ٹرمپ کورونا کا شکار ہوئے تو پوری دنیا نے خوشی کا اظہار کیوں کیا؟

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2020

ای میل

اگر تاریخ انسانیت کا جائزہ لیا جائے تو شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ کسی ایک فرد کی بیماری پوری دنیا میں خوشی کا باعث بن گئی ہو، اور اس کے چرچے سوشل میڈیا پر بھی ہونے لگے ہوں۔

میں جانتا ہوں کہ دوسروں کو پہنچنے والی تکلیف پر خوش ہونا کوئی اچھا عمل ہرگز نہیں ہے۔ لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا معاملہ الگ ہے، وہ اس کے جتنے مستحق ہیں اتنا کوئی دوسرا شخص نہیں۔ کچھ لوگ بظاہر ان سے ہمدردی دکھانے کی کوشش ضرور کررہے ہیں لیکن اندر ہی اندر وہ خوش ہیں کہ ٹرمپ کورونا کا شکار ہوگئے۔ ایک ایسا وائرس جس نے امریکا میں لگ بھگ 2 لاکھ 15 ہزار کے قریب افراد کی جان لے لی جبکہ 70 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہیں۔

دیگر عالمی رہنماؤں کی نسبت یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے اپنے لوگوں کو ماسک کو اہمیت نہ دینے کی تاکید کی اور وبا کو نظر انداز کیا۔ ٹرمپ کے حمایتیوں میں شامل کم تعلیم یافتہ لوگوں نے ان کی بات پر عمل کیا اور وہ اس جان لیوا وائرس کے شکار ہوگئے۔ اور یہ بھی ٹرمپ ہی تھے جو اس دوران انتہائی غیر سنجیدہ مشورے بھی دیتے رہے جیسے وائرس سے بچنے کے لیے رگوں میں بلیچ کے انجیکشن لگوا لیے جائیں۔ یہ سارے معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ حقیقت سے کتنے دُور ہیں۔

چنانچے جب انہوں نے بغیر ماسک پہنے میٹنگز میں شرکت کی اور اپنے مخالف امیدوار جو بائیڈن کے ساتھ صدارتی مباحثے میں حصہ لیا تو ڈاکٹر حیرت زدہ رہ گئے۔ یہی نہیں بلکہ ٹرمپ کے ساتھ آنے والے وفد نے بھی حفاظتی سامان کے استعمال اور ماسک پہننے سے انکار کردیا۔ اس کا نتیجہ غیر محفوظ ملاقاتوں کی صورت نکلا اور یوں ان کے اسٹاف کے تقریباً درجن سے زائد افراد، اہل خانہ سینیٹرز اب اس وبا سے متاثر ہیں۔

مزید پڑھیے: امریکی انتخابات میں ’اکتوبر سرپرائز‘ کا کھیل جانتے ہیں؟

قومی رائے شماری کے مطابق 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ہونا متوقع ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ سخت مقابلہ کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ اشارے دے دیے ہیں کہ اگر وہ انتخابات میں فاتح نہیں ہوتے تو وہ اس کے نتائج قبول نہیں کریں گے۔ ان کے اس عمل سے اشتعال انگیزی برپا ہوسکتی ہے، جبکہ عوامی اجتماعات میں ان کے حمایتی ہتھیاروں کی نمائش کرچکے ہیں۔

اخلاقی قیادت اور جمہوری رویوں سے متعلق امریکا کے جو بڑے بڑے دعوے ہیں، ٹرمپ نے اس پورے عرصے میں ان دعوؤں کا بالکل بھی پاس نہیں رکھا۔ ایسی صورت میں کوئی بھی امریکی لیڈر یا سفارتکار دنیا کو انسانی حقوق اور آزادی سے متعلق کس طرح کوئی لیکچر دے سکتا ہے؟

اور نہ ہی کسی ایسی ریاست کی جانب سے دیگر ممالک میں کوئی جنگ چھیڑی جاسکتی ہے جس نے اپنے ملک میں ہونے والے نسلی تعصب پر خاموشی اختیار کر رکھی ہو۔ پھر آپ دیگر ممالک کو اقلیتوں کے ساتھ بُرا رویہ رکھنے پر کس طرح تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں جب آپ کی اپنی پولیس روزانہ کی بنیاد پر سیاح فاموں کو قتل کررہی ہو اور اسے کوئی سزا بھی نہ دی جارہی ہو۔

4 سال سے بھی کم عرصے میں ٹرمپ نے اپنے ملک کی شناخت کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے جتنا ماضی میں کوئی صدر نہیں پہنچا سکا۔ بات یہاں نہیں رکتی بلکہ اپنے عمل اور زبان کی وجہ سے انہوں نے وائٹ ہاؤس کو اسکینڈل اور اقرباپروری کی علامت بنادیا ہے۔

اپنی حکومت پر شدید تنقید کرنے کی پاداش میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے مشہور چینی فنکار آئی وے وے نے چینی عوام سے اس وقت ناراضی کا اظہار کیا جب انہوں نے ٹرمپ کی مشکل گھڑی پر خوشی کا اظہار کیا۔ لیکن کیا یہ ناراضی بنتی بھی ہے؟ کیونکہ یہ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے چین کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے تجارتی جنگ کا آغاز کیا اور اسے کورونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا۔ ایسی صورت میں چینی عوام کو بالکل اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ اس موجودہ صورتحال میں اطمینان اور خوشی کا اظہار کریں۔

ٹرمپ کو ملک میں موجود طاقتور سرمایہ داروں کا ساتھی سمجھا جاتا ہے جنہوں نے دوسروں کا حق مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے بڑے بڑے لوگوں کو ٹیکس میں چھوٹ دی اور انہیں فائدہ پہنچایا۔

پوری دنیا اور خصوصاً امریکا میں معاشی ناانصافی کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی وجہ سے انقلاب کے بڑھتے خوف سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اس صورتحال سے بچنے کے لیے یہی بہتر سمجھا گیا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے جتنے بھی منفی اثرات ہیں ان سب کا ذمہ دار اس ایک منتخب احمق کو قرار دے دیا جائے۔ لیکن یہاں ہمیں یہ بات سمجھ جانی چاہیے کہ جن افراد نے 2016ء میں ٹرمپ پر پانی کی طرح پیسہ لگایا تھا، وہ اب پیچھے ہوگئے ہیں، کیونکہ وہ ہار کو جانچنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

یہاں غور و فکر کرنے کے لیے چند اہم مکتب موجود ہیں جن میں فریڈرک اینگلز اور کارل مارکس شامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تاریخ کبھی بھی افراد سے نہیں بنتی بلکہ اس میں اہم ترین پہلو سماجی و معاشی عوامل ہوتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے ان کی یہ بات بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے کہ ’یہ جو مادی دنیا ہے درحقیقت یہ ہمارے نظریے کا تعین کرتی ہے، نہ کہ ہمارے نظریے اس مادی دنیا کے لیے کوئی راہ ہموار کرتے ہیں‘۔

یہ سچ ہے کہ تاریخ کو مٹانے کے لیے دولت پرستی سے زیادہ اسٹالن، ہٹلر اور ماؤ جیسوں نے گزشتہ صدی میں تیزی سے کام کیا۔ پیغمبروں نے ماضی کی جن حقیقتوں کا انکشاف کیا ہے وہ آج بھی دونوں صورتوں میں اپنی جگہ موجود ہیں، یعنی اچھے اور بُرے دونوں صورتوں میں۔

تو شاید ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ بغیر سوچے سمھجھے سرمایہ دارانہ نظام کی ان دوغلی پالیسیوں کو سامنے لے آئے جو پہلے چھپی ہوئی تھیں۔ بہرحال ہم بہت جلد یہ دیکھیں گے کہ کیا امریکی عوام کی اکثریت اس سوچ اور معاشی پالیسی کی حمایت کرتی ہے جس کے مطابق غرباء کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے ان مالداروں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں، جن کے پاس پہلے ہی بہت کچھ ہے۔ یا پھر ان کا یہ خواب بھیانک صورت اختیار کرے گا؟

دوسری جانب عالمگیریت کی وجہ سے ترقی پزیر ممالک کے لاکھوں، کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے اوپر آگئے۔ بس یہی وہ عالمگیریت ہے، جس کی مخالفت ٹرمپ شدت سے کررہے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے کمزور چینی معیشت کو مضبوطی حاصل ہوئی۔ اس سے چین کو اربوں کا فائدہ ہوا اور اب وہ امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا کو چیلنج کررہا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو پریشانی سے دوچار کردیا ہے۔

مگر ٹرمپ نے شدید پابندیاں عائد کرکے تجارتی اور سائنسی تنازعات کو زیادہ ہی بڑھاوا دے دیا ہے۔ درحقیقت یہ سب اس چینی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ امریکا کے سامنے جھکے نہیں۔

علاوہ ازیں ٹرمپ کو ایک اور شکست کا سامنا ہونے جارہا ہے، لیکن شاید ہی یہ شکست امریکی معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو کم کرنے کا باعث بنے۔


یہ مضمون 10 اکتوبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔