سعودی ولی عہد سمیت شاہی خاندان کے 3 افراد کو تلور کے شکار کی اجازت

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2020

ای میل

آبادی میں تیزی سے کمی کے باعث تلور کو فطرت کے تحفظ کے مختلف سمجھوتوں کے تحت محفوظ قرار دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
آبادی میں تیزی سے کمی کے باعث تلور کو فطرت کے تحفظ کے مختلف سمجھوتوں کے تحت محفوظ قرار دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکمران خاندان کے دیگر 2 اراکین کو سال 21-2020 کے شکار سیزن میں بین الاقوامی تحفظ کے حامل پرندے تلور کے شکار کا اجازت نامہ جاری کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ دیگر دو شکاری گورنرز ہیں جن میں سے ایک نادہندہ ہیں کیوں کہ انہوں نے گزشتہ برس شکار کی فیس ادا نہیں کی تھی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شکاریوں کو بلوچستان اور پنجاب کے مخصوص علاقوں میں شکار کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صحرائے چولستان میں خلیجی ملک سے لائے گئے 1700 تلور چھوڑ دیے گئے

انہوں نے کہا کہ حالانکہ وزارت خارجہ کی جانب سے پروٹوکول اور سرکاری درجہ بندی کا خیال رکھنے کی توقع تھی تاہم اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کو بھیجی گئی شکاریوں کی فہرست میں سب سے طاقتور شخص اور سعودی عرب کے 'اصل' حکمران محمد بن سلمان کا نام سب سے نیچے درج تھا۔

خیال رہے کہ سرد وسط ایشیائی خطے کے باسی تلور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے ہر سال جنوب کی جانب ہجرت کرتے ہیں تا کہ قدرے گرم ماحول میں وقت گزار سکیں تاہم وہاں انہیں حکومت کی جانب سے خصوصی طور پر مدعو کیے گئے عرب شکاری، شکار کرلیتے ہیں۔

آبادی میں تیزی سے کمی کے باعث تلور کو نہ صرف فطرت کے تحفظ کے مختلف سمجھوتوں کے تحت محفوظ قرار دیا گیا ہے بلکہ یہ اسے جنگلی حیات کے مقامی قوانین کے تحت بھی تحفظ حاصل ہے اور پاکستانی شہریوں کو اس کے شکار کی اجازت نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: حکام نے تلور کو اسمگل کرنے کی کوششیں ناکام بنادیں

ذرائع کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم عمران خان اپوزیشن میں تھے تو وہ تلور کے شکار کے اجازت نامے دینے پر اس وقت کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا میں اس کے شکار کی اجازت نہیں دی تھی لیکن اب سعودی عرب کے شکاریوں کو اجازت دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق 16 اکتوبر 2020 کو جاری کیے گئے اجازت ناموں کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیر دفاع اور نائب وزیراعظم کو پنجاب کے ضلع لیہ اور بھکر میں شکار کی اجازت دی گئی۔

اسی طرح تبوک کے گورنر فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کو ضلع آوران، ضلع نوشکی اور ضلعی چاغی میں شکار کی اجازت دی گئی جبکہ حفر الباطن کے گورنر منصور بن محمد کے شکار کے لیے ڈیرہ غازی خان کے ضلع کو مختص کیا گیا۔

لازمی فیس کے نادہندہ

ذرائع نے بتایا کہ تبوک کے گورنر فہد بن سلطان جو کچھ عرصہ قبل غیر قانونی طور پر 2 ہزار تلور کا شکار کرنے پر بین الاقوامی میڈیا کی نظروں میں آئے تھے انہوں نے گزشتہ برس شکار کی ایک لاکھ ڈالر فیس ادا نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی کے حکمران کو نایاب نسل کے 150 شاہین 'برآمد' کرنے کی اجازت

حالانکہ وہ گزشتہ برس اپنے ہمراہ 60 شاہین بھی لے کر آئے تھے لیکن انہوں نے اس کی بھی فیس نہیں دی تھی جو ایک ہزار ڈالر فی شاہین تھی۔

اس طرح مجموعی طور پر سال 20-2019 کے شکار کے سیزن کے لیے ان پر ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر واجب الادا ہیں۔