سعودیہ: دنیا کے مہنگے گھڑ دوڑ مقابلوں میں خواتین ملبوسات کے جلوے

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

ہندا سیرافی خود بھی ماڈلنگ کرتی دکھائی دیں — فوٹو: انسٹاگرام
ہندا سیرافی خود بھی ماڈلنگ کرتی دکھائی دیں — فوٹو: انسٹاگرام

اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب میں ہر سال ہونے والے دنیا کے مہنگے اور بڑے گھڑ دوڑ مقابلے میں اس بار دوڑ کے بجائے خواتین کے فیشن کو زیادہ توجہ حاصل رہی۔

سعودی عرب کے اخبار ’سعودی گزٹ‘ کے مطابق دنیا کے مہنگے ترین گھڑ دوڑ ایونٹ کے مقابلے 20 سے 21 فروری تک جاری رہے اور مقابلے کے آخر میں حیران کن طور پر سعودی عرب کے گھوڑے نے امریکی گھوڑے کو شکست دے دی۔

’سعود کپ‘ کے نام سے ہونے والی اس گھڑ دوڑ میں سعودی عرب اور امریکا سمیت دیگر یورپی و خلیجی ممالک کے گھڑ سواروں نے مقابلے میں حصہ لیا۔

گھڑ دوڑ میں امریکی گھوڑے ’شارلٹن‘ (Charlatan) کو فیورٹ سمجھا جا رہا تھا اور خیال کیا جا رہا تھا کہ وہی فائنل جیتے گا تاہم حیران کن طور پر اسے سعودی عرب کے گھوڑے نے شکست دے دی۔

’سعودی کپ‘ کے فائنل میں سعودیہ کے گھوڑے ’مشرف‘ (Mishriff) نے سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کپ اپنے نام کیا، اس گھوڑے پر سعودیہ کے عدل الفیرودی سوار تھے۔

’سعودی کپ‘ کا مقابلہ ریاض کے کنگ عبدالعزیز گراؤنڈ میں منعقد ہوا اور فائنل کے موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

مقابلہ جیتنے والے گھڑ سوار کو سعودی ولی عہد نے 2 کروڑ ڈالر کی نقد رقم اور ایوارڈ سے نوازا۔

تاہم دنیا کے مہنگے ترین گھڑ دوڑ مقابلے میں اس بار گھوڑوں کی ریس سے زیادہ عرب خواتین کے ملبوسات کے جلوے توجہ کا مرکز رہے اور خواتین نے بھی گھڑ ریس سے موقع اٹھاتے ہوئے نت نئے فیشن متعارف کرادیے۔

گھڑ دوڑ مقابلوں میں خواتین توجہ کا مرکز رہیں—فوٹو: عرب نیوز
گھڑ دوڑ مقابلوں میں خواتین توجہ کا مرکز رہیں—فوٹو: عرب نیوز

اسی حوالے سے عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ’سعودی کپ‘ کے موقع پر عرب کے روایتی انداز کے خواتین کے ملبوسات توجہ کا مرکز رہے۔

’سعودی کپ‘ کے دوران متعدد خواتین فیشن ڈیزائنرز نے اپنی روایتی اور جدید ملبوسات پیش کیں اور فیشن ڈیزائنرز کی ملبوسات پہن کر گھڑ دوڑ کے مقابلوں میں آنے والی خواتین سب کی توجہ کا مرکز رہیں۔

خواتین نے جسم کو مکمل ڈھانپنے والے لباس پہن رکھے تھے—فوٹو: عرب نیوز
خواتین نے جسم کو مکمل ڈھانپنے والے لباس پہن رکھے تھے—فوٹو: عرب نیوز

اگرچہ اب سعودی عرب میں مرد و خواتین کے مشترکہ اسپورٹس، فیشن اور شوبز ایونٹس بھی ہوتے ہیں تاہم پہلی بار سعودی کپ میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نے نہ صرف شرکت کی بلکہ اس بار خواتین نے گھڑ ریس کے دوران فیشنی ملبوسات بھی متعارف کرائے۔

دو رزہ مقابلوں کے دوران ہی فیشن ڈیزائنرز نے اپنی ملبوسات پیش کیں اور پہلے روز ہندا سیرافی نے اپنی ملبوسات متعارف کرائیں اور وہ خود بھی اپنا لباس پہن کر جلوے بکھیرتی دکھائی دیں۔

بعض خواتین نے برطانوی گھڑ دوڑ مقابلوں کی طرز کے کیپ بھی پہن رکھے تھے—فوٹو: عرب نیوز
بعض خواتین نے برطانوی گھڑ دوڑ مقابلوں کی طرز کے کیپ بھی پہن رکھے تھے—فوٹو: عرب نیوز

علاوہ ازیں مقابلوں کے دوران 29 سالہ ڈلما ملہاس بھی ملبوسات میں جلوے بکھیرتی دکھائی دیں جب کہ ہالا الحارثی اور دیگر خواتین بھی جدید و فیشن ایبل ملبوسات میں دکھائی دیں۔

لباس کے ساتھ مختلف ڈیزائن کے عبائے بھی متعارف کرائے گئے—فوٹو: عرب نیوز
لباس کے ساتھ مختلف ڈیزائن کے عبائے بھی متعارف کرائے گئے—فوٹو: عرب نیوز