نئی پرائیویسی پالیسی: شدید تنقید کے بعد واٹس ایپ کا نیا فیصلہ

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2021

ای میل

واٹس ایپ نے تنقید کے بعد اپنا فیصلہ مؤخر کردیا— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
واٹس ایپ نے تنقید کے بعد اپنا فیصلہ مؤخر کردیا— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

نئی پرائیویسی پالیسی کے حوالے سے دنیا بھر میں ہونے والی شدید تنقید کے بعد واٹس ایپ نے اس کے فوری اطلاق کا سلسلہ مؤخر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 8فروری کو کسی کے بھی اکاؤنٹ منسوخ یا ڈیلیٹ نہیں کیے جائیں گے۔

واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی اپنے اطلاق سے قبل ہی دنیا بھر میں متنازع بن چکی ہے اور 4 جنوری سے صارفین کو اسے قبول کرنے کے لیے نوٹی فکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ پالیسی: پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن بل، میسجنگ ایپ لانے کی تیاری

اس پالیسی کو 8 فروری 2021 سے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور صارفین کو خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں اسے لازمی قبول کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے جائیں گے۔

تاہم دنیا بھر میں ہونے والی تنقید کو دیکھتے ہوئے کمپنی نے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کے فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے عوام کو پالیسی پر آرام سے نظرثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔

واٹس ایپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ ہماری تازہ اپ ڈیٹ کے حوالے سے بہت زیادہ ابہام پایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سی غلط معلومات زیر گردش ہیں لہٰذا ہم ہمارے اصول و حقائق کو سمجھنے میں ہر کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ آپ جو بھی اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے شیئر کرتے ہیں، وہ صرف آپ کے ہی درمیان اور ہم آپ کی ذاتی گفتگو کا تحفظ اس حد تک یقینی بناتے ہیں کہ واٹس اور فیس بک بھی ان نجی میسیجز کو نہیں دیکھ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کی نئی پالیسی، وزارت ٹیکنالوجی کا پرائیویسی کیلئے قانون لانے پر غور

اس حوالے سے واٹس ایپ نے وضاحت کی کہ ہم نہ ہی آپ کی لوکیشن دیکھ سکتے ہیں اور ہم آپ کے کانٹیکٹس بھی فیس بک پر شیئر نہیں کرتے۔

کمپنی نے دوٹوک الفاظ نے میں کہا کہ تازہ اپ ڈیٹس کے نتیجے میں اس میں سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہو رہا بلکہ اس کے نتیجے میں عوام کو نئے آپشنز دستیاب ہوں گے جبکہ یہ اس حوالے سے مزید شفافیت بھی فراہم کرے گا کہ ہم کس طرح سے ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔

واٹس ایپ نے کہاکہ نئی پرائیویسی پالیسی کو قبول کرنے یا نہ کرنے دونوں ہی صورتوں میں صارفین کے اکاؤنٹس 8فروری کو منسوخ یا ڈیلیٹ نہیں کیے جائیں گے اور ہم ہماری پرائیویسی پالیسی اور سیکیورٹی کے حوالے سے زیر گردش غلط معلومات کو دور کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر صارفین کا اظہارِ برہمی

کمپنی نے کہا کہ ہم چاہیں گے صارفین نئی پالیسی پر آرام سے بتدریج نظرثانی کر لیں جس کے بعد نئے آپشنز 15مئی سے دستیاب ہوں گے۔

انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کے پاس ہماری شرائط و ضواط کو سمجھنے کے لیے معقول وقت ہو اور ہم اس بنیاد پر کوئی اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں کریں گے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کچھ کریں گے۔

دوسری جانب واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے بھی ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا 'سب کی جانب سے حقائق شیئر کرنے پر شکریہ کہ کس طرح واٹس ایپ آپ کی پرائیویسی کا تحفظ کررہی ہے، ہم آنے والے ہفتوں میں ایسے اقدامات کررہے ہیں جس کا مقصد ہر ایک یہ جاننے میں مدد دینا ہے کہ کس طرح واٹس ایہ پیغامات کو محفوظ کرتی ہے، ہم اس مقصد کے لیے اپنے بزنس منصوبوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں'۔

۔