فجی میں چین اور تائیوان کے سفارت کاروں میں جھگڑا

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق تقریب 8 اکتوبر کو منعقد ہوئی—فوٹو:بشکریہ بی بی سی
رپورٹ کے مطابق تقریب 8 اکتوبر کو منعقد ہوئی—فوٹو:بشکریہ بی بی سی

چین اور تائیوان کے درمیان جاری کشیدگی دوسرے ممالک میں تعینات سفارتی اہلکاروں تک وسیع ہوگئی اور فجی میں تعینات سفارت کار آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق تائیوان نے الزام عائد کیا کہ چین کے دو سفارت کاروں نے قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر مداخلت کی۔

دونوں فریقین نے کہا کہ تنازع کے دوران ان کے عہدیدار زخمی ہوئے اور فجی کی پولیس سے تفتیش کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا مجوزہ قانون: تائیوان کا ہانگ کانگ کے لوگوں کو 'ضروری مدد' فراہم کرنے کا اعلان

خیال رہے کہ چین دعویٰ کرتا ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے جبکہ تائیوان ایک خود مختار ریاست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں اور عالمی طاقتیں کشیدگی میں اضافے کے خدشے کا اظہار کر رہی ہیں اور تائیوان کا اتحادی امریکا بھی مداخلت کر سکتا ہے۔

تازہ واقعے کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ تنازع 8 اکتوبر کو تائیوان کے سفارت خانے کے طور پر استعمال ہونے والے تجارتی دفتر کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب کے دوران پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ تقریب فجی کے دارالحکومت سووا کے گرینڈ پیسفک ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی جس میں تقریباً 100 مہمان شریک تھے۔

تائیوان کے دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ چین کے دو اہلکاروں نے تصاویر لینے اور وہاں موجود مہمانوں سے متعلق معلومات جمع کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ تائیوان کے سفارت کاروں نے انہیں وہاں سے جانے کو کہا تو ان پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کے سر پر چوٹیں آئیں اور انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: چین پر تائیوان کو دوسرا ہانگ کانگ بنانے کا الزام

تائیوان کی وزارت خارجہ کے ترجمان جین او کا کہنا تھا کہ ‘فجی میں چین کے سفارت کاروں کے اس اقدام کی سختی سے مذمت کرتے ہیں جو قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے’۔

دوسری جانب فجی میں چین کے سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کے اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے اور یہ تقریب ایک کھلے مقام میں ہو رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تائیوان کے اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا جس سے ان کو زخم آئے۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے عہدیداروں کو تقریب کی سرگرمیوں کا علم تھا، جس میں تائیوان کے جھنڈے لہرائے جارہے تھے جبکہ چین، تائیوان کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ کا کہنا تھا کہ ‘ایک جعلی جھنڈے کو لہرایا جارہا تھا اور جعلی پرچم کے رنگ کا کیک بھی تیار کیا گیا تھا’۔

فجی کی پولیس نے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'آگ سے نہ کھیلیں'، امریکی عہدیدار کے تائیوان دورے پر چین کا انتباہ

خیال رہے کہ چین، تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ سمجھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک نے 1949 کی خانہ جنگی کے بعد علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

تائیوان اپنے آپ کو ایک علیحدہ ملک تصور کرتا ہے جس کی اپنی کرنسی، سیاسی اور عدالتی نظام ہے، تاہم اس نے باقاعدہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان نہیں کیا۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے، تاہم 2016 میں صدر سائی اینگوین کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات میں اس وقت مزید خرابی پیدا ہوئی جب انہوں نے جزیرے کو ’ایک چین‘ سمجھنے کے بیجنگ کے مؤقف کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔