نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: سدرن پنجاب نے سیمی فائنل میں جگہ بنالی

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2020

ای میل

صہیب مقصود نے 29 گیندوں پر 81 رنز کی اننگز کھیلی—فوٹو:پی سی بی
صہیب مقصود نے 29 گیندوں پر 81 رنز کی اننگز کھیلی—فوٹو:پی سی بی
حارث رووف نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں—فوٹو:پی سی بی
حارث رووف نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں—فوٹو:پی سی بی

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے پہلے مرحلے میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر رہنے والی سدرن پنجاب کی ٹیم نے آخری گروپ میچ میں بلوچستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی جبکہ دوسرے میچ میں ناردرن نے خیبر پختونخوا کو 11 رنز سے شکست دے کر اپنی برتری برقرار رکھی۔

راولپنڈی میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے گروپ کا آخری میچ سدرن پنجاب اور بلوچستان کے درمیان کھیلا گیا جو دونوں ٹیموں کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے اہم تھا۔

بلوچستان کے کپتان حارث سہیل نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا تاہم ابتدائی بلے بازوں کی اچھی کارکردگی کے باوجود ٹیم سدرن پنجاب جیسی کمزور ٹیم کو زیر کرنے میں ناکام رہی۔

امام الحق اور اویس ضیا نے اننگز کا آغاز کیا جو مختصر رہا لیکن دوسری وکٹ پر بسم اللہ خان کے ساتھ مل کر اسکور کو 85 رنز تک پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:خواتین کمنٹیٹرز کے ساتھ پاکستان کرکٹ میں نئے دور کا آغاز

بسم اللہ خان 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس کے بعد کپتان حارث سہیل نے 24 رنز بنا کر اسکور کو 133 رنز تک پہنچایا لیکن امام الحق 101 رنز پر 48 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔

اکبرالرحمٰن نے آؤٹ ہوئے بغیر 37 رنز کی اننگز کھیلی لیکن عماد بٹ اور عمران بٹ ایک،ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

سدرن پنجاب کے محمد عمران نے سب سے زیادہ 2 وکٹیں حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب میں سدرن پنجاب نے تباہ کن بلے بازی کی اور اس کا آغاز 87 رنز کا تھا جس میں صہیب مقصود کے برق رفتار 81 رنز تھے اور ذیشان اشرف نے 21 رنز بنا کر ان کا ساتھ دیا۔

خوشدل شاہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر نہ سکے اور 104 پر صہیب مقصود کے آؤٹ ہونے کے بعد 113 رنز پر عماد بٹ کا شکار ہوئے۔

عامر یامین اور حسین طلعت نے بالترتیب 33 اور 20 رنز بنا کر ٹیم کو 11 ویں اوور کی چوتھی گیند پر 166 رنز بنا کر فتح سے ہم کنار کردیا۔

عماد بٹ نے بلوچستان کے لیے 2 وکٹیں حاصل کیں لیکن سدرن پنجاب کے بلے بازوں کو روکنے میں ناکام رہے۔

صہیب مقصود کی 29 گیندوں پر 13 چوکوں اور 4 چھکوں پر مشتمل 81 کی اننگز جیت کی بنیاد تھی اور انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ناردرن پاکستان کی خیبرپختونخوا کے خلاف فتح

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں ناردرن پاکستان نے اپنی بہترین کارکردگی کو جاری رکھتے ہوئے آخری گروپ میچ میں خیبرپختونخوا کی ٹیم کو 11 رنز سے شکست دی۔

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ناردرن پاکستان کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن بلے باز بڑا اسکور ترتیب نہیں دے سکے تاہم باؤلرز کی اچھی کارکردگی کے باعث ٹیم نے میچ جیت لیا۔

ناردرن کے 6 بلے باز ٹیم کے 100 رنز سے قبل ہی پویلین لوٹ گئے تھے، جن میں گزشتہ میچ میں بڑی اننگز کھیلنے والے نوجوان بلے باز حیدر علی بھی شامل تھے۔

وہاب ریاض کی شان دار باؤلنگ کے سامنے علی عمران 8، ذیشان ملک 21 اور حیدر علی 7 رنز بنا آؤٹ ہوئے جس کے بعد عمر امین کی 21 رنز کی اننگز آصف آفریدی نے ختم کردی۔

کپتان عماد وسیم نے سب سے زیادہ 36 رنز بنائے، روحیل نذیر 6 اور آصف علی 19 رنز بنا کر آوٹ ہوئے، اس کے علاوہ سہیل تنویر 9 اور حارث رؤف 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: ناردرن پاکستان نے بلوچستان، سدرن پنجاب نے سندھ کو ہرا دیا

ناردرن کی ٹیم نے مقرررہ اورز میں 9 وکٹوں پر 144 رنز بنائے۔

خیبرپختونخوا کے وہاب ریاض نے اپنے 4 اوورز کے کوٹے میں 21 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔

ایک آسان ہدف کے تعاقب میں محمد حارث نے تجربہ کار بلے باز فخر زمان کے 11 رنز کی مدد سے 48 رنز کا آغاز کیا جبکہ محمد رضوان نے 9، شعیب ملک نے 6، افتخار احمد نے 10 رنز بنائے۔

خیبرپختونخوا کے 6 بلے باز دوہرا ہندسہ بھی عبور نہیں کرپائے۔

محمد حارث نے سست رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے 70 گیندوں پر 9 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 79 رنز کی اننگز کھیلی لیکن ٹیم کو کامیابی دلانے میں ناکام رہے۔

خیبرپختونخوا کی ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں پر 133 رنز بنا سکی اور میچ 11 رنز سے ہار گئی۔

حارث رؤف نے 3 اور عماد وسیم نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے ٹیم کو گروپ میچز میں سب سے زیادہ 8 مرتبہ کامیابی دلائی۔

مزید پڑھیں: نیشنل ٹی20 کپ پر بکیز کا حملہ، ایک کھلاڑی سے رابطہ

ناردرن کے حارث رؤف کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ ناردرن کی ٹیم کو دوسرے مرحلے میں صرف دو میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن سب سے زیادہ 8 میچ جیت کر 16 پوائنٹس حاصل کیے۔

ناردرن کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے اور پہلے ہی سیمی فائنل میں جگہ بنا چکی ہے۔

خیبرپختونخوا کی ٹیم بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر سندھ پر برتری حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر پر موجود ہے جبکہ دونوں ٹیموں کے 10،10 پوائنٹس ہیں، سدرن پنجاب نے 8 پوائنٹس بنائے تاہم بہتر رن ریٹ پر سینٹرل پنجاب اور بلوچستان کو پیچھے چھوڑ دیا۔