پیوٹن نے امریکی نومنتخب صدر جو بائیڈن کو جیت کی مبارک باد دے دی

اپ ڈیٹ 16 دسمبر 2020
پیوٹن نے کہا کہ میں رابطہ اور بات کرنے کے لیے تیار ہوں — فوٹو: اے پی
پیوٹن نے کہا کہ میں رابطہ اور بات کرنے کے لیے تیار ہوں — فوٹو: اے پی

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے جو بائیڈن کی امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی کے کئی ہفتوں بعد بالآخر انہیں مبارک باد دے دی۔

خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق پیوٹن کی جانب سے مبارک باد الیکٹورل کالج کی تصدیق کے ایک دن بعد دی گئی ہے، جس میں بائیڈن کو ملک کے اگلے صدر کے طور پر کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

روس نے اس سے قبل کہا تھا کہ پیوٹن اس وقت تک مبارک باد نہیں دیں گے جب تک سرکاری سطح پر کامیابی کا اعلان نہیں کیا جاتا۔

مزید پڑھیں: جوبائیڈن کی فتح کا باقاعدہ اعلان، ریپبلکنز نے شکست تسلیم کرلی

پیوٹن نے گزشتہ ماہ ری پبلکنز کے کئی رہنماؤں کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہم اس وقت ان کی اندرونی سیاسی لڑائی کے خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں'۔

جو بائیڈن کو مبارک باد دیتے ہوئے پیوٹن نے اپنے پیغام میں کہا کہ پراعتماد ہیں کہ روس اور امریکا اختلافات کے باوجود تمام مسائل اور چیلنجز کو حل کرنے کے لیے حقیقی کوششیں کریں گے جس کا اس وقت دنیا کو سامنا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ 'روس اور امریکا کا تعاون برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہو جو دونوں ممالک کے عوام اور پوری عالمی برادری کے مفاد کو پورا کرے'۔

انہوں نے کہا کہ 'میں اپنی طرف سے آپ سے بات کرنے اور رابطہ کرنے کے لیے تیار ہوں'۔

خیال رہے کہ امریکی الیکٹورل کالج نے گزشتہ روز جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دے دیا تھا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل شکست تسلیم کرنے سے انکار کے باعث 40 دن تک جاری رہنے والے تناؤ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

الیکٹورل کالج کے تمام 538 رائے دہندگان نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخاب میں ان کے ووٹروں کی جانب سے انہیں دیے گئے مینڈیٹ کی پیروی کی، ڈیموکریٹک اُمیدوار جو بائیڈن کو 306 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف ریپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ ڈالے گئے۔

20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس کے عہدہ سنبھالنے سے قبل 6 جنوری کو کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی سیل اتاری جائے گی۔

جو بائیڈن جنہیں انتخاب کے روز رات کو اپنی قوم کو فاتح کی حیثیت سے خطاب کرنا تھا، نے الیکٹورل کالج میں اپنی فتح کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی تقریر کی اور اپنے حریف پر زور دیا کہ وہ 'جمہوریت پر بے مثال حملے' کو ختم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'امریکا میں سیاستدان اقتدار میں نہیں آتے بلکہ عوام انہیں اقتدار میں لاتے ہیں، جمہوریت کی شمع اس قوم میں بہت عرصے پہلے جل چکی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا، نہ ہی وبا اور نہ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو بجھا سکتا ہے'۔

مزید پڑھیں: امریکا: 'جو بائیڈن کو پیشہ ورانہ طریقے سے اقتدار منتقل کریں گے'

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اپنے اٹارنی جنرل بل بار کو برطرف کر رہے ہیں جنہوں نے 2020 کے انتخاب میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ان کے دعوؤں کی توثیق نہیں کی تھی۔

صدر نے اپنے آفیشل ٹوئٹر پیج پر بل بار کے استعفے کی ایک کاپی پوسٹ کی اور لکھا کہ 'خط کے مطابق کرسمس سے قبل بل بار اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے روانہ ہو جائیں گے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ڈپٹی اٹارنی جنرل جیف روزن، ایک ممتاز شخصیت، قائم مقام اٹارنی جنرل بن جائیں گے اور انتہائی قابل احترام رچرڈ ڈونوگو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے'۔

ڈونلڈ ٹرمپ جو عام طور پر سیاسی پیشرفتوں پر ردعمل دینے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرتے تھے، نے الیکٹورل کالج کے فیصلے پر کوئی رائے پیش نہیں کی۔

تبصرے (0) بند ہیں