کورونا کی مزید 2 ویکسینز کی منظوری کیلئے اقدامات تیز کیے جارہے ہیں، کابینہ کمیٹی

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2021

ای میل

عمران خان نے منظور شدہ ویکسینز کے حصول اور فراہمی کے حوالے سے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایات دیں — فوٹو: پی آئی ڈی
عمران خان نے منظور شدہ ویکسینز کے حصول اور فراہمی کے حوالے سے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایات دیں — فوٹو: پی آئی ڈی

کورونا ویکسین کے حصول کے حوالے سے قائم کابینہ کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وائرس کی مزید 2 ویکسینز کی منظوری کیلئے اقدامات کو تیز کیا جارہا ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں کورونا ویکسین کے حصول کے حوالے سے قائم کابینہ کی کمیٹی نے انہیں بریفنگ دی۔

کمیٹی ارکان نے وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں دو ویکسینز کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مزید ویکسینز کی منظوری کے لیے اقدامات کو فاسٹ ٹریک کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ منظور شدہ دو ویکسینز کی حصولی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ویکسینز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

عمران خان نے منظور شدہ ویکسینز کے حصول اور فراہمی کے حوالے سے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایات دیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ایک اور کووڈ-19 ویکسین کی منظوری

اجلاس میں وزیر صنعت محمد حماد اظہر، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر شریک تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے چینی سرکاری کمپنی سائنوفام کی تیار کردہ ایک اور کووڈ 19 ویکسین کی منظوری دے دی تھی۔

ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈاکٹر عاصم رؤف نے ڈان سے گفتگو میں بتایا تھا کہ قومی اداہ صحت (این آئی ایچ) نے اپنے نام پر سائنوفام کی ویکسین رجسٹرڈ کروائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ منظوری ہنگامی استعمال کے لیے دی گئی ہے اور اس سے ویکسین پاکستان لانے میں راہ ہموار ہوگی‘۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان پہلے ہی سائنوفام کی کووڈ 19 ویکسین کی 11 لاکھ خواروں کی پیشگی بکنگ کرچکا ہے اور ڈریپ کی جانب سے اس کی منظوری کے بعد اس کی درآمد کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں استعمال کیلئے منظور کی جانے والی چینی ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

قبل ازیں 16 جنوری کو ڈریپ نے ایسٹرازینیکا کی کووڈ 19 ویکسین کی پاکستان میں ہنگامی استعمال کی اجازت دی تھی۔

پی ایم اے نے ایک بیان میں کہا کہ ڈریپ نے مبینہ طور پر ایسٹرازینیکا کی ویکسین منظور کی جو بھارت کی جانب سے تیار کی جارہی ہے، پاکستان 20 فیصد آبادی کے لیے یہ ویکسین کوویکس کے ذریعے حاصل کرے گا۔