جب ’بابو سلمیٰ‘ کشمیر آزاد کرانے چل پڑے

16 ستمبر 2020

ای میل

اصل نام تو نہ جانے ان کا کیا ہے، لیکن ہمارے محلے میں سب انہیں ’بابو، بابو‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ یا پھر انہیں تنگ کرنا مقصود ہو تو ان کے نام کے ساتھ ’سلمیٰ‘ کا لاحقہ بھی جوڑ دیا جاتا ہے، جس سے وہ بہت چڑ جاتے ہیں اور منہ ہی منہ میں نہ جانے کیا کچھ بڑبڑاتے چلے جاتے ہیں۔

ان کے نام کے ساتھ ’سلمیٰ‘ لگانا کبھی یوں بھی ضروری ہوجاتا تھا کہ محلے میں کتنے ہی اور ’بابو‘ موجود تھے، 3 نمبر گلی میں بابو پاپے والے، دوسری لائن میں بابو رکشے والے اور محلے کے بازار کی طرف ’کلّو ہوٹل‘ سے اگلی والی گلی کے نکڑ پر ’بابو کا ہوٹل‘ بھی تو اپنے وقتوں میں کتنی مشہور جگہ رہی ہے۔ اس لیے اگر کوئی فقط ’بابو‘ کہے، تو بات سمجھ میں آتی نہیں، اس لیے ’بابو سلمیٰ‘ کہہ کر ہی تعارف مکمل کرنا پڑ جاتا تھا۔

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ وہ ہمارے محلے کے گئے وقتوں کی آخری کچھ یادگاروں میں سے ہیں۔ جیسے پرانے زمانے میں ماشکی یا سقّے ہوا کرتے تھے، جو گھروں میں پانی ڈالتے تھے، یا گھروں سے میلے کپڑے لے جاکر دھونے والے دھوبی، جو اپنی گدھا گاڑی پر ہفتے کے کسی مخصوص دن ہمارے محلے میں آتے اور اپنے لگے بندھے گھروں میں پچھلے ہفتے لے جائے گئے کپڑے دے جاتے اور ساتھ ہی میلے کپڑوں کی پوٹلی بھی اٹھا لے جاتے، پھر ایک جگہ یہ سارے میلے کپڑے ڈھیر کرتے ان پر گھروں کے حساب سے مخصوص نشانیاں لگاتے اور پھر اپنے دھوبی گھاٹ لے جاتے۔ اسی طرح ایک کردار ’قلعی گر‘ بھی ہوتا تھا، جو گلی گلی آواز لگا کر گھروں سے جلے ہوئے یا چولھے پر کالے پڑ جانے والے پتیلے، پتیلیاں اور دیگچے وغیرہ لے جاتے اور پھر انہیں اپنی بھٹی میں سلگا کر ان پر قلعی کرتے اور ایک دم چمکا کر پھر لوٹا جاتے۔

مزید پڑھیے: کراچی جو اِک شہر تھا

تو ہمارے محلے کے یہ ’بابو‘ نہ تو ماشکی ہیں اور نہ دھوبی اور نہ ہی قلعی گر، بلکہ یہ روزانہ صبح گھروں سے دکان جانے والوں کے ’کھانے‘ پہنچانے والے ہیں۔ ’ہیں‘ اس لیے کہ کسی نہ کسی طرح یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

پہلے ہوتا یہ تھا کہ لوگ صبح اپنی نوکریوں اور دکانوں پر جاتے تو ان کے دوپہر کے کھانے کا بندوبست صبح نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس کے لیے دکانوں پر کھانا لے جانے والے باقاعدہ کچھ لوگ ہوتے تھے، جو دوپہر کے وقت گھر گھر جاکر یہ ’روٹی دان‘ اٹھاتے اور انہیں گھر کے مردوں کے جائے روزگار پر دے آتے۔

یہ ایک خاصے کی چیز ہوتی کہ پچاسیوں ’روٹی دان‘ ہیں، اب کون سا کھانا کس دکان پر دینا ہے، یہ دھیان رکھنا اپنے میں ہی ایک دلچسپ چیز ہے، لیکن شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا کہ کبھی کسی کا کھانا کسی اور کو چلا گیا ہو، یہی نہیں پھر شام کو ہر دکان سے یہ خالی ’روٹی دان‘ واپس گھروں میں بھی دینا ہوتا تھا۔ اور یہ تمام کام کرنے والوں کو معقول پیسے دیے جاتے۔ شروع شروع میں اس کام کے لیے بھی گدھا گاڑی ہوتی تھی، جب کہ کوئی چھوٹی پونجی والا اپنی سائیکل پر بھی یہ کارِ مشقت انجام دیتا۔

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ’بابو‘ کو رکشے میں محلے کے یہ سارے ’روٹی دان‘ لے کر شہر کی طرف جاتے دیکھا۔ ویسے تو اور بھی چند ایک ’کھانے والے‘ ہوتے تھے، لیکن ہمارے گھر کی گلیوں میں سرِ دوپہر ’بابو‘ ہی دوڑتے بھاگتے دکھائی دیتے۔ جوں جوں دن چڑھتا اور سورج سر پر آتا، بس یوں سمجھیے ’بابو‘ کے کام کا وقت شروع ہوجاتا۔

پرانے محلے میں ہمارا گھر گلی نمبر 6 میں تھا اور ہمارے گھر کے باجو سے ایک بڑا سا سیدھا راستہ مغرب کی طرف پچھلی گلیوں کو نکلتا تھا۔ ہم اسکول اور مدرسے سے آتے جاتے یہاں دیکھتے تھے کہ ’بابو‘ دونوں ہاتھوں میں پانچ، پانچ چھے، چھے ’ٹفن‘ اٹھائے، کڑی دھوپ میں ننگے پاؤں دھپ دھپ زمین پر پیر مارتے ہوئے دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ بہت سے سالن برتن ٹیڑھے ہونے کے سبب باہر بھی بہہ آئے ہیں۔ بابو کے لیے ’ارے آج ٹفن سیدھا رکھیو، ہنڈیا بھنی ہوئی نہیں ہے!‘ کی ہدایت کا کوئی حل تھا ہی نہیں۔

خود سوچیے اگر وہ اتنے اہتمام سے ایک ایک ٹفن لے کر جائیں تو کتنا وقت لگ جائے؟ اس لیے ان کی بھی اپنی ’مجبوری‘ تھی۔ پھر وہ سارے کھانے لے جاکر ’تیسری لائن‘ میں اپنی مخصوص جگہ پر ڈھیر کردیتے اور جب سارے ’کھانے‘ جمع ہوجاتے، تو کوئی ڈیڑھ، دو بجے کے بعد یہ بازار کا رخ کرتے اور اپنی روزی روٹی میں مصروف لوگ کھانا کھاتے۔

دکانوں پر موجود افراد کے لیے ’بابو‘ بھوک دُور کرنے کا استعارہ تھا، اسے دیر سویر ہوتی، تو لوگ اس کی راہ دیکھتے کہ کب ’بابو‘ آئے اور وہ کھانا کھائیں۔

مزید پڑھیے: جب گائے کا رسی چھڑا لینا ہی بہت بڑی 'تفریح' ہوتا تھا

کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ ’بابو‘ تیسری لائن میں جب ’کھانے‘ رکھ کر مزید گھروں سے کھانے لینے پلٹتے، تو ادھر کے کچھ شرارتی لڑکے ان روٹی دانوں کو کھول کھول کر دیکھتے اور کوئی پسند کا کھانا پاتے، تو شرارت میں اس پر ہاتھ صاف کردیتے۔ جتنی دیر میں ’بابو‘ واپس آتے، اتنی دیر میں وہ کھانے چٹ کرکے برتن دوبارہ اسی طرح باندھ کر رکھ چکے ہوتے تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہ واردات تو تب کھلتی، جب وہ کھانا متعلقہ دکان پر پہنچتا اور کھانے کے لیے برتن کھلتا، تو خالی برتن منہ چڑا رہا ہوتا اور تب گھر والے ’بابو‘ پر اور پھر ’بابو‘ ان لڑکوں پر آکر غصہ نکالتا۔ بس پھر بات آئی گئی ہوجاتی۔

یہ تو ان ’اچھے وقتوں‘ کی بات ہے، جب کھانے کو تادیر گرم رکھنے والے ’ٹفن‘ دریافت نہیں ہوئے تھے اور نہ دکان یا دفتر جاتے ہوئے ساتھ میں کھانا لے جانے کا رواج تھا، مگر اب وقت بدل گیا ہے، لوگ اب بھی دکان اور دفاتر وغیرہ تو جاتے ہیں لیکن اکثریت اپنا کھانا ساتھ لے کر جاتی ہے یا پھر وہیں سے اپنے کھانے کا بندوبست کرلیتی ہے۔ پہلے کی طرح بعد میں گھر سے کھانا پہنچانے کا رواج تقریباً دم توڑ چکا ہے اور وہ ’بابو‘ جو دوپہر کے وقت محلے کے ’شہنشاہ‘ بنے پھرتے تھے، کہ وہ جب چاہیں دوپہر ساڑھے 12 بجے کھانا لینے آئیں یا ایک بجے، بس اگر انہیں گھر کی ڈیوڑھی پر کھانا تیار نہ ملا تو ’ڈیڑھ مغزے‘ بابو کا گویا میٹر شارٹ ہوجاتا اور وہ لگتے خوب بڑبڑانے، جس کا مرکزی خیال برہمی کے ساتھ یہ دھمکی بھی ہوتا کہ اب وہ کھانا لینے دوبارہ نہیں آئیں گے، لیکن اکثر شاید بھول جاتے تھے یا پھر ایسا کہنا ان کی عادت تھی۔ پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ وہ گھر کے دروازے پر آموجود ہوتے۔

لیکن کبھی تو واقعی وہ اپنے قول کا پورا پاس رکھتے اور کھانا لینے نہ آتے، کچھ دیر تو اس کا انتظار ہوتا اس امید پر کہ شاید ابھی آجو باجو کے گھروں سے کھانا لینے آئیں گے تو اپنے کواڑ کی اوٹ سے ’بابو‘ کو آواز دے کر بلا لیں گے، لیکن جب گلی کے سارے گھروں کا ہی کھانا لے جا چکتے، تو پھر چاروناچار گھریلو خواتین کو ہی برقع سر پر رکھ کر گلی نمبر 3 میں اس کے ’اڈے‘ پر جاکر کھانا رکھ کر آنا پڑتا تھا۔ بہرحال پھر وہ کھانا ضرور منزل پر پہنچا دیتا تھا، ان کے خیال میں کھانا باندھنے میں دیر کرنے والوں کو بس اتنی ’سزا‘ ہی کافی تھی کہ انہیں کھانا خود لاکر رکھنا پڑا۔

’بابو‘ کو کھانا بروقت نہ دینے والی خواتین خانہ کے بھی تو اپنے عذر ہوتے کہ ایک ذرا چاول کی کنی رہ گئی ہے، ابھی ہنڈیا دَم پر نہیں آئی، ابھی تو گوشت ہی نہیں گلا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ’بابو‘ ایسے کسی جواز کو کبھی خاطر میں نہیں لائے، وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ جب وہ کسی گھر کا کواڑ بجائیں، تو انہیں کھانا بالکل تیار ملے، اب کھانا پکا ہوا ہو یا کچھ کسر رہ گئی ہو، یہ ان کا ’دردِ سر‘ ہے ہی نہیں۔

دوسری طرف کھانے دینے والی خواتین خانہ کو شکایت ہوتی کہ جس دن کھانا بروقت باندھ دیں، ’بابو‘ کا دیر تک پتا نہیں ہوتا، اور جس دن کھانے میں کوئی دیری ہوجائے، بابو خدائی فوج دار کی طرح وقت سے پہلے ہی آدھمکتا ہے۔ وہ اکثر اسے تجویز دیتیں کہ وہ کچھ دیر پہلے آکر دروازہ کھٹکھٹا جایا کرے، یہ بتانے کو کہ اب وہ بس آنے ہی والا ہے، لیکن ’بابو‘ نے کبھی اس تجویز کو درخور اعتنا نہیں جانا۔

دبتا ہوا قد، ہلکی سی مونچھیں، تیوریوں پر بے شمار بل ڈالے، ہر وقت بولائے بولائے رہنے والے بھاگتے دوڑتے ’بابو‘ کھانے کے ٹفن اٹھائے دوڑتے ہوئے بھی راہ راستے میں آوازیں کسنے والوں سے نبرد آزما رہتے، محلے کے چھوٹے شرارتی بچے اسے آتے جاتے دیکھتے، تو ضرور چھیڑ خانی کرنے کو ایک دو آوازیں لگا کر بھاگ لیتے:

’بابو سلمیٰ!‘

’ارے او، سلمیٰ کی کیسٹ!‘

’بابو! سلمیٰ بلا رہی ہے!‘

ان کے کان میں یہ آواز پڑتی تو منہ ہی منہ میں اور کبھی بہ آواز بلند اپنے مخصوص لہجے میں نہ جانے وہ کیا کیا بولتے ہوئے اپنے کھانے لیے دوڑتے چلے جاتے تھے اور چھیڑنے والوں کا ’مقصد‘ پورا ہوجاتا۔ وہ ان کے غصے سے لطف اٹھاتے ہوئے اپنا راستہ لیتے تھے۔

مزید پڑھیے: ’مجھے کراچی کی وہ سہانی بارشیں بہت یاد آتی ہیں‘

ان کے نام کے ساتھ ’سلمیٰ‘ کے نام کا قصہ کچھ یوں تھا کہ کسی وقت میں انہیں ’سلمیٰ‘ نام کی کوئی اداکارہ دل کو بھا گئی تھی اور وہ بار بار اس کی فلمیں دیکھنے جاتے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ جو ’بابو‘ آج مجنوں کی طرح بال بکھرائے، کھوئے کھوئے اور اپنے آپ میں مست پھرتے ہیں، اس میں بہت زیادہ دوش اس ’سلمیٰ‘ کے ہجر کا بھی ہے، جس پر وہ اپنا دل ہار بیٹھے تھے۔

وقت بدل گیا، ’بابو‘ اب بھی محلے کے گھروں سے کھانا بولٹن مارکیٹ اور دیگر ملحقہ بازاروں میں لے جاتے ہیں، لیکن اب پرانے لوگ نہیں رہے۔ کچھ دنیا سے اٹھ گئے، تو بہت سوں نے اپنے آبائی محلے کو خیرباد کہہ دیا۔ اب کچھ ہی گھروں سے ان کا واسطہ رہ گیا ہے، ان میں سے بھی بیشتر وہ وضع دار اور پرانے رکھ رکھاؤ والے ہیں، جو اپنی سہولت سے زیادہ ’بابو‘ کی ضرورت کی خاطر لگائے ہوئے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ برسوں سے روزانہ دوپہر کو ایک آس میں ان کا در کھٹکھٹانے والے ’بابو‘ کو یہ کہہ دیا جائے کہ اب ان کی ضرورت نہیں!

’بابو‘ اب روزانہ صبح محلے کے مرکزی راستے پر ڈولتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ 10، 11 بجے جب سب لوگ اپنے کاموں کے لیے روانہ ہو رہے ہوتے ہیں، ’بابو‘ ان سے ’سلام علیک‘ کرتے جاتے ہیں، یعنی کچھ نہ کچھ اس ’مصافحے‘ میں وصول کرتے جاتے ہیں اور بہت خوش ہوجاتے ہیں کہ ان کی ’خودداری‘ کا بھرم رہ گیا۔ کیونکہ وہ کبھی کسی کے آگے دست دراز نہیں کرتے، پورے محلے میں ان کی اپنی بندھی ہوئی گنی چنی شخصیات ہیں، جنہیں دیکھتے ہی ’سلام‘ کرنے پہنچ جاتے ہیں اور وہ بندہ بھی سمجھ جاتا ہے کہ ’بابو‘ آگئے ہیں اور اب گویا سو، پچاس روپے کا ’چالان‘ تو بھرنا ہی بھرنا ہے۔

کبھی کوئی بہت دنوں بعد دکھائی دے، تو ’بابو‘ اس پر بگڑتے ہیں کہ اتنے دنوں بعد ملے ہو، لیکن منہ سے کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ اب 100 کے بجائے 200 روپے دو، اور نہ اس کام کے لیے کبھی کسی کے گھر جائیں گے۔

حلیہ وہی بڑھے ہوئے بکھرے بال اور چہرے پر جھریاں، وہ تو پہلے بھی کم نہ تھیں، برسوں کے کچھ اور ’پھیر‘ نے انہیں بھی بدل دیا ہے، اگرچہ بالوں میں خضاب لگاکر وہ لگ بھگ پہلے جیسے ہی معلوم ہوتے ہیں، لیکن بغور دیکھیے تو چہرے پر زمانے کی گرد پڑی ہوئی صاف محسوس ہوتی ہے۔

کوئی سال بھر پہلے کی بات ہوگی کہ ایک دن سارے محلے میں ڈھونڈ مچ گئی کہ ’بابو‘ لاپتا ہوگئے ہیں! ارے، بابو کہاں چلا گیا؟ ہر زبان یہی سوال کرتی نظر آرہی تھی۔ وہ جا بھی کہاں سکتے ہیں، سڑک کے پار والے محلے میں تو گھر ہے اور اس کے سوا ان کا کون ہے کہ جس کے پاس وہ ایسے گئے ہوں کہ کوئی خبر ہی نہ ہو؟ پرانے محلے داروں میں جس نے بھی سنا تشویش میں مبتلا ہوگیا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ بہرحال، پھر وہ کوئی 15، 20 دن بعد نمودار ہوگئے، معلوم چلا کہ بابو ’کشمیر‘ کی طرف نکل گئے تھے!

ارے کیوں؟

وہ یوں کہ ہندوستان کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں کسی مسجد وغیرہ میں بابو نے یہ سن لیا ہوگا کہ ہمیں مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنا چاہیے، ہندوستان سے لڑ کر انہیں آزاد کرانا چاہیے، بس سیدھے سادے ’بابو‘ کے جی میں نہ جانے کیا آئی کہ وہ اس نیک کام کو کرنے خود ہی نکل پڑے۔ وہ تو بھلا ہو کہ کسی طرح انہیں واپسی کا راستہ مل گیا اور وہ بخیریت لوٹ آئے، اب انہیں کون سمجھائے یہ موئی سیاست کیا ہوتی ہے اور کرنے کی باتیں اور کہنے کی باتوں میں کتنا فرق ہوتا ہے!