سینسر شپ کے باعث ناظرین کے آن لائن منتقل ہونے سے جلسے ڈیجیٹل ہونے لگے

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

ٹیلی ویژن نشریات میں رکاوٹ آنے پر ناظرین جلد ہی آن لائن ٹیلی کاسٹ کی جانب متوجہ ہوئے—تصویر: مریم نواز فیس بک
ٹیلی ویژن نشریات میں رکاوٹ آنے پر ناظرین جلد ہی آن لائن ٹیلی کاسٹ کی جانب متوجہ ہوئے—تصویر: مریم نواز فیس بک

اپنے بہترین دنوں میں بھی چھوٹے میڈیا آؤٹ لیٹس مثال کے طور پر یوٹیوب پر ’آؤل میڈیا‘ نامی چینل کو ہزاروں ویوز نہیں ملتے جیسے گزشتہ ہفتے حاصل ہوئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیوز انڈسٹری کے لیے یقیناً یہ ایک مصروف ویک اینڈ تھا کیوں کہ اپوزیشن کے 11 جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے گوجرانوالہ اور کراچی میں 2 پاور شو کیے۔

گوجرانوالہ جلسے میں جب مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف لندن سے خطاب کے لیے اسکرین پر آئے تو ٹیلی ویژن نشریات میں رکاوٹ آنے پر ناظرین جلد ہی آن لائن ٹیلی کاسٹ کی جانب متوجہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم جلسہ: رہنماؤں کے حکومت پر وار،نواز شریف کا ویڈیو لنک سے خطاب، فوجی قیادت پر الزامات

صرف مریم نواز کے آفیشل فیس بک پیچ پر پی ڈیم ایم کے گوجرانوالہ جلسے کی لائیو براڈ کاسٹ کو 19 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا جبکہ مریم نواز کے شیئر کردہ لنک پر 2 لاکھ 64 ہزار 304 لوگوں کی انٹریکشن ہوئی۔

مذکورہ جلسے کو سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لائیو نشر کیا، جس میں یوٹیوب اور ٹوئٹر کا پیری اسکوپ شامل ہے۔

مین اسٹریم میڈیا کو پیمرا کی جانب نواز شریف کو نشریاتی وقت دینے سے روکے جانے کی وجہ سے ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹس اور یوٹیوب چینلز کا بزنس خوب فروغ پارہا ہے جو ’مکمل تقریر‘ کی خصوصی نشریات پیش کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ ہفتے کے روز ٹوئٹر اور فیس بک پر پی ڈی ایم گوجرانوالہ جلسہ ٹرینڈ کرتا رہا، نواز شریف سب سے زیادہ تلاش کیا جانا والا لفظ رہا اور ان کی تقریر کے کلپس بھی واٹس ایپ پر وائرل ہوئے۔

گوگل چارٹ

حالانکہ اس بات کی پیمائش کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ کتنے افراد نے ایونٹ نشر کیا یا سوشل میڈیا پر دیکھا لیکن پاکستان کے 8 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ صارفین کے لیے آن لائن خطاب دیکھنے کے لیے راہوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف نے اداروں اور کرداروں کے درمیان لکیر کھینچ دی، مریم نواز

اس حوالے سے ایک ٹوئٹر صارف زیب النسا برکی نے بتایا کہ ’جلسوں کی آن لائن اپڈیٹ حاصل کرنے کے خواہشمند ناظرین کی درخواستوں پر میں نے دونوں جلسوں کی لائیو ٹویٹس کرنی شروع کی تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جمعے کے جلسے میں نواز شریف کی مکمل تقریر کو ٹی ٹی چینلز نے نہیں دکھایا جبکہ اتوار کے جلسے میں دیگر رہنماؤں (اختر مینگل، محمود اچکزئی اور محسن داوڑ) کی آوازیں منقطع کی گئیں‘۔

کیا یہ کار گر رہا؟

ہوسکتا ہے کہ ملک کی ایک تہائی آبادی کے لیے آن لائن معلومات تک رسائی میں رکاوٹ نہیں ہو لیکن کیا اس نے ٹی وی کی ویور شپ کو پیچے چھوڑ دیا ہے۔

اس کے بارے میں بولو بھائی نامی پلیٹ فارم کے ڈائریکٹر عثمان خلجی کا کہنا تھا کہ ’محدود انٹرنیٹ کے باعث حالانکہ سوشل میڈیا کی ٹی وی جتنی پہنچ نہیں ہے لیکن ٹی وی پر سینسر ہونے پر مواد زیادہ شیئر کیا جاتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہہ کر کچھ شیئر کرتا ہے کہ اسے ’سینسر‘ کیا گیا تھا تو اس کے لیے زیادہ تجسس پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کی توجہ اس کی جانب زیادہ مبذول ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماضی کی طرح آج بھی غیر جمہوری قوتوں کے خلاف لڑیں گے، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد کو انٹرنیٹ تک رسائی نا ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں سیاست پر سوشل میڈیا کا اثر مزید نمایاں ہورہا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سیاسی مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر تحقیق کرنے والے محقق عمر علی نے کہا کہ ’اس حقیقت کے باوجود کہ تقریر مین اسٹریم میڈیا پر سینسر ہوئی ہے ہم وزیراعظم سمیت سرکاری عہدیداران کا اس پر رد عمل دیکھتے ہیں‘۔