مقبوضہ فلسطین میں تیار اسرائیلی مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، بحرین

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2020
— فائل فوٹو: رائٹرز
— فائل فوٹو: رائٹرز

بحرین نے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات کی درآمد کی اجازت نہیں دے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی جانب سے بحرین کے سرکاری خبر رساں ادارے ’بی این اے‘ کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ رواں ہفتے خلیجی ریاست کے وزیر تجارت نے اسرائیلی مصنوعات قبول کرنے سے انکار کیا۔

مزید پڑھیں: بحرین کا بھی اسرائیل سے امن معاہدے کا اعلان

بحرین کی صنعت، تجارت اور سیاحت کے وزیر زید بن راشد الثانی نے کہا کہ ماناما، اسرائیل میں یا مقبوضہ مغربی کنارے اور گولن کی پہاڑیوں میں تیار کردہ اسرائیلی مصنوعات کی درآمد کو قبول نہیں کرے گا۔

دوسری جانب وزارت صنعت، تجارت اور سیاحت کے سرکاری ذرائع نے کہا کہ وزیر کے بیان کی غلط تشریح کی گئی تھی اور یہ کہ وزارت، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پیرا ہونے کے بارے میں بحرینی حکومت کے غیر متزلزل مؤقف کے لیے پرعزم ہے‘۔

یورپی یونین کی گائیڈلائنز کے تحت ای یو کے رکن ممالک کو برآمد کرتے وقت مصنوعات پر واضح طور پر لیبل لگانا لازمی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ ماہ اسرائیل کے اندر اور مقبوضہ بستیوں میں بننے والے سامان کے درمیان امریکی کسٹم کے امتیاز کو دور کیا تھا۔

مزید پڑھیں: فلسطینی صدر کا امریکا، اسرائیل سے تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان

فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ ان کے بحرین کے ہم منصب عبد اللطیف الزانی نے بھی فون پر وزیر صنعت کے تبصروں کی تردید کی ہے۔

مالکی کے دفتر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’مبینہ تبصرے سے فلسطین کے مقاصد کے بارے میں ان کے ملک بحرین کی حمایتی پوزیشن کی سراسر خلاف ورزی ہوئی ہے۔'

یاد رہے کہ 12 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور بحرین کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور بحرین نے متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی

امریکی صدر نے اسے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور بحرین صحیح معنوں میں سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے جشن مناتے ہوئے اس پیشرفت کو ناصرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا کے لیے انتہائی اہم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ انتہائی دلچسپ ہے کہ وہ امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو کیے گئے حملوں کی برسی کے موقع پر یہ اعلان کر رہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں