لاک ڈاؤن کے دوران ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 25 فیصد اضافہ

اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن نے ملک میں انٹرنیٹ کی اہمیت بڑھادی — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن نے ملک میں انٹرنیٹ کی اہمیت بڑھادی — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

کورونا وائرس کی وبا کے باعث رواں برس مارچ سے ملک بھر میں نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن سے جہاں کئی طرح کے کاروبار میں نمایاں کمی دیکھی گئی، وہیں حیران کن طور پر انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال سے کمائی میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر میں انفرا اسٹرکچر کی خدمات فراہم کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنی 'اڈوٹکو' کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان بھر میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایڈوکو پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) عارف حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران فون کالز میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

عارف حسین کا کہنا تھا کہ سال 2020 نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کو بہت کچھ سکھادیا اور اب کمپنیاں نئے علاقوں میں سروسز کی بہتر فراہمی کے لیے اقدامات کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والے بدترین ممالک میں شامل

انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں انٹرنیٹ کے استعمال میں مزید اضافے سے ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان مقابلہ سخت ہوگا اور ہر کمپنی کی کوشش ہوگی کہ وہ کم پیسوں میں اچھی انٹرنیٹ سروس فراہم کرے اور ان ساری کوششوں کا فائدہ بالآخر صارفین کو ہی ہونا ہے۔

اڈوٹکو ملک کی چاروں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ انفرا اسٹرکچر اور سروسز کی بہتری کے لیے تیسری پارٹی کے طور پر کام کر چکی ہے اور اب بھی مذکورہ کمپنی کا ٹیلی کام سیکٹر کی بہتری میں کردار اہم ہے۔

ملک میں گزرتے دنوں کے ساتھ انٹرنیٹ کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور دیہات کے لوگ اور مزدروں سمیت گھریلو خواتین بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے لگی ہیں۔

اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کی بہتر کوریج کے لیے 2 سب میرینز کیبلز کام کر رہی ہیں جب کہ تیسری کیبل پر کام جاری ہے جو ممکنہ طور پر آئندہ سال تک کام کا آغاز کردے گی۔

علاوہ ازیں خیال کیا جا رہا ہے کہ چوتھی سب میرینز کیبلز بچھانے کا کام بھی جلد شروع ہوگا اور ساتھ ہی دیگر انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بھی متعدد انفرا اسٹرکچر کے منصوبے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک کی 25 فیصد آبادی جو تقریبا 5 کروڑ تک بنتی ہے، وہ بنیادی ٹیلی فون سروس سے محروم ہے جب کہ حکومت ملک کی تمام آبادی کو ٹیلی فون سمیت انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بھارت سے زیادہ بہتر

اڈوٹکو کے ایم ڈی عارف حسین کے مطابق حالیہ چند سالوں میں انٹرنیٹ کا استعمال امیر طبقے سے نکل کر متوسط اور غریب طبقے تک بھی پہنچ چکا ہے اور اب مزدوروں سمیت گھریلو خواتین بھی انٹرنیٹ پر تفریح کے مواقع تلاش کرتی ہیں۔

عارف حسین کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی جانب سے بھی انٹرنیٹ کے ذریعے کاروبار کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب مزدور طبقہ اور خواتین بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے پیسے خرچ کرنے کو فضول خرچی نہیں سمجھتے۔

انہوں نے ٹیلی کام سیکٹر کمپنیوں کو تجویز دی کہ وہ ٹاورز کی بہترین سمیت دیگر انفرا اسٹرکچر کو بہتر بناکر سروس کو تیز کریں۔

انہوں نے امید ظاہر کی حکومت کی جانب سے 1800 اور 2100 ایم اے زیڈ بینڈ سیکٹرم کی فروخت کے بعد ملک میں تھری جی اور فور جی سروس میں تیزی اور بہتری آئے گی اور ساتھ ہی انٹرنیٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔