اکتوبر میں بینک ڈپازٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2020

ای میل

رواں ماہ کے اختتام پر بینک ڈپازٹس کا حجم 166 کھرب 64 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ اکتوبر 2019 میں یہ 139 کھرب 12 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا — فائل فوٹو:رائٹرز
رواں ماہ کے اختتام پر بینک ڈپازٹس کا حجم 166 کھرب 64 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ اکتوبر 2019 میں یہ 139 کھرب 12 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا — فائل فوٹو:رائٹرز

کراچی: اکتوبر میں بینک ڈپازٹ میں سالانہ 20 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے بینکنگ سسٹم میں اعلیٰ رواداری اور بینکوں کے ذریعے کم ایڈوانسز کی عکاسی ہوتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2020 کے اختتام پر بینک ڈپازٹس کا حجم 166 کھرب 64 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جبکہ اکتوبر 2019 کے اختتام پر بینکنگ سیکٹر کے ڈپازٹس کا حجم 139 کھرب 12 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یینکاری کے شعبے کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بینکنگ سیکٹر کے ڈپازٹس کی شرح میں اضافے کا بنیادی سبب کووڈ۔19 کی وبا ہے کیونکہ سفری اخراجات میں کمی کی وجہ سے لوگوں نے اپنی بچتیں بینکوں میں جمع کرائی ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

رپورٹ کے مطابق رواں سال 2020 کے پہلے 10 ماہ کے دوران بینکوں کے ڈپازٹس میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ 13 سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

پاک کویت انویسٹمنٹ کے شعبہ تحقیق کے سربراہ سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ ’کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لوگ اندرون ملک اور بیرون ملک سفر نہ کر سکے اور نہ ہی حج و عمرہ وغیرہ کے لیے حرمین شریفین جا سکے جس کی وجہ سے ان کے شاپنگ اور ریسٹورانٹس کے اخراجات بھی کم ہوئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ تمام رقم جو ممکنہ طور پر خرچ ہوسکتی تھی بینکوں میں جمع کردی گئی، دریں اثنا بینک ایڈوانسز نہیں کرسکے جس سے ڈپازٹ کے حجم میں اضافہ ہوا‘۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کردی

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے بینکوں کی نمو میں 14 فیصد اضافہ کیا۔

بینکرز کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے دوران معاشی سرگرمیاں انتہائی کم سطح پر تھیں جس کی وجہ سے بینکوں کی جانب سے ایڈوانسز میں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

ایک بینکر کا کہنا تھا کہ ’اسی دوران وبائی امراض سے پیدا ہونے والی اعلیٰ غیر یقینی معاشی صورتحال کی وجہ سے بینکوں نے قرضوں میں توسیع کرنے میں محتاط رویہ اپنایا ہے‘۔