دھونی کی ریٹائرمنٹ اور برِصغیر کا المیہ

اپ ڈیٹ 25 اگست 2020

ای میل

بالآخر مہندر سنگھ دھونی بھی بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ گئے اور ایک قابلِ رشک کیریئر اپنے اختتام کو پہنچا۔

دھونی نے اپنے کیریئر وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو کسی بھی کپتان کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے ون ڈے اور ٹی20 کے ورلڈ کپ جیتے، چیمپئنز ٹرافی کی صورت میں آئی سی سی کا تیسرا سب سے بڑا اعزاز بھی حاصل کیا اور ٹیسٹ میں انڈین کرکٹ ٹیم کو نمبر وَن پوزیشن تک بھی پہنچایا۔ وہ تینوں فارمیٹس میں بھارت کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بھی رہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں بھارت کے اعلیٰ ترین سول اعزازات بھی دیے گئے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

لیکن، کئی بڑے کھلاڑیوں کی طرح دھونی بھی ایک معاملے میں چُوک گئے۔ جی ہاں! وہ بھی صحیح وقت پر ریٹائرمنٹ نہیں لے پائے۔ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں جو کچھ حاصل کیا، سب 2013ء سے پہلے کی کہانی ہے، اس کے بعد نہ کوئی بڑا اعزاز ان کے ہاتھ لگا اور نہ ہی کوئی نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ ہاں! ورلڈ کپ 2015ء اور 2019ء کے سیمی فائنلز میں اور آئی سی سی کے دوسرے ٹورنامنٹس میں ناکامیاں ضرور مول لیں۔

مزید پڑھیے: دھونی بھارتی ٹیم کی اولین ترجیح نہ رہے، ریٹائرمنٹ لینے کیلئے دباؤ

'ایم ایس' نے ٹیسٹ کرکٹ کو 2014ء میں ہی خیرباد کہہ دیا تھا، جیسا کہ آج کل ہر دوسرا بڑا کھلاڑی کر رہا ہے۔ وجہ سادہ سی ہوتی ہے کہ وہ خود کو محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے فٹ رکھنا چاہتے ہیں، خاص طور پر لیگ کرکٹ کے لیے۔

دھونی نے ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ لی تو یہی محسوس ہوا کہ شاید وہ ورلڈ کپ 2015ء کے ساتھ ون ڈے کرکٹ بھی چھوڑ دیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سیمی فائنل میں بھارت کی آسٹریلیا کے ہاتھوں مایوس کُن شکست اور اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکامی نے بھی انہیں اس فیصلے کی طرف مائل نہیں کیا۔

دراصل دھونی یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ اب اصل میں ویرات کوہلی کا زمانہ آ چکا ہے۔ جیسے ہی انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑی، کوہلی نے دھونی کو گہنا دیا۔ اس کے بعد بہت زیادہ عرصے دھونی کی نہیں چل سکی یہاں تک کہ انہیں 2017ء میں مجبور کیا گیا کہ ون ڈے اور ٹی20 کی قیادت چھوڑ دیں۔ اتنے بڑے فیصلے کے بعد بھی دھونی کھلاڑی کی حیثیت سے ٹیم میں اپنی جگہ پانے کی کوششیں کرتے رہے، جو کم از کم ان کے پائے کے کھلاڑی کو زیب نہیں دیتا تھا۔

پھر دھونی میں اب وہ دم خم بھی نہیں رہا تھا، اور جو ان کی سب سے بڑی صلاحیت تھی، یعنی میچ 'فنش' کرنا، وہ بھی بجھتی جا رہی تھی۔

ورلڈ کپ 2019ء کا سیمی فائنل ایک اور مایوس کُن شکست کے ساتھ ختم ہوا اور ساتھ ہی دھونی کا کیریئر بھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد صرف ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے میں دھونی نے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگا دیا۔ جی ہاں! دھونی نے ورلڈ کپ 2019ء کے بھارت-نیوزی لینڈ سیمی فائنل کے بعد سے اب تک کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا۔ بھارت ان کی جگہ بارہا رشبھ پنت اور کے ایل راہول کو جگہ دیتا رہا لیکن اس سب کے باوجود دھونی نے اپنے اندر اتنی سی ہمت نہیں پائی کہ وہ ریٹائرمنٹ کا لفظ استعمال کر لیں۔

دراصل، صحیح وقت پر ریٹائرمنٹ نہ لینا، بالخصوص برِصغیر کا، ایک پرانا مسئلہ ہے۔ شاید کھلاڑی سمجھتے ہیں کہ

کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

لیکن وہ زمانے لد گئے جناب۔ اب وہ دور نہیں کہ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ چھوڑتے ہی روزگار کے لالے پڑ جائیں۔ لیگ کرکٹ کی صورت میں کمانے کا بڑا ذریعہ تو پھر بھی باقی رہتا ہے اور کھلاڑی نہ سہی، کوچ اور دوسری حیثیتوں سے کافی کچھ کمایا جاسکتا ہے۔ دھونی تو پھر دھونی تھے، بہت آگے جاتے لیکن وہ حالات کا درست ادراک نہیں کر پائے۔

ہمارے خیال میں دھونی کو بروقت ریٹائرمنٹ لینے کا جو آخری موقع ملا تھا، وہ 2016ء میں منعقد ہونے والا ٹی20 ورلڈ کپ تھا۔ بہرحال، ہر کھلاڑی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے لیے ایسا موقع خود تلاش کرے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس سے یہ اختیار چھینے۔ لیکن یہاں یہ سب لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس معاملے میں دھونی جیسے بڑے کھلاڑی سے بھی غلطی ہوسکتی ہے جیسا کہ کئی دوسرے بڑے ناموں سے بھی ہوئی۔

اب آپ جاوید میانداد ہی کو لے لیں۔ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین بیٹسمین جن کے لیے ریٹائرمنٹ کا بہترین وقت تھا ورلڈ کپ 1992ء کی فتح۔ لیکن انہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد ان کا کیریئر صحیح سے ایک، ڈیڑھ سال ہی چل پایا۔

1993ء میں انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا اور اس کے بعد اگلے 3 سال تک انٹرنیشنل کرکٹ میں نظر نہیں آئے۔ پھر ایک عجیب حرکت ہوئی، میانداد 1996ء کے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں واپس آئے، جس کا واحد مقصد شاید انہیں ایک اور ورلڈ کپ کھلانا تھا بس۔ اس ورلڈ کپ میں انہوں نے 5 میچ کھیلے، جن میں صرف 54 رنز بنائے اور آخری میچ میں، جو بھارت کے خلاف کوارٹر فائنل تھا، رن آؤٹ ہوکر کیریئر ختم کر بیٹھے

پھر ’سوئنگ کے سلطان‘ وسیم اکرم ہیں کہ جنہیں ورلڈکپ 2003ء میں پاکستان کے مایوس کُن اخراج کے ساتھ کرکٹ چھوڑنا پڑی۔ کامیاب ترین ون ڈے باؤلرز میں سے ایک کو بدترین شکستوں کے ساتھ کرکٹ کو الوداع کہنا پڑا۔ ورلڈ کپ 2003ء میں زمبابوے کے خلاف میچ ان کا آخری انٹرنیشنل مقابلہ تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ان کے ساتھی وقار یونس کا بھی آخری میچ تھا۔ یوں 'ٹُو ڈبلیوز' کا کیریئر بہت افسوسناک انداز میں اختتام کو پہنچا۔

ماضی قریب میں دھونی جیسی ایک بڑی مثال سچن ٹنڈولکر کی بھی ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی 100ویں سنچری کی تلاش میں جس طرح اپنے کیریئر کو طول دیا، اس کی ان سے ہرگز توقع نہیں تھی۔ وہ مہینوں تک کھیلتے رہے، بدترین کارکردگی دکھائی، یہاں تک کہ ماہرین بھی یہ گفتگو کرنے لگے کہ سچن کو 99 سنچریوں پر ہی میدان چھوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ بھی ڈان بریڈمین کے 99 کے ٹیسٹ اوسط کی طرح امر ہوجائیں، لیکن سچن چپکے رہے، یہاں تک کہ ایک اور شکست خوردہ سنچری اننگ کے بعد دنیائے کرکٹ چھوڑی۔ جی ہاں! سچن کی آخری 2 ون ڈے سنچریوں میں ایک سال کا فاصلہ تھا اور دونوں میں بھارت کو شکست ہوئی تھی۔

سچن کے پرستاروں کا سنجیدہ حلقہ کہتا ہے کہ انہیں 2011ء ورلڈ کپ میں فتح کے ساتھ ہی کرکٹ کو خیرباد کہہ دینا چاہیے تھا۔ وہ کوئی معمولی کھلاڑی نہیں تھے، ان کے پاس سب سے زیادہ رنز، سب سے زیادہ سنچریوں اور سب سے زیادہ میچ کھیلنے کے ٹیسٹ اور ون ڈے ریکارڈ تھے۔ لیکن صرف ایک ریکارڈ، 100 انٹرنیشنل سنچریوں کے لیے وہ میدان سے نکلنے کو تیار نہیں تھے۔ حالانکہ ورلڈ کپ 2011ء کے بعد صاف محسوس ہو رہا تھا کہ سچن میں اب وہ دم خم نہیں رہا۔ خاص طور پر ٹیسٹ میں تو ان کی کارکردگی مایوس کُن تھی۔ اگر اس فارمیٹ میں سچن کے آخری 23 میچوں کا تذکرہ کریں تو انہوں نے صرف 32 کی اوسط سے 1229 رنز بنائے، وہ بھی بغیر کسی سنچری کے۔

لیکن یہاں سب کھلاڑی ہی اتنے بدقسمت نہیں رہے، بلکہ کچھ تو اعلیٰ نصیب والے بھی ثابت ہوئے، جس میں سرِفہرست عمران خان رہے ہیں۔

جتنے واقعات اوپر بیان کیے گئے ہیں ان کو جاننے کے بعد اب آپ خود ہی اندازہ لگالیجیے کہ عمران خان کا آخری میچ کتنا پرفیکٹ تھا؟ گوکہ وہ 1987ء میں ریٹائرمنٹ لے چکے تھے اور بعد میں صدرِ پاکستان ضیاء الحق کے مطالبے پر کرکٹ میں واپس آئے تھے۔ پھر ان کا کیریئر بھی درحقیقت ختم ہی ہوچکا تھا، عمر 40 سال تھی اور ان کے اندر مزید کرکٹ باقی نہیں بچی تھی۔ اس کے باوجود ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ الوداع کرنا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے۔

ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ الوداع کرنا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے
ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ الوداع کرنا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے

یونس خان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، انہوں نے ٹی20 اور ٹیسٹ کرکٹ کو اپنے عروج کے زمانے میں چھوڑا۔ ٹی20 ورلڈ کپ 2009ء کی ٹرافی ہاتھ میں تھام کر انہوں نے اس مختصر ترین فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور جب 2017ء میں ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہا تو تاریخ میں پہلی بار ویسٹ انڈیز میں سیریز میں کامیابی کے ساتھ۔

ویسے دھونی نے ابھی صرف انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی ہے، انڈین پریمیئر لیگ میں وہ جلوہ گر ہوتے رہیں گے۔ نجانے کتنے سال تک؟