شاہد آفریدی کو سری لنکا جانے کے لیے پرواز مل گئی

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

شاہد آفریدی گال گلیڈی ایٹرز کے کپتان ہیں—فوٹو: شاہد آفریدی ٹوئٹر
شاہد آفریدی گال گلیڈی ایٹرز کے کپتان ہیں—فوٹو: شاہد آفریدی ٹوئٹر

مشہور آل راؤنڈر شاہد آفریدی لنکن پریمیئر لیگ (ایل پی ایل) میں شرکت کے لیے سری لنکا روانہ ہوگئے تاہم گال گلیڈی ایٹرز کے ابتدائی 2 میچوں میں ان کی شرکت مشکوک ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں شاہد آفریدی نے کہا کہ ‘خدا کا شکر ہے کہ میں وقت پر پرواز لینے میں کامیاب ہوا اور اب کولمبو اور ہمبنٹوٹا جارہا ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایل پی ایل میں گال گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے جارہا ہوں اور ایک دلچسپ ٹورنامنٹ کے لیے پرعزم ہوں’۔

قبل ازیں شاہد آفریدی نے ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ کولمبو جانے والی پرواز میں نہیں جاسکا لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں اور جلد ہی گال گلیڈی ایٹرز میں شامل ہوجاؤں گا۔

مزید پڑھیں: لنکا پریمیئر لیگ: شاہد آفریدی گال گلیڈی ایٹرز کے کپتان مقرر

خیال رہے کہ ایل پی ایل کی ٹیم گال گلیڈی ایٹرز کی انتظامیہ نے شاہد آفریدی کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا ہے۔

گال گلیڈی ایٹرز نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ‘گال گلیڈی ایٹرز نے سپر اسٹار شاہد آفریدی کو کپتان مقرر کیا ہے جبکہ بھنوکا راجاپاکسے نائب کپتان ہوں گے’۔

گال گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں شاہد آفریدی کے علاوہ قومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد، اعظم خان اور محمد عامر بھی شامل ہیں۔

ایل پی ایل کا آغاز 26 نومبر سے ہوگا اور گال گلیڈی ایٹرز اپنا پہلا میچ 27 نومبر کو جافنا اسٹالنز کے خلاف کھیلے گی۔

شاہد آفریدی کی ابتدائی میچوں شرکت مشکوک ہوگئی ہے کیونکہ انہیں سری لنکا پہنچنے کے بعد کم از کم تین روز قرنطینہ کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی لنکا پریمیئر لیگ کی ٹیم گال گلیڈی ایٹرز میں شامل

لیگ میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچنے والے دو کھلاڑیوں میں اب تک کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے، جن میں پاکستان کے سہیل تنویر بھی شامل ہیں اور اب لیگ میں ان کی شرکت بھی مشکوک ہوگئی ہے۔

سری لنکا کرکٹ بورڈ (ایس ایل سی) کے عہدیدار نے شیڈول جاری کرتے وقت کہا تھا کہ لیگ میں شرکت کے لیے بیرون ملک سے آنے والے کھلاڑیوں کا قرنطینہ کا دورانیہ 14 دن سے کم کرکے 7 دن کردیا گیا ہے۔

سری لنکا میں اس وقت مقامی سطح پر کورونا وائرس کے منتقلی کی کیسز بہت کم ہیں لیکن قرنطینہ کی شرط بدستور سخت کردی گئی ہے، تاکہ متاثرہ افراد سے وائرس مزید پھیلنے سے روکا جائے۔