بجلی پر سرچارج لگانے سے متعلق بلز پر قائمہ کمیٹی کا اعتراض

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

کراچی سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ نے اس قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا — فوٹو بشکریہ قومی اسمبلی پاکستان ٹوئٹر
کراچی سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ نے اس قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا — فوٹو بشکریہ قومی اسمبلی پاکستان ٹوئٹر

اسلام آباد: پارلیمانی پینل نے دو بلز کو مسترد کردیا جس میں ایک سرکاری اداروں کو بجلی کے استعمال پر سرچارج لگانے کا اختیار دینا اور پولیس کو چوری کے الزام میں صارفین کو گرفتار کرنے کے اختیارات دینا شامل تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ نے اس قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا جس کے تحت پارلیمنٹ شہر کی پریشانیوں پر کے الیکٹرک کا احتساب نہیں کرسکے گا۔

رکن قومی اسمبلی چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں پر وزیر توانائی عمر ایوب خان اور پیپلز پارٹی کی شازیہ مری کے درمیان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بھی دیکھی گئی۔

مزید پڑھیں: بجلی کے شعبے میں بڑی تبدیلوں کا منصوبہ

دوسری چیزوں کے علاوہ نیپرا ایکٹ (الیکٹرک پاور ترمیمی بل 2020 کے تحت جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹربیوشن کی ریگولیشن) میں ترمیم کے لیے بل پر ممبران اور چیئرمین نے سرچارجز لگانے کے مکمل کے اختیارات کی مخالفت کردی۔

موجودہ نیپرا کے قوانین کے تحت حکومت کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کسی بھی سرکاری شعبے کے منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کے ذریعہ طے شدہ حد تک رقم اکٹھا کرنے کے لیے وقتا فوقتا سرچارج لگائے۔

مجوزہ ترمیم میں وفاقی حکومت کو کسی بھی سرکاری شعبے کے منصوبے کے ساتھ ساتھ کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے حکومت کی طرف سے فیصلہ کردہ حد تک فنڈ جمع کرنے کے لیے سرچارج لگانے کے اختیارات دیے جانے ہیں۔

جب ممبران نے اس بل کو تنقید کا نشانہ بنایا تو چیئرمین نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی اس وقت تک بل پاس نہیں کرے گی جب تک اس کا تعین نہ کیا جائے کہ کون اسے ادا کرے گا، کہاں خرچ ہوگا، کونسی اتھارٹی اس طرح کے فنڈز رکھے گی اور کتنا جمع کیا جائے گا۔

عمر ایوب نے کہا کہ سرچارج مالی اعانت اور گردشی قرضوں کی لاگت کو بجٹ میں ٹیکسز کے ذریعے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے اگر مخصوص سرچارجز کے ذریعے مطلوبہ رقم کی وصولی قابل عمل نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ تقریبا ایک کھرب روپے کے گردشی قرضوں کا ایک بڑا حصہ گزشتہ حکومتوں کے دوران بجٹ کے علاوہ دی جانے والی سبسڈی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے انتخابات سے قبل روکے 450 ارب روپے میں سے 229 ارب روپے نیپرا کی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین کو پہنچائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمت میں 50 پیسے فی یونٹ اضافے کی تیاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت متعدد اقدامات کے ذریعے اس قابل ہو چکی ہے جس میں مذکورہ بالا 229 ارب روپے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سمیت گردشی قرضوں کو 12 سے 14 ارب ڈالر تک لایا جاسکتا ہے تاہم کورونا وائرس وبا نے مزید ٹیرف میں اضافے پر عمل درآمد کرنا مشکل بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے زر مبادلہ کی شرح کو مصنوعی طور پر منجمد رکھا ہوا تھا اور بجلی کے نرخوں پر اس کا خاص اثر پڑا ہے۔

پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے تیسرے سال میں یہ حکمران جماعت کی طرف سے یہ سن کر حیرت ہورہی ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وراثت میں پائے جانے والے چیلنجز سے نمٹنے کا ان کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ’یہ ناقابل قبول ہے‘۔

عمر ایوب خان نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں گندم کی کم سے کم سپورٹ قیمت میں 300 فیصد اضافہ کرکے ’نظام میں مہنگائی پھیلائی ہے‘۔

کمیٹی نے نیپرا سے تحریری طور پر ٹیرف کے تعین کے طریقہ کار کی وضاحت کرنے کو کہا۔