جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز اور ٹیم سلیکشن کے مسائل

18 جنوری 2021

ای میل

دورہ نیوزی لینڈ پر پاکستان کرکٹ ٹیم بُری طرح ناکام ہوئی، بالکل ویسے ہی جیسے گزشتہ 10 سال میں 19 میں سے 15 سیریز میں مہمان ٹیموں کو یہاں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

جی ہاں! نیوزی لینڈ نے پچھلے 10 سالوں میں ہوم گراؤنڈ پر صرف 3 سیریز ہی ہاری ہیں لیکن اس کے مقابلے میں کامیابیاں بہت سمیٹی ہیں۔ گزشتہ 4 سال سے کوئی ملک نیوزی لینڈ کو نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ سیریز نہیں ہرا پایا۔ اس لیے ایسے ملک کے خلاف پاکستان کی 0-2 سے شکست اتنی حیران کن نہیں تھی جتنی حیرت انگیز اب جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے منتخب کی گئی ٹیم ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کے لیے قومی ٹیم کے اعلان کردہ 20 رکنی اسکواڈ میں 9 کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے کبھی پاکستان کے لیے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا جبکہ 10 یا اس سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی تعداد صرف 3 ہے۔

جب پچھلے مہینے محمد وسیم کو چیف سلیکٹر بنایا گیا تھا تو انہوں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ ’میرا فلسفہ ہے میرٹ کو بنیاد بنانا اور حالات و ضروریات کے مطابق ٹیم کا انتخاب کرنا۔ میں مشکل فیصلے کرنے سے بھی نہیں ہچکچاؤں گا‘ اور واقعی جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے اعلان کردہ ٹیم سے ایسا لگتا بھی ہے۔

بس سلیکشن میں ایک ’چھوٹا سا مسئلہ‘ ہے، اور وہ یہ کہ انتخاب میں گزشتہ بین الاقوامی سیریز میں کارکردگی اور حالیہ ڈومیسٹک پرفارمنسز کو کچھ زیادہ ہی اہمیت دے دی گئی ہے اور انتخاب حالات و ضروریات کے مطابق نظر نہیں آتا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف 'اوے' سیریز کہ جہاں اچھے اچھوں کا پتّہ پانی ہوجاتا ہے، وہاں دکھائی گئی کارکردگی کو حرفِ آخر سمجھ کر قبول کیا گیا ہے اور کچھ یہی معاملہ ڈومیسٹک پرفارمنسز کا بھی ہے۔

بلاشبہ سعود شکیل، سلمان علی آغا، نعمان علی مہر اور تابش خان نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کی ہے اور اپنی کارکردگی سے خود کو اس مقام کے لیے اہل ثابت کیا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ کسی بھی پلیئر کو انٹرنیشنل کرکٹ کھلانے کا پہلا موقع جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، انگلینڈ یا نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز نہیں ہے۔ بلکہ انہیں زمبابوے، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں مواقع ملنے چاہئیں۔

لیکن ہمارے ہاں معاملہ مختلف نظر آتا ہے اور عموماً ان نسبتاً کمزور ملکوں کے خلاف مضبوط ترین کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا جاتا ہے، جو رنز کے انبار اور وکٹوں کے ڈھیر لگا کر ایک، ایک ڈیڑھ سال کے لیے اپنی سلیکشن ثابت کردیتے ہیں، جبکہ ناتجربہ کھلاڑی کہ جنہیں ایسی سیریز سے بین الاقوامی کرکٹ کا انتہائی ضروری تجربہ ملنا چاہیے، بس ہاتھ ہی ملتے رہ جاتے ہیں، یا پھر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے خلاف میدان میں اتار کر ہمیشہ کے لیے باہر کردیے جاتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی کارکردگی ہمیشہ ہی مایوس کُن رہی ہے۔ آج تک کھیلے گئے 26 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان نے 'پروٹیز' کے خلاف صرف 4 فتوحات حاصل کی ہیں اور 15 میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ ٹیسٹ کھیلنے والے کسی بھی ملک کے خلاف قومی ٹیم کی سب سے خراب کارکردگی ہے۔

پاکستانی ٹیم کی اتنی بُری کارکردگی تو آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف بھی نہیں رہی۔ آخری بار جب 2007ء میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، تب بھی پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-1 سے شکست ہوئی تھی۔ لہٰذا ایسے ملک کے خلاف سلیکشن میں نوآموز کھلاڑیوں کے انتخاب کا مطلب ہے انہیں ’پہلا اور آخری موقع‘ دینا۔ سخت حریف کے خلاف جب خراب نتیجہ آتا ہے تو سب سے پہلے نزلہ ان نوآموز کھلاڑیوں پر ہی اترتا ہے، کیونکہ ان پر غصہ اتارنا ذرا آسان ہوتا ہے۔

پھر بیرونِ ملک کارکردگی کو بنیاد بناکر ہوم سیریز کے لیے اسکواڈ منتخب کرنے کا مسئلہ ہے۔ ویسے تو معاملہ اس سے بھی گمبھیر ہے کہ ٹی20 پرفارمنس کو بنیاد بناکر ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرلیا جاتا ہے اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں اچھی کارکردگی کی بدولت قومی ٹیم میں آنے کی مثالیں بھی موجود ہیں لیکن ہم بات کو پھیلائے بغیر فی الحال ٹیسٹ پر ہی نظر مرکوز رکھتے ہیں۔

محمد عباس کو نکال کر حارث رؤف کو پہلی بار ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسے حارث رؤف جو جانے مانے ٹی20 اسپیشلسٹ ہیں، اور ان کا فرسٹ کلاس کرکٹ کا کُل تجربہ صرف 3 میچوں تک محدود ہے اور انہوں نے آخری بار کوئی فرسٹ کلاس 2019ء میں کھیلا تھا۔ بلاشبہ عباس کی حالیہ کارکردگی اتنی متاثر کُن نہیں تھی لیکن 'ہوم سیریز' انہیں فارم میں واپس آنے اور جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا تجربہ آزمانے کا موقع ضرور دیتی لیکن سلیکشن کمیٹی نے انہیں اس سے محروم کردیا۔

پھر شان مسعود نیوزی لینڈ کے انتہائی بھیانک دورے کے بعد ٹیم سے باہر ہوئے ہیں، جہاں انہوں 4 اننگز میں صرف 10 رنز بنائے تھے۔ یہ 10 رنز بھی ایک ہی اننگ میں بنائے گئے تھے، باقی 3 اننگز میں تو وہ صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ بلاشبہ اس کارکردگی کا کوئی جواز نہیں اور اس کے بعد ٹیم سے اخراج بھی بنتا ہے لیکن شان کی گزشتہ سال کی کارکردگی اتنی بُری نہیں تھی۔

اب جب ہمیں ہوم سیریز میں، بیٹسمین فرینڈلی وکٹوں پر اور جنوبی افریقہ کے مضبوط باؤلنگ اٹیک کے خلاف تجربہ کار اوپنر کی ضرورت تھی تو اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے سلیکشن کمیٹی نے جن اوپنرز کا انتخاب کیا ہے وہ ہیں، عابد علی، عبد اللہ شفیق اور عمران بٹ۔ جن میں سے صرف عابد علی ہی ٹیسٹ کرکٹ کا کچھ تجربہ رکھتے ہیں، باقی دونوں نے کبھی انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی۔

مڈل آرڈر میں ہمیں اظہر علی اور فواد عالم کے ساتھ صحتیاب ہو کر واپس آنے والے کپتان بابر اعظم بھی نظر آتے ہیں جبکہ کامران غلام، سلمان علی آغا اور سعود شکیل ان کا ساتھ دیں گے، تو کسی حد تک یہاں استحکام ضرور نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ مڈل آرڈر کمزور ٹاپ آرڈر کی وجہ سے پڑنے والے دباؤ کو سہہ پائے گا؟ اس کا اندازہ ابھی سے لگانا مشکل ہے۔

باؤلنگ کے شعبے میں ہمیں حسن علی ایک مرتبہ پھر واپس آتے نظر آئے ہیں حالانکہ حالیہ قائدِاعظم ٹرافی میں ان کی کارکردگی انتہائی غیر معمولی رہی ہے۔ پھر حارث رؤف کے ساتھ شاہین آفریدی بھی ہوں گے جبکہ تابش خان کو بالآخر ٹیسٹ اسکواڈ میں طلب کرلیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس قدر تاخیر سے کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کو 'دیر آید، درست آید' بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ جب تابش کو منتخب کرنے کا وقت تھا تو کسی کی نظرِ کرم ان پر نہیں پڑی اور جب تابش کی عمر 36 سال ہے۔

پھر اسپن باؤلنگ کا شعبہ ہے جہاں یاسر شاہ کے ساتھ ہمیں دو نئے نام ساجد خان اور نعمان علی مہر نظر آتے ہیں جنہیں حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر 20 رکنی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ گو کہ تابش خان کی طرح ان کے بھی فائنل الیون تک پہنچنے کے امکانات کم ہی ہیں۔

پاکستان آئندہ چند روز میں اس 20 رکنی ٹیم کو 16 تک محدود کردے گا یعنی 4 کھلاڑی اس میں سے باہر ہوجائیں گے۔ 26 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم میں پروٹیز کا مقابلہ کرنے کے لیے اترنے والی فائنل الیون کون سی ہوگی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن دستیاب وسائل کو دیکھیں اور اس حریف کے خلاف کارکردگی کی تاریخ کو مدِنظر رکھیں تو سیریز کے نتیجے کا اندازہ لگانا مشکل نہیں لگتا۔

دل تو یہی چاہتا ہے کہ یہ کھلاڑی بہترین کارکردگی دکھائیں اور پاکستان کو 2003ء کی طرح جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز جتوائیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ان کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی کہ جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھرپور کارکردگی دکھائی اور ایک غلط سیریز میں منتخب ہوگئے۔