آئی لینڈ آرڈیننس پر اپوزیشن کا سینیٹ سے واک آؤٹ

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

آئی لینڈ آرڈیننس پر اپوزیشن نے سینیٹ سے واک آؤٹ کیا— فائل فوٹو: اے پی پی
آئی لینڈ آرڈیننس پر اپوزیشن نے سینیٹ سے واک آؤٹ کیا— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: سینیٹ میں حزب اختلاف نے سندھ اور بلوچستان کے اثاثوں اور جائیدادوں کو ہتھیانے کے وفاقی حکومت کے ارادوں کی مخالفت میں احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی نے پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پیڈا) آرڈیننس کے اجرا کے خلاف تحریک استحقاق جمع کراتے ہوئے وفاقی حکومت پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جس کے فوری بعد اپوزیشن نے سینیٹ سے واک آؤٹ کیا۔

مزید پڑھیں: جزائر سے متعلق آرڈیننس پارلیمان میں نہ پیش کرنے پر پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید

انہوں نے کہا کہ اگست میں جاری کردہ یہ آرڈیننس 2 ستمبر کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا تھا لیکن اس کے خلاف قرارداد کے خوف سے اسے ایوان کے سامنے نہیں پیش کیا گیا، سندھ میں 300 سے زیادہ جزیروں کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز کی ان پر نگاہ ہے اور الزام لگایا کہ وہ ترقی کے نام پر اپنے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔

رضا ربانی نے بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے پر حکومت کے مکمل کنٹرول پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ کسی مرکز کی جانب سے وفاق کے یونٹوں کی جائیدادیں کھا جانے کی کوشش کو کیا کہتے ہیں، انہوں نے ایک قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سیاحت کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اب ایک صوبائی موضوع ہے، انہوں نے یاد دلایا کہ سیاحت موافق فہرست میں موجود تھی جسے 18ویں ترمیم کے تحت ختم کردیا گیا تھا اور اس موضوع کو صوبوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔

انہوں نے آئین کے آرٹیکل 152 کا حوالہ دیا جس میں لکھا ہے کہ اگر وفاق کسی ایسی اراضی کو جو کسی صوبے میں واقع ہو، کسی ایسے مقصد کے لیے جو کسی ایسے معاملے سے متعلق ہو جس کے بارے میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو قوانین وضع کرنے کا اختیار ہو، حال کرنا ضروری خیال کرے تو وہ اس صوبے کو حکم دے سکے گا کہ وہ اس اراضی کو وفاق کی طرف سے اور اس کے خرچ پر حاصل کرے یا اگر اراضی صوبہ کی ملکیت ہو تو اسے وفاق کے نام ایسی شرائط پر منتقل کردے جو طے پا جائیں یا طے نہ پانے کی صورت میں چیف جسٹس پاکستان کے مقرر کردہ کسی ثالث کی طرف سے طے کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ نے جزائر سے متعلق آرڈیننس واپس لینے تک وفاق سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا

پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے کہا کہ چونکہ صوبے کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا لہٰذا آرڈیننس کا اعلان آئین کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ 'غیر آئینی حکمرانی کا یہ طریقہ اور ایک یونٹ کی طرف بڑھنا ایک خطرناک رجحان ہے'۔

انہوں نے کہا کہ یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کے فیصلے اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ استحقاق کی خلاف ورزی اور صوبوں کے حقوق اور جائیدادوں کے قبضے کا واضح معاملہ ہے اور چیئرمین سے اس تحریک کو منظور کرنے کا کہا۔

ان کے تبصرے کے دوران اپوزیشن ارکان "شیم، شیم" کے نعرے لگاتے رہے، رضا ربانی نے اپنی تقریر ختم کرنے کے فوری بعد سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے جیسے ہی گفتگو شروع کی تو اپوزیشن نے ایوان سے ٹوکن واک آؤٹ کیا۔

شہزاد وسیم نے حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں کہا کہ وفاقی حکومت آئینی دائرہ کار میں تمام فیڈریشن یونٹوں اور ان کی خود مختاری کا احترام کرتی ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نے 18 ویں ترمیم کے بارے میں بہت زیادہ بات کی ہے لیکن اس کے اثرات پر بحث سے کترا گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد مرکز کے ذریعے صوبوں اور صوبوں سے لے کر مقامی حکومتوں کو اختیارات اور فرائض منتقل کرنا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسے انشورنس پالیسی میں تبدیل کردیا۔

مزید پڑھیں: جزائر سے متعلق آرڈیننس کے خلاف درخواست پر وفاقی، صوبائی حکام کو نوٹسز جاری

رضا ربانی کے آرٹیکل 172 (2) کے حوالے کا جواب دیتے ہوئے شہزاد وسیم نے واضح کیا اور کہا کہ آرٹیکل میں لکھا ہے کہ تمام ارضیات، معدنیات اور دوسری قیمتی اشیا جو پاکستان کے براعظمی کنار آب کے اندر یا پاکستان کے علاقائی سمندر کی حد پر سمندر کے نیچے ہوں، وفاقی حکومت کی ملکیت ہوں گے اور صوبائی حکومتوں کے نہیں جیسا کہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے دعویٰ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور گورنر سندھ نے پہلے ہی یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لیے بغیر کچھ نہیں کیا جائے گا۔

شہزاد وسیم گفتگو کر ہی رہے تھے کہ اس دوران اپوزیشن اراکین نے 'جزیرہ آرڈیننس نامنظور' کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے جسے دیکھ کر قائد ایوان نے کہا کہ 'سرکس دوبارہ شروع ہوچکا ہے'۔

انہوں نے اپوزیشن سے حکومت کے ساتھ معاملات پر معنی خیز گفتگو کرنے کو کہا۔

شہزاد وسیم اپنی تقریر کا اختتام نہیں کرسکے کیونکہ حزب اختلاف نے کورم کی نشاندہی کی تھی، کورم کی گھنٹیاں بجی گئیں اور گنتی کی گئیں، 100 سے زیادہ اراکین میں سے صرف 11 افراد موجود تھے اور اجلاس کو جمعرات کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔