کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بند نہیں کیا جائے گا، وفاقی وزیر

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2020

ای میل

پاکستانی پالیسیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہت سی مراعات فراہم کی گئی ہیں — فائل فوٹو: اے پی
پاکستانی پالیسیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہت سی مراعات فراہم کی گئی ہیں — فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بند کرنے کی حمایت نہیں کریں گے البتہ قومی سلامتی کے معاملات میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام پر بنائی جانے والی وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک ایپلیکیشن کو وقتی طور پر بند کردینا مسئلے کا حل نہیں لیکن اس عمل کا مقصد سوشل میڈیا ایپس کو ملکی قواعد و ضوابط کے ماتحت کرنا تھا۔

امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ ضروری ہے کہ صحیح سمت میں آگے بڑھا جائے اور ہم ان خطوط کے مطابق بہت محنت کررہے ہیں، صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم پر قومی سلامتی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا اور ان کی توہین کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ ڈیوائسز کے ڈیٹا تک کمپنیوں کی رسائی، 83 فیصد طلبا لاعلم

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا قوانین کو کابینہ سے منظوری مل چکی ہے جس کے بعد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ہر جگہ اپنے اس اصولی مؤقف کو برقرار رکھا ہے کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعمیراتی شعبوں میں کاروباری ترقی اور جدت کا بھرپور حامی ہے'۔

امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ 'ہماری پالیسیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بہت سی مراعات ہیں، ہم سہولیات بھی فراہم کررہے ہیں اور بھاری منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر پاکستانی مارکیٹس بھی کھولی جارہی ہیں۔

تاہم ہر کسی کو قومی سلامتی، نفرت انگیز بیان اور غیر اخلاقی مواد کے حوالے سے پاکستان کے قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی'۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پی ٹی اے نے موبائل فون رجسٹریشن کی مدت 90 روز تک بڑھادی

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کچھ دن قبل ٹیکس معاملات پر جاز (موبائل نیٹ ورک کمپنی) نیٹ ورک کی بندش کوئی پسندیدہ عمل نہیں تھا اس پر انہوں نے اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے ہیڈ آفس کو سیل کرنے کے بجائے کوئی دوسرا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا تھا، ایف بی آر کے اس عمل سے ملک میں کام کرنے والی نیٹ ورکنگ کمپنیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل چھیننے والوں کے کراچی میں 60 پسندیدہ مقامات کی نشاندہی

اجلاس کے دوران انہوں نے شرکا کو صوبے میں آئی ٹی مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں کمی کے سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ ہونے والی مثبت بات چیت سے بھی آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'میں مستقبل میں فائبر آپٹکس کے ذریعے مزید موبائل ٹاورز کی تنصیب، موبائل فون کنیکشنز میں اضافے اور براڈ بینڈ کی بہتری اور فراہمی کے حوالے سے مطمئن ہوں'۔


یہ خبر 6 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔