جولین اسانج بمقابلہ امریکی حکومت: کون کس پر حاوی رہے گا؟

15 اکتوبر 2020

ای میل

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی حوالگی سے متعلق چلنے والے مقدمے کا موازنہ اسٹالن کے دور میں روس میں ہونے والے شو ٹرائل سے کیا جارہا ہے۔ اگرچہ عدالتی کارروائی پریشان کن ہے مگر اسے شو ٹرائل سے جوڑنا واضح طور پر مبالغہ آرائی ہے۔

سماجی فاصلوں کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اس کیس کی سماعتیں رواں ماہ کے آغاز میں اختتام پذیر ہوچکی ہیں۔ اسانج اور امریکی حکومت کے وکلا کو اگلے کچھ ہفتوں میں تحریری طور پر حتمی دلائل دینا ہوں گے جس کے بعد 4 جنوری کو مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ فیصلہ جو بھی ہو، یہ بات تو طے ہے اس کے خلاف اپیل ضرور ہوگی۔

یہ مقدمہ نہ صرف دنیا بھر میں موجود صحافیوں بلکہ ہر اس فرد کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے جو ان حالات اور واقعات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جن پر حکومتیں پردہ ڈال دیتی ہیں۔

وکی لیکس کی تہلکہ خیز اور اہم ترین معلومات کوئی ایک دہائی قبل لیک ہوئی تھیں جن میں اہم ترین حصہ امریکی فوج اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دستاویزات پر مبنی تھا۔ یہ دستاویزات عراق میں امریکی فوجیوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک جونیئر انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسی میننگ نے فراہم کی تھیں، جنہیں اس وقت بریڈلی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حکومت نے چیلسی کو تلاش کرکے ان کے ساتھ بُرا برتاؤ کیا اور قید میں ڈال دیا۔ بعد میں بارک اوباما نے انہیں معافی دے دی۔

لیکن انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اس وقت ایک بار پھر قید کرلیا گیا تھا جب انہوں نے جولین اسانج کے خلاف گواہی دینے سے انکار کردیا تھا، اور اب ان کی رہائی گزشتہ مارچ کے مہینے میں ہوئی ہے۔

جولین اسانج پر ابتدائی الزام یہ تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کے ایک کمپیوٹر کو ہیک کرنے کی کوشش کی جس کا پاس ورڈ چیلسی میننگ نے فراہم کیا تھا۔ تاہم یہ الزام کارگر ثابت نہیں ہوا اور اس پورے معاملے کا میننگ کی طرف سے لیک کی گئی خبر سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔

اسانج پر ایک حالیہ الزام یہ لگایا گیا کہ انہوں نے میننگ کی شناخت چھپانے میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ الزام بھی کارگر نہ رہا کیونکہ یہ ایک صحافی کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے ذرائع کی شناخت کو پوشیدہ رکھے۔ 20ویں صدی میں خبریں فراہم کرنے سے متعلق اہم ترین نام، ڈِیپ ٹھروٹ کی شناخت کئی دہائیوں تک پوشیدہ رہی تھی۔

اسانج پر لگائے جانے والے مضحکہ خیز الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ سازش کرکے میننگ یا دوسرے ذرائع سے معلومات حاصل کرتے رہے، حالانکہ یہ تفتیشی صحافت کا بنیادی عنصر ہے۔

امریکی حکام اسانج کو خاموش کرنے اور وکی لیکس کو بند کرنے کے خواہاں تھے۔ وکی لیکس نے متعدد ممتاز اخبارات کے ساتھ شراکت داری کی، جن میں یہ اخبار بھی شامل تھا، تاکہ حاصل کیے گئے دستاویزات کی چھان پھٹک کی جاسکے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سے کچھ اخبارات کے ساتھ اس کی شراکت داری کمزور ہوتی گئی۔ گارجین اور نیو یارک ٹائمز اسانج کو امریکا حوالگی کی مخالفت تو کرتے ہیں لیکن وہ اسانج کی مکمل حمایت سے ہچکچا رہے ہیں۔

سوئیڈن کی طرف سے لگنے والے زیادتی کے الزامات، اگرچہ باضابطہ طور پر عائد نہیں کیے گئے، لیکن اس کے باوجود اسانج کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس وقت تفتیش کے لیے سوئیڈن حوالگی کے خلاف اسانج کی ہچکچاہٹ پر بھی اخلاقی اعتبار سے سوال اٹھائے جارہے تھے اور اس دلیل کو بھی کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی تھی کہ انہیں امریکا حوالگی کے خطرے کا سامنا ہے۔ اگر اس وقت کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ خطرات درست بھی تھے۔ اس وقت کئی قد آور امریکی شخصیات یہ کہہ رہی تھیں کہ آخر اسانج کو قتل کیوں نہیں کروایا جاسکتا؟

ان شخصیات میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل تھے۔ لیکن کچھ سالوں بعد ان کے خیالات تبدیل ہوگئے۔ بلکہ جب وکی لیکس کی جانب سے 2016ء میں ٹرمپ کی مخالف صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (ڈی این سی) کی ای میل منظرِ عام پر لائی گئیں، تو ٹرمپ نے کھل کر کہا کہ ’مجھے وکی لیکس پسند ہے‘۔ یاد رہے کہ ان ای میل کے سامنے آنے سے ہلیری کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور وکی لیکس کے درمیان روابط کے ثبوتوں نے بائیں بازو کے لبرل طبقے کو اسانج سے مزید دُور کردیا۔

لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ اوباما انتظامیہ نے تو اسانج کے خلاف کوئی باضابطہ کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اسانج کے خلاف بہت تیزی سے کارروائی کی۔ مبیّنہ طور پر یہ کارروائی تب شروع کی گئی جب اسانج نے معافی ملنے کے عوض ڈی این سی لیک کے ذرائع بتانے سے انکار کردیا تھا۔ (امریکی انٹیلی جنس تو اس میں روس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتی ہے لیکن ٹرمپ کی ٹیم کے لیے یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے)۔

بہرحال، اسانج پر چلنے والا مقدمہ نہ ہی ان کے سیاسی اقدامات پر ہے اور نہ ہی ان کے کردار کے حوالے سے، بلکہ ان پر جو فردِ جرم عائد ہے وہ تلخ سچائیوں کو سامنے لانے کے حوالے سے ہے۔ کوئی بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اسانج کو امریکا میں منصفانہ مقدمے کا موقع دیا جائے گا یا انہیں 175 سال سے کم قید کی سزا سنائی جائے گی، جو اسانج کے لیے عمر قید ثابت ہوگی۔

اسانج کا دفاع کرنے والوں کی فہرست میں جان پلگر سے لے کر ایکواڈور اور برازیل کے سابق صدور بھی شامل ہیں۔ ان افراد میں ڈینیل ایلسبرگ بھی موجود ہیں جن کا پینٹاگون پیپرز لیک کرنے میں بنیادی کردار تھا۔ اس لیک کی وجہ سے ہی ویتنام جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ تقریباً 50 سال قبل امریکی حکام نے ڈینیل کو دنیا کا خطرناک ترین شخص کہا تھا۔ اب اس کی جگہ اسانج نے لے لی ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ اسانج کے دفاع میں تذبذب کا شکار ہیں۔ لیکن وہاں کے کئی بڑے صحافی جن میں اسانج کو ناپسند کرنے والے صحافی بھی موجود ہیں، وہ اس بات سے باخبر ہیں کہ اسانج کے مقدمے کا متوقع فیصلہ صحافت پر کس طرح اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس سے محفوظ رہنے کا بہترین حل یہ ہے کہ اسانج کو کسی ایسے ملک کے حوالے نہ کیا جائے جس کا سربراہ روزانہ ہی پریس کو ریاست کا دشمن قرار دیتا ہو۔