عوام کو پوچھنا پڑ رہا ہے کہ سی پیک کہاں ہے، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2020
—فوٹو:ڈان نیوز
—فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں اپنی انتخابی مہم کے دوران مرکزی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ عوام کو پوچھنا پڑ رہا ہے کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ کہاں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے گوجال میں انتخابی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تیسری مرتبہ گلگت بلتستان آیا ہوں اور ہمارا تین نسلوں کا تعلق ہے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان عدالت کے فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی کی درخواست

ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کا ساتھ دیا اور اُمید کرتا ہوں اسی طرح میرا ساتھ دیں گے تاکہ نامکمل مشن کو مل کر مکمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ میرے تین نعرے ہیں اور موقع ملا تو ان شااللہ ان تینوں باتوں پر پورا اتروں گا۔

اپنے منشور کے تینوں نکات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم یہاں کے نوجوانوں اور عوام کو حق روزگار دینا چاہتے ہیں، خاص کر سی پیک اور روڈ کے منصوبوں میں سب سے پہلے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں گے اور عوام کو تاریخی روزگار دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دوسرا نعرہ ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے عوام کو حق ملکیت دلانا چاہتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کے غریب کسانوں کو زمین کا مالک بنایا اور اب میں چاہتا ہوں گلگت بلتستان کے عوام کو نہ صرف اپنی زمین کا مالک بناؤں بلکہ ان پہاڑوں میں چھپی معدنیات کا حق بھی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کا منشور ہے اور ہم گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر یہاں کے نمائندوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بٹھانا ہے اور اس وزیراعظم کا انتخاب اس علاقے کے عوام کی مرضی سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: جنوری میں اسلام آباد پہنچ کر کٹھ پتلی کو گھر بھیج دیں گے، بلاول بھٹو زرداری

اس موقع پر عوام نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق سوال کیا کہ سی پیک کہاں ہے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اس منصوبے کا دروازہ گلگت بلتستان ہے اور افسوس کی بات ہے کہ آپ کو پوچھنا پڑ رہا ہے کہ سی پیک کہاں ہے حالانکہ یہ منصوبہ آپ کی وجہ سے ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں ہر جگہ کہتا ہوں کہ سی پیک گیم چینجر منصوبہ ہے تو یہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں کی وجہ سے ہے اس لیے سب سے پہلے کام یہاں ہونے چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں تاکہ آپ کو حق حاکمیت اور روزگار کے علاوہ سی پیک جیسے بڑے منصوبے میں آپ کو حصہ دیا جائے گا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ مجھے یہاں کے عوام کے بہت مسائل بتائے گئے ہیں، سردیوں میں ایندھن کا مسئلہ ہوتا ہے جس کو دور کرنے کے ریاست کو اقدامات کرنی پڑتی ہیں۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان: اکثریت ملی تو حق ملکیت دلوانے کیلئے قانون سازی کریں گے، بلاول

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہاں کے عوام کو سردیوں میں ایندھن کے لیے کوئلہ میں مدد دینا چاہتے ہیں اور یہ اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حکومت سندھ نے تھرکول منصوبہ بنایا ہے اور وہ یہاں کے عوام اور حکومت سے معاہدہ کرے تاکہ اس کوئلے کو سستی قیمت میں غریب عوام تک پہنچایا جائے۔

کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ کے علاقے میں ایک نعرہ اٹھا ہے ‘نو روڈ، نوووٹ’ اس لیے ہم جیت کر روڈ کے مسئلے کو بھی حل کرنا چاہتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں