہمیں ہمارا حصہ بھی نہیں دیا جاتا، ہم کیسے لوگوں کی تنخواہیں دیں، کیسے پینشن ادا کریں، کیسے ترقیاتی کام کرسکیں گے؟'

ترجمان کا کہنا تھا کہ 'چینی انکوائری کمیشن رپورٹ کھلم کھلا کہتی ہے کہ برآمدات کی وجہ سے اس کا بحران پیدا ہوا اور اربوں روپے چینی مافیا نے کمائے، برآمدات کی اجازت وزیر اعظم عمران خان کی منظوری سے دی تھی مگر میرے اس سوال کا کسی نے جواب نہیں دیا'۔

انہوں نے کہا کہ خبر ملی ہے کہ ای سی سی نے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ چینی 70 روپے کلو ملنی چاہیے مگر 'اس وقت پاکستان میں کہیں بھی اس قیمت پر چینی نظر نہیں آتی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'روزانہ شام کو پریس کانفرنس میں صوبہ سندھ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد میں آٹا نہیں مل رہا تو اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر کیسے ڈالی جاسکتی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'تحریک انصاف کو اعتراف کرلینا چاہیے کہ ان کی حکومت پاکستان کی تاریخ کی سب سے کرپٹ حکومت ہے جسے مافیاز چلاتی ہیں'۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی کوتاہیوں کا ملبہ ماضی کی حکومتوں پر کیسے ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کی بارش سے ہونے والے نقصانات پر شہریوں سے معذرت

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'جس طرح گزشتہ سال گندم کا مصنوعی بحران پیدا کرکے اربوں روپے کا ٹیکہ پاکستان کی عوام کو لگایا گیا تھا ویسے ہی دوبارہ گندم کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے'۔

انہوں نے اپنے دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'صوبہ اپنی گندم کو ستمبر میں جاری کرتا ہے تاکہ آئندہ 6 ماہ تک قیمتوں کو بڑھنے سے روکا جاسکے، پہلی مرتبہ عمران خان صوبوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی گندم کو ابھی سے ریلیز کرے'۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ ان کی بات نہیں سنتا جس کی وجہ سے یہ ہم پر الزام تراشی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اخباروں میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان میں مہنگائی 9.3 فیصد ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی سمت کو درست کرے اور پاکستان کی عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے'۔

آخر میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان پیپلز پارٹی کا بیانیہ ہے کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور اسے گھر جانا چاہیے'۔