وزیر اعظم سے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر پر تحفظات، پی سی بی مصباح اور اظہر پر برہم

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2020

ای میل

پی سی بی چیئرمین نے آئندہ ہفتے مصباح اور اظہر کو ملاقات کے لیے طلب کیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
پی سی بی چیئرمین نے آئندہ ہفتے مصباح اور اظہر کو ملاقات کے لیے طلب کیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بورڈ حکام کو اعتماد میں لیے بغیر نئے ڈومیسٹک نظام پر وزیر اعظم عران خان سے تحفظات کا اظہار کرنے پر کوچ مصباح الحق اور ٹیسٹ کپتان اظہر علی سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

مصباح الحق، اظہر علی اور محمد حفیظ نے چند دن قبل وزیر اعظم اور پی سی بی کے پیٹرن ان چیف عمران خان سے ملاقات کی تھی جس میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ کے نئے نظام سے پاکستانی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی، وزیراعظم

ان تینوں کرکٹرز نے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نئے نظام سے کئی کھلاڑی بے روزگار ہو گئے ہیں لہٰذا اس کا سدباب کیا جائے۔

گزشتہ سال متعارف کرائے نئے ڈومیسٹک ڈھانچے میں صرف 6 ریجنل ٹیموں کو رکھا گیا تھا جس کے نتیجے میں ڈپارٹمنٹ کرکٹ ختم ہو گئی اور درجنوں کھلاڑی بے روزگار ہو گئے۔

کرک انفو کے مطابق ملاقات کے دوران نئے ڈومیسٹک نظام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنے پر پی سی بی چیئرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان ٹیم کے کوچ و سلیکٹر مصباح الحق اور ٹیسٹ کپتان اظہر علی سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر ان دونوں حکام کو اعتماد میں لیے بغیر ہی اپنے تحفظات براہ راست وزیر اعظم کو نقل کیے۔

ان تمام افراد کی وزیر اعظم سے ملاقات میں شریک ایک فرد نے بتایا کہ کھلاڑی جانتے تھے کہ پرانے اسٹرکچر کو وزیر اعظم کی خواہش پر تبدیل کیا گیا، پی سی بی نے اس پر عمل کیا اور پھر کھلاڑیوں نے سوچا کہ یہ بہتر ہو گا کہ براہ راست وزیر اعظم سے ہی اس معاملے پر بات کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کے نئے ڈومیسٹک سیزن میں کرکٹرز پر پیسوں کی بارش

اس نئے نظام کے آنے کے بعد ڈومیسٹک کھلاڑیوں کا پول 300 سے کم ہو کر 192 کھلاڑیوں تک محدود ہو گیا اور اس سے بورڈ پر بھی مالی دباؤ بڑھا کیونکہ ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو بورڈ ماہانہ تنخواہ دیتا ہے جبکہ ماضی میں زیادہ تر بوجھ محکمے اٹھاتے تھے۔

چیئرمین پی سی بی نے اس خلاف ورزی پر مصباح الحق اور اظہر علی کو آئندہ ہفتے ملاقات کے لیے طلب کر لیا اور محمد حفیظ کو چونکہ سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا گیا تھا اس لیے انہیں طلب نہیں کیا گیا۔

کوچ اور کپتان کے خلاف کسی باضابطہ کارروائی کا امکان نہیں البتہ انہیں یہ باور کرایا جائے گا کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نے پرانے ڈومیسٹک نظام کی بحالی کی مصباح، اظہر اور حفیظ کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

مزید پڑھیں: پی سی بی نے 3سال کیلئے نشریاتی حقوق پی ٹی وی کو دے دیے

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ٹیلنٹ اوپر نہیں آپاتا تھا، ہمارے ملک میں اس طرح کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ میں ہیں جو دنیا میں کبھی بھی کلب سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے، جو اس کی نشاندہی کرتا تھا کہ ملک میں ٹیلنٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لیے میں ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر ہم اپنا کرکٹ کا ڈھانچہ درست کرلیں تو پاکستان ناقابل شکست ہوجائے گا تاہم بدقسمتی سے کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے اس نظام کو تبدیل نہیں ہونے دیتے تھے، پاکستان کا کرکٹ کا نظام دیگر ممالک سے بالکل مختلف تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب جو ڈومیسٹک کرکٹ کا نیا نظام آیا ہے اس میں آپ دیکھیں گے کہ جب پاکستان کا ٹیلنٹ پالش ہوگا تو پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی۔