سینیٹائزر بچوں کی آنکھوں کے لیے خطرناک قرار

22 جنوری 2021

ای میل

سینیٹائزر کے بجائے بچوں کے لیے صابن استعمال کیا جائے، ماہرین—فوٹو: alamy
سینیٹائزر کے بجائے بچوں کے لیے صابن استعمال کیا جائے، ماہرین—فوٹو: alamy

دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والی کورونا کی وبا سے تحفظ کے لیے ماہرین صحت شروع سے ہی ہینڈ سینیٹائزر اور فیس ماسک کے استعمال پر زور دیتے آئے ہیں۔

تاہم ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سینیٹائزرز کا غلط استعمال بچوں کی آنکھوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے اور بعض سینیٹائزرز بے حد خطرناک ہوتے ہیں۔

طبی جریدے جاما نیٹ ورک میں شائع ایک تحقیق کے مطابق سینیٹائزرز کے ڈراپس براہ راست آنکھوں میں جانے یا سینیٹائزر کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو آنکھوں سے لگانے سے بچوں کے لیے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

فرانسیسی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ اپریل سے لے کر اگست 2020 تک سینیٹائزر استعمال کرنے والے زیادہ تر بچوں کی آنکھوں کے پردے (کورنیا)پھٹ گئے اور ہنگامی بنیادوں پر ان کی سرجری کرنی پڑی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں سینیٹائزر پینے سے 9 افراد ہلاک

تحقیق میں بتایا گیا کہ جن بچوں کی آنکھوں کے کورنیا پھٹے ان میں سے زیادہ تر بچوں کی آنکھوں میں سینیٹائزرز کے ڈراپس چلے گئے تھے، تاہم بعض بچوں نے سینیٹائزر کے استعمال کے بعد آنکھوں پر ہاتھ بھی لگائے تھے۔

مذکورہ تحقیق میں بھارتی ماہرین نے بھی فرانسیسی ماہرین کی معاونت کی اور انہوں نے بھی ایسے واقعات بتائے، جن سے ثابت ہوا کہ سینیٹائزر بچوں کی آنکھوں کے لیے خطرناک ہوتےہیں۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر سینیٹائزرز میں الکوحل کی ہلکی قسم ایتھنول یا ایتھنائل ہوتی ہے، جسے عام طور پر مشروبات میں بھی آمیزش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ اس مادے میں شامل بعض ذرات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ وہ آنکھوں کے پردوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ماہرین نے تجویز دی کہ بچوں کو سینیٹائزر کے بجائے صابن استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے یا پھر سینیٹائزر کے بعد سادہ پانی سے بچوں کے ہاتھ دھو دیے جائیں۔

سینیٹائزر کے استعمال میں اضافے کے بعد بچوں کی آنکھوں کے پردے جلنے کے واقعات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
سینیٹائزر کے استعمال میں اضافے کے بعد بچوں کی آنکھوں کے پردے جلنے کے واقعات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک