پی ٹی آئی کا سینیٹ انتخابات سے متعلق آئینی ترمیمی پیکیج لانے کااعلان

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2021

ای میل

بابر اعوان نے آئینی ترمیم کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا—فوٹو: ڈان نیوز
بابر اعوان نے آئینی ترمیم کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کہا ہے کہ سینیٹ کی توقیر کے لیے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ آئین کے اندر تین اصلاحات کے لیے آئینی پیکج تیار کیا گیا ہے جس کو اگلے ہفتے کے شروع میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے وزیراعظم کے مشیر بابراعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی اس بات پر قائل رہی ہے کہ انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے وہ ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیں: 'اپوزیشن نے سینیٹ میں صحافیوں کے تحفظ کے بل کی مخالفت کی'

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں ہم نے خیر پختونخوا میں اپنے 20 اراکین اسمبلی کو نکال دیا تھا کیونکہ ان پر شبہ تھا کہ انہوں نے اپنے ووٹ کا غلط استعمال کیا اور ایسے ٹرانزیکشنز ہوئیں جو قابل قبول نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی ماضی اور حال میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے، ہماری یہ کوشش اس مقصد کے حصول کے لیے ہے کہ سینیٹ اور دیگر انتخابات شفاف ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ آنے والے انتخابات بھی شفاف طریقے سے ہوں اور اس کے لیے جو بھی قانونی لوازمات کی ضرورت پڑے وہ کر رہے ہیں، وزیراعظم کا اس بات پر زور ہے کہ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں تاکہ یہ مقصد حاصل ہو سکے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس بھی ایک موقع ہے کہ وہ اس مقصد کو کامیاب بنائیں لیکن مجھے نہیں لگتا کیونکہ انہوں نے پہلے بھی نہیں کیا اور اب بھی نہیں کریں گے، میثاق جمہوریت کے 22 نکتے پر بھی انہوں نے اتفاق کیا تھا۔

'تاریخ میں پہلی مرتبہ آئینی پیکیج تیار کیا ہے'

وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے قانونی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ طویل ملاقاتوں کے بعد بڑی محنت سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ آئین کے اندر تین اصلاحات کے لیے آئینی پیکج تیار کیا ہے۔

ان کہنا تھا کہ کچھ اطلاعات بھی ہمارے پاس ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے ریٹس نکالے گئے ہیں، ہاؤس آف فیڈریشن کو متنازع بنانے کے لیے ہمیشہ ضمیر خریدے گئے اور ووٹ بیچے گئے اس لیے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اور پارٹی کی طرف سے ہم پاکستان کی ساری سیاسی اشرافیہ جو پارلیمنٹ کے اندر ہیں خواہ ان کے پاس تھوڑے ووٹ ہیں یا زیادہ ووٹ ہیں، ان سب کے لیے ٹیسٹ کیس لے کر جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات پر صدارتی ریفرنس: حکومت سندھ کی اوپن بیلٹ کی مخالفت

انہوں نے کہا کہ سارے لوگوں نے ہمیشہ کہا کہ انتخابات شفاف ہونے چاہیے لیکن 1975 میں جو الیکشن ایکٹ بنا اس کے بعد آج تک انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا کیونکہ حکومت کو سازگار ہوتا ہے کہ گڑ بڑ ہوئی تو دوسری پارٹیوں کے ناراض ارکان کو خرید کر اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں۔

بابراعوان کا کہنا تھا کہ ہم احتساب کے لیے پاکستان کی ساری پارلیمانی اور سیاسی جماعتوں کو روڈ میپ دے رہے ہیں کہ آئیے اس راستے ہم سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ کی خرید و فروخت کو روک سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو جمہوریت سے وابستگی اور کرپشن کے ذریعے سے سینیٹ انتخابات کو خراب کرنے سے بچانے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اور جن کو پیسے کمانے ہوں وہ ہمارے آئینی اصلاحات کی حمایت نہیں کریں گی اور جو آئین، دستور، وفاق اور جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں ان کو خوش آمدید کہیں گے اور کہیں گے اس کے حق میں ووٹ دیں۔

ترمیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے تین حصے ہیں جو بل ہے اور اس کو اگلے ہفتے کے شروع میں پارلیمنٹ لے کر جا رہے ہیں۔

پہلی ترمیم

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 59 دو میں ایک ترمیم لا رہے ہیں، آج تک 1973 کے آئین کے مطابق واحد قابل منتقل ووٹ ہے لیکن ہم اس کے بجائے اوپن ووٹ کا لفظ استعمال کررہے ہیں اور پہلی مختصر سی ترمیم یہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح ووٹنگ چھپی ہوئی نہیں رہے گی، میثاق جمہوریت اور سارے نعرے لگائے جاتے ہیں، ہم نے ان نعروں کو جمع کر کے ایک قومی ایجنڈا بنا دیا ہے تاکہ آنے والے سارے زمانوں میں سینیٹ کی توقیر ہو۔

دوسری ترمیم

بابراعوان کا کہنا تھا کہ دوسرا حصے میں ہم آئین کے آرٹیکل 63، جس میں لکھا ہوا ہے نااہلیت کیا کیا ہوتی ہے اور اس میں ایک کا ذیلی پیرا سی کی ترمیم کر رہے ہیں۔

دوسری ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کیا گیا وعدہ کیا جو سات سمندر پار محنت کرتے ہیں اور وہ محنت قومی خزانے کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، صرف ایک آرٹیکل میں ترمیم کرکے پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانی دوہری شہریت کے باوجود انتخابات لڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے لکھا ہوا تھا کہ کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے والا نااہل ہے اور الیکشن نہیں لڑے گا جبکہ ہم نے ترمیم کی ہے کہ جس کے پاس دوہرہ شہریت ہوگی وہ الیکشن لڑے گا لیکن اپنا عہدہ جب وہ رکن صوبائی، قومی اسمبلی یا سینیٹر بنے گا تو عہدے کی اصل عمر اس وقت سے شروع ہوگی جب وہ حلف لے گا اور حلف لینے سے پہلے دوہرہ شہریت ترک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں دے کیونکہ ہارنے کی صورت میں ان کو شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

تیسری ترمیم

انہوں نے کہا کہ تیسری ترمیم آئین کے آرٹیکل 226 میں ہے، جس میں لکھا گیا کہ وزیراعظم اور فلاں فلاں عہدوں کا انتخاب اوپن ہوگا اور ہم نے اس لائن میں صرف سینیٹ کا لفظ ڈالا ہے جس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات بھی ووٹ کے ذریعے قابل شناخت ہو سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مٹھی گڑ بند کرکے توڑنے کے قائل نہیں ہیں کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ کیا ہوا ہے، وہی تاجر ریٹ لگا رہے ہیں جن کا رخ پہلے چھوٹے صوبو کی طرف ہوتا تھا اب پنجاب میں بھی ریٹس نکالنے شرو ع کیے جو پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔

بابراعوان نے کہا کہ اس کا راستہ روکنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے، پہلا طریقہ وہ تھا جس ہم سپریم کورٹ میں ریفرنس لے کر گئے تو کئی لوگوں نے اعتراض کیا اور ان میں سے اکثریت اب پہچانی جائے گی وہ ترمیم کے حق میں کھڑے ہیں یا مخالف کھڑے ہیں کیونکہ ہم پارلیمنٹ میں جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے پچھلے انتخابات میں ایک پارٹی کے پاس جتنے ووٹ تھے اتنے سینیٹر آگئے تو باقی کے ووٹ کے لیے ضمیر خریدے گئے، ایسا ناجائز اورکالا دھن تھا وہ لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں موجود دونوں جماعتوں میں سے ایک جماعت نے دوسری سے کھل کر کہا کہ ہم بلوچستان میں تمھاری حکومت توڑ کر دکھائیں گے اور پھر بلوچستان میں حکومت ٹوٹی، وہ حکومت کسی بد دعا کے نتیجے میں نہیں ٹوٹی تھی۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 23 دسمبر کو صدر مملکت کی منظوری کے بعد سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کی منظوری دی اور ریفرنس پر دستخط کیے تھے۔

عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں صدر مملکت نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی تجویز مانگی ہے۔

ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے رائے دی جائے۔