بچوں کو ابتدائی تعلیم کس زبان میں دیں؟

22 جنوری 2021

ای میل

لکھاری لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور کے ویزیٹنگ فیلو ہیں۔
لکھاری لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور کے ویزیٹنگ فیلو ہیں۔

ملک کے کچھ صوبوں میں مقامی یا صوبائی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر صوبوں میں اردو، انگریزی یا پھر دونوں زبانوں کا استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں ہی زبانوں کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں یہ بحث ہوتی ہے کہ اگر انگریزی ذریعہ تعلیم نہیں ہے تو کیا اسے نصاب میں شامل کرنا ضروری ہے؟

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اردو زبان کی طرح انگریزی زبان کو بھی ابتدائی تعلیم کا حصہ ہونا چاہیے، جبکہ کچھ دیگر افراد کا خیال ہے کہ انگریزی زبان کو چھٹی جماعت کے نصاب میں شامل کرنا چاہیے تاکہ اس وقت تک بچے کی گرفت اردو زبان اور اپنی مادری زبان پر مضبوط ہوجائے۔

ذریعہ تعلیم کے حوالے سے ہماری پالیسی ایک ادھیڑ بن کا شکار ہے۔ ہم اس بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کر سکے کہ ہمیں اپنے بچوں کو کون سی زبانیں پڑھانی ہیں اور انہیں کس زبان میں کب اور کس طرح تعلیم دینی ہے۔

ہم نے ذریعہ تعلیم اور زبان سکھانے کو آپس میں ملا دیا ہے۔ اردو یا انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ طلبہ کوئی مضمون پڑھتے ہوئے وہ زبان بھی سیکھ رہے ہوں گے جس میں انہیں تعلیم دی جارہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک بچہ وہ زبان نہ سیکھے اور نہ ہی وہ مضمون سمجھ سکے۔ اگر ہم سائنس کا مضمون انگریزی میں پڑھانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو پہلے سے انگریزی آتی ہو۔ ایک بچے سے یہ امید رکھنا کہ وہ کوئی مضمون سیکھنے کے ساتھ ساتھ اس زبان کو بھی سیکھے جس میں اسے تعلیم دی جارہی ہے تو یہ اس کو اور اس کے اساتذہ کو مشکلات اور ناکامی کے راستے پر ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

مزید پڑھیے: بچے کو ابتدائی تعلیم انگریزی میں کیوں نہیں دینی چاہیے

تعلیم کے حوالے سے کچھ باتیں ایسی ہیں جو تحقیق سے ثابت ہیں۔ بچے اس صورت میں بہتر طور پر سیکھتے ہیں جب انہیں اسی زبان میں تعلیم دی جائے جسے وہ سمجھتے ہوں۔ یہ ایک ظاہری سی بات ہے لیکن پھر بھی اس پر زور دیا جانا چاہیے۔

ابتدائی برسوں میں ذریعہ تعلیم وہ زبان ہوسکتی ہے جسے بچے گھر میں استعمال کرتے ہیں اور پاکستان میں یہ عمومی طور پر علاقائی یا مقامی زبانیں ہوتی ہیں۔ بچے کئی زبانوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ انگریزی یا اردو زبان سیکھنا چاہے تو اسے یہ زبانیں ایک مضمون کے طور پر پڑھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن ابتدائی برسوں سے لے کر اس وقت تک کہ جب بچہ دیگر زبانوں کے حوالے سے مشکل کا سامنا نہ کرے، اس کا ذریعہ تعلیم اس کی مادری زبان ہی ہونی چاہیے۔

والدین کی ترجیحات پر ہونے والی تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ اکثر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں مہارت رکھتا ہو۔ ان دونوں زبانوں کو ہی معاشرتی اور معاشی ضامن کی صورت میں دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر انگریزی زبان کو معاشرتی اور معاشی ترقی کے حوالے سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے تجربات سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کے حوالے سے والدین کے خیالات غلط نہیں ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ابتدائی تعلیم میں مقامی یا علاقائی زبانوں کو ہی ذریعے تعلیم بنائیں (دیگر زبانیں سکھانے کے لیے بھی),انگریزی اور اردو زبان کو ایک مضمون کی طرح پڑھائیں اور پھر ایک ایسی سطح پر جب ہم یہ دیکھیں کہ بچہ کسی دوسری زبان کو اختیار کرسکتا ہے، تب ذریعہ تعلیم اس کی مقامی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

یہ ایک آسان کام نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اسے پیچیدہ بنادیا ہے۔ آج بھی کئی صوبے ایسے ہیں جو ابتدائی تعلیم کے لیے مقامی زبانوں کو اہمیت نہیں دیتے اور اس کے لیے اردو یا انگریزی کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے کہ کس سطح پر انگریزی زبان متعارف کروانی چاہیے (کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ اسے چھٹی جماعت میں متعارف کروایا جائے)، ہمارے پاس اس بارے میں بھی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ آیا ہمیں ابتدائی تعلیم کے بعد ذریعہ تعلیم کو مقامی زبان سے تبدیل کرکے انگریزی یا اردو میں کرنا چاہیے یا نہیں اور اگر ہمیں ایسا کرنا چاہیے تو یہ کام کس سطح پر کیا جائے؟

لیکن جو چیز اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے وہ معیار تعلیم ہے۔ ذریعہ تعلیم سے قطع نظر ہمارے اکثر طلبہ جس معیار کی تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ غیر تسلی بخش ہے۔

مزید پڑھیے: معیاری تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے یا افراد کی؟

10 سالہ تعلیم کے بعد زبان کے حوالے سے ہمارے طلبہ کی صلاحیت بہت بُری ہوتی ہے۔ اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ میٹرک کے بعد بھی طلبہ درست انگریزی نہیں لکھ سکتے لیکن یہ بات اردو اور دیگر زبانوں کے حوالے سے بھی درست ہے۔ ہم طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم نہیں کر رہے۔ تاریخی طور پر ہم ذریعہ تعلیم کو اس بنا پر تبدیل کرتے رہے ہیں کہ طلبہ کو اردو یا انگریزی میں مشکل پیش آتی ہے۔ لیکن جب ہم ایک زبان کو درست طریقے سے پڑھائیں گے ہی نہیں تو ظاہری بات ہے کہ بعد میں اس زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے سے مشکلات جنم لیں گی۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ذریعہ تعلیم کے لیےکون سی زبان بہتر ہے بلکہ ہمیں اس ضمن میں معیار تعلیم کو بھی اہمیت دینی ہوگی۔

اپنی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ہمیں تحقیق سے ثابت شدہ طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ طریقہ یہی ہے کہ ابتدائی برسوں میں مادری زبان یا گھر پر بولی جانے والی زبان کو ہی ذریعہ تعلیم ہونا چاہیے۔

اس دوران دیگر زبانوں کو ایک مضمون کے طور پر پڑھانا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ذریعہ تعلیم کو مقامی زبان سے تبدیل کرکے دوسری زبان میں کردینا چاہیے۔ لیکن ہمیں جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ معیار تعلیم ہے۔

آخر کیوں صوبوں کو ذریعہ تعلیم کے حوالے سے ایک مربوط اور مستقل پالیسی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے؟ (یاد رہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم اور ذریعہ تعلیم ایک صوبائی معاملہ بن گیا ہے۔

اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے، تاہم ایک جزوی وضاحت یہ ہوسکتی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اردو اور انگریزی دونوں میں ماہر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کم فیسوں والے نجی اسکول معیار تعلیم کے مسائل کی وجہ سے اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اور جب بھی ابتدائی سالوں میں مقامی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بات کی جاتی ہے تو والدین اس کو انگریزی یا اردو زبان میں تعلیم دینے کے وعدے سے متصادم سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے ریاست والدین کی مرضی کو پورا کرنے کے لیے ذریعہ تعلیم کو انگریزی اور اردو کے مابین تبدیل کرتی رہتی ہے لیکن پھر وہی بات کہ معیار تعلیم بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اس کام میں بھی ناکام رہتی ہے۔

ہمیں ذریعہ تعلیم کے حوالے سے پالیسی پر عمل کے لیے ابھی مزید ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ذریعہ تعلیم کی پالیسی میں ان چیزوں کو تو واضح ہونا چاہیے کہ ابتدائی تعلیم مقامی زبان میں دی جائے اور اس دوران بچوں کو دیگر زبانیں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جائیں، اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو ذریعہ تعلیم انہی میں سے کسی زبان کو بنادیا جائے۔ لیکن یہاں کے سیاسی اور معاشی حالات اور خاص طور پر تعلیمی انفرااسٹرچر کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے جس نے اس کام کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔ کیا ہمارے بچوں کو ہماری نااہلی کی سزا بھگتنا ہوگی؟


یہ مضمون 22 جنوری 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔