'حکومت نے دو سال میں تین ادوار جتنا قرض لیا، لوگ پھر بھی روٹی کو ترس رہے ہیں'

اپ ڈیٹ 24 اگست 2020

ای میل

کابینہ میں موجود لوگ دودھ سے دھلے ہوئے ہیں، ان سے کوئی کچھ نہیں پوچھتا، لیگی صدر — فوٹو: ڈان نیوز
کابینہ میں موجود لوگ دودھ سے دھلے ہوئے ہیں، ان سے کوئی کچھ نہیں پوچھتا، لیگی صدر — فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے نواز شریف کے تین ادوار کا قرضہ ایک طرف اور موجودہ حکومت کے دو سال کا قرضہ ایک طرف ہے لیکن پھر بھی لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔

اسلام آباد میں دیگر لیگی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ تبدیلی سرکاری نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے، دو سال میں مہنگائی نے لوگوں کوتباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے لیکن حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کشکول توڑنے کے دعویدار اور آئی ایم ایف کا مضمون ختم کرنے والے آج کہہ رہے ہیں گھبرانا نہیں ہے، کیا اس طرح لوگوں کے پیٹ بھر جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف ایسا پروپیگنڈا کیا گیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، کون سا ا ین آر او اور کس نے این آر او مانگا ہے سامنے لائیں جبکہ پروپیگنڈا کا مقصد عوامی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کے تین ادوار کا قرضہ ایک طرف اور موجودہ حکومت کے دو سال کا قرضہ ایک طرف ہے، پھر بھی لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، موجودہ حکومت نے سارے نظام کو تباہ و برباد کر دیا اور عوام پرانا پاکستان ڈھونڈ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج چینی کی قیمت 100 روپے سے اوپر چلی گئی ہے، پہلے چینی برآمد کی گئی اور اب درآمد کی جا رہی ہے، روپے کی قدر میں کمی کا فائدہ اٹھایا گیا، کسانوں کو سزا دی گئی اور برآمد کنندگان نے اربوں کا منافع کمایا۔

ان کا کہنا تھا کہ گندم کا سیزن ختم نہیں ہوا لیکن ملک سے گندم اسمگل ہوگئی، وزیر نے پارلیمنٹ میں کہا کہ معلوم نہیں گندم کہاں گئی؟ تیل کی قیمتیں ایک دھچکے میں آسمان پر پہنچادیں، بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا اس کے باوجود گردشی قرضہ پھر بھی قابو میں نہ آیا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ روپے کی قدر میں 40 فیصد کمی کی لیکن برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، ملکی تاریخ میں 1952 کے بعد دوسری بار جی ڈی پی کی ترقی منفی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ غریب کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے باوجود آج بھی حکومتی ارکان کا طریقہ کار اپوزیشن کا ہی ہےاور یہ آج بھی کنٹینرز پر چڑھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سی پیک کا مذاق اڑایا، الزامات لگائے اور تضحیک کی لیکن آج تک ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، یہ اور ان کے حواری الٹے ہوگئے لیکن کچھ نہیں ملا، بتا دیں کسی ایک منصوبے میں ایک دھیلے یا دمڑی کی کرپشن ملی ہو؟

احتساب کے عمل کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ کابینہ میں موجود لوگ دودھ سے دھلے ہوئے ہیں، ان سے کوئی کچھ نہیں پوچھتا، ہم بلاتفریق احتساب کے خلاف نہیں لیکن اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کا تماشہ پوری قوم دیکھ رہی ہے، دیوار سے لگانے کے باوجود ہم نے تعاون کا ہاتھ بڑھایا جسے انہوں نے جھٹک دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی اپنی کابینہ میں اشرافیہ کے لوگ بیٹھے ہیں، نیب نیازی گٹھ جوڑ نے پشاور سے کراچی تک سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کردیا ہے، افسر شاہی کام کرنے کو تیار نہیں، ادویات اسکینڈل میں ملوث وزیر پتہ نہیں کہاں ہیں، یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کا ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق کہنا تھا کہ خارجہ محاذ پر ناکامیاں سامنے ہیں، وزیر خارجہ نے غیر ذمہ دارانہ بیان دے کے سعودی عرب جیسے قریبی دوست کو بھی ناراض کیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے بارے میں جو وزیر خارجہ نے کہا اس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے، سعودی عرب سے تعلقات میں بگاڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی جبکہ چین جیسے دیرینہ دوست کو ناراض کیا گیا۔

کشمیر خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی ہے، خواجہ آصف

سینئر لیگی رہنما خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے خارجہ محاذ پر حکومت کی ناکامیوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنا اور بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام گزشتہ دو سالوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔

خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ 'حکومت نے شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری کی، کشمیری پاکستان کی مدد کی دعائیں مانگ رہے ہیں، یہ انتہائی ناکامی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے متضاد بیانات سے ملائیشیا اور سعودی عرب دونوں کو ناراض کیا، انہوں نے سی پیک کے خلاف بیانات دیے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ لوگ ہمیں دو سال تک بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دوست کہتے رہے اور خود بھارتی جاوسوس کلبھوشن یادیو کے سہولت کار بن گئے۔'