امارات-اسرائیلی کمپنیز کے مابین کورونا وائرس تحقیق پر 'اسٹریٹجک تجارتی معاہدہ'

16 اگست 2020

ای میل

معاہدہ کورونا وائرس پر تحقیق اور ترقی سے متعلق ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
معاہدہ کورونا وائرس پر تحقیق اور ترقی سے متعلق ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

اماراتی اپیکس نیشنل انویسٹمنٹ کمپنی نے ٹیسٹنگ ڈیوائس سمیت کورونا وائرس سے متعلق تحقیق اور ترقی پر تعاون کے لیے اسرائیل کی تیرا گروپ کے ساتھ 'اسٹریٹجک تجارتی معاہدے' پر دستخط کردیے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سرکاری خبررساں ادارے ڈبلیو اے ایم (ویم) نے اپیکس کے چیئرمین خلیفہ یوسف خورے کے بیان کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاہدے کو نوول کورونا وائرس پر تحقیق اور مطالعہ کی تقویت سے انسانیت کی خدمت کے لیے اماراتی اور اسرائیلی کاروباری شعبوں کے مابین تجارت، معیشت اور مؤثر شراکت داری کا آغاز کرنے والا پہلا کاروباری (معاہدہ) سمجھا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ یہ معاہدہ حال ہی میں یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے بعد سامنے آیا جس میں دونوں ریاستوں کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر معمول پر آجائیں گے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 'تاریخی امن معاہدہ'

اس کاروبارہ معاہدے پر دستخط ابوظبی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیے گئے۔

'اسرائیل-عرب معاہدہ خلیج ریاست کیلئے امریکی ہتھاریوں کی فروخت کھول سکتا'

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ماہرین کے مطابق امارات اور اسرائیل کے دمریان سفارتی تعلقات معمول پر ہونا خلیج عرب ملک کے لیے امریکی ہتھیاروں کی مزید فروخت کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔

ایک نیشنل پبلک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کے لیے امریکی سفیر ڈیوڈ فرائڈ مین کا کہنا تھا کہ جتنا زیادہ امارات اسرائیل کا دوست بنے گا، اسرائیل کا شراکت دار بنے گا، امریکا کا خطے کا اتحادی بنے گا، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے خطرے کی جانچ میں کچھ تبدیلی ہوگی اور مستقبل میں ہتھیاروں کی فروخت پر امارات کو 'فائدہ' ہوسکتا ہے۔

ادھر واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے قریب مشرق پالیسی تھنک ٹینک میں عرب اسرائیل تعلقات پر پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈیوڈ میکوسکی نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ معاہدہ امارات کے لیے جیت ہے جو بلاشبہ فوجی سازوسامان کے لیے اہل ہوگا جو 'کوالیٹیٹو ملٹری ایج' پابندیوں کے باعث کچھ ٹیکنالوجیز اسرائیل کے خلاف استعمال ہونے کے ڈر کی وجہ سے حاصل نہیں کرسکا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے امن معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

اس معاہدے کے بارے میں امریکی صدر نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: تاریخ متحدہ عرب امارات کے 'منافقانہ رویے' کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، ترکی

امریکی صدر نے پیش گوئی کی تھی کہ خطے کے دیگر ممالک بھی یو اے ای کے نقش قدم پر چلیں گے۔

تاہم خطے کے ممالک میں سے پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے دور رس اثرات ہوں گے۔

اس کے علاوہ ترکی اور ایران نے اس اقدام پر متحدہ عرب امارات پر شدید تنقید کی تھی جبکہ مصر، اردن اور بحرین نے اسے خوش آئند قرار دیا تھا۔

تاہم سعودی عرب کی طرف سے معاہدے پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔