آخر وہ کون سی ’گیدڑ سنگھی‘ تھی جس کی بدولت کوئٹہ جیت گیا؟

04 مارچ 2021

بدھ کا دن پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2021ء کے لیے ایک منفرد دن ثابت ہوا، ایک طرف جہاں کراچی کنگز نے پشاور زلمی کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ روکا، وہیں 'کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے' کہ بالآخر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنا پہلا مقابلہ جیت ہی لیا، وہ بھی ہدف کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے۔ یعنی یک نہ شد، دو شد!

پی ایس ایل 6 کے ابتدائی تمام 13 میچوں میں جس ٹیم نے ٹاس جیتا، اس نے پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور پھر جو بھی ہدف ملا، حاصل کرلیا۔ چاہے بہت آسانی سے یا گرتے پڑتے اور بہت مشکل سے۔ ہدف 119 رنز ہو یا 199، کامیابی نے تعاقب کرنے والی ہر ٹیم کے قدم چومے۔ خود کوئٹہ ایک مرتبہ 198 رنز بنانے کے باوجود ہار گیا تھا۔

سیزن کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ مکمل ہو نے کے بعد ایسے نتائج سے ایک یکسانیت اور اکتاہٹ پیدا ہوگئی تھی۔ بالآخر ہوا کا یہ تازہ جھونکا آیا اور مسلسل 4 میچ ہارنے والے کوئٹہ نے ناصرف اپنی پہلی کامیابی حاصل کی بلکہ ہدف کا دفاع کرکے بھی دکھا دیا۔

پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 14ویں اوور تک تو حالات قابو میں لگتے تھے، اسکور بورڈ پر 122 رنز موجود تھے اور صرف ایک وکٹ گری تھی، لیکن آخری 37 گیندوں پر 54 رنز ہی بنے اور کوئٹہ نے 7 وکٹیں گنوا دیں۔ لگتا تھا کہ یہی مرحلہ فیصلہ کُن ثابت ہوگا کیونکہ گلیڈی ایٹرز بُری طرح مقابلے سے باہر جاتا نظر آ رہا تھا۔ لیکن پھر حیران کُن طور پر ملتان کو 154 رنز پر ڈھیر کردیا اور مقابلہ 22 رنز سے جیت لیا۔

آخر وہ کون سی ’گیدڑ سنگھی‘ تھی جس کی بدولت کوئٹہ جیت گیا؟ جی ہاں! اس مقابلے میں کوئٹہ ذرا مختلف حکمتِ عملی کے ساتھ کھیلا۔ اس نے ملتان کے لیے ایک 'اسپن جال' تیار کیا جو واقعی اس میں پھنس بھی گیا۔

ایسی وکٹوں پر جہاں فاسٹ باؤلرز کو بے دریغ مار پڑ رہی تھی۔ کوئٹہ کے باؤلرز کا حال تو خاص طور پر بہت بُرا نظر آیا تھا، جیسے ڈیل اسٹین نے ہر اوور میں اوسطاً 9.18 رنز کھائے ہیں، عثمان شنواری تو 10.60 اور بین کٹنگ 12.68 کا بھیانک اکانومی ریٹ رکھتے ہیں۔

ان کے مقابلے میں اسپن باؤلرز کی ’پٹائی‘ ذرا کم ہوئی ہے۔ کوئٹہ نے اسی پہلو کو پکڑا اور میچ میں 3 اسپنرز کے ساتھ اتر گئے۔ ایک طرف محمد نواز اور زاہد محمود تھے اور پھر نسیم شاہ کو باہر بٹھا کر ان کی جگہ افغان اسپنر قیس احمد کو بھی میدان میں اتار دیا اور وہی ترپ کا پتّا ثابت ہوئے۔

قیس نے تو براہِ راست ملتان کے قلب یعنی مڈل آرڈر پر وار کیا۔ پہلے جیمز وِنس کو آؤٹ کیا، پھر اس میچ کے لیے خاص طور پر کھلائے گئے شان مسعود کو ٹھکانے لگایا اور پھر رائلی روسو کی قیمتی وکٹ حاصل کرکے ملتان کی پیشرفت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا۔ قیس نے اپنے 4 اوورز میں صرف 21 رنز دیے اور 3 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

دوسرے اینڈ سے محمد نواز نے بھی بہترین کفایتی باؤلنگ کی اور صرف 23 رنز دے کر صہیب مقصود کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔

تیسرے اسپنر زاہد محمود نے اپنے اوورز میں 39 رنز تو کھائے، لیکن آخر میں ہیٹ ٹرک کرتے کرتے رہ گئے۔ اگر بین کٹنگ ایک آسان کیچ نہ چھوڑتے تو زاہد پی ایس ایل میں ہیٹ ٹرک کروانے والے باؤلرز میں نام لکھوا لیتے۔ بہرحال، ان کے لیے اتنا کافی نہیں کہ انہیں کپتان سرفراز احمد نے شاباشی دی؟ یہ ’اعزاز‘ تو اب تک کوئٹہ کے کسی باؤلر کو نہیں ملا۔

کوئٹہ کی اس کامیابی میں ایک کھلاڑی کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے، اور وہ ہیں کیمرون ڈیلپورٹ کی جگہ کھلائے گئے نوجوان عثمان خان۔ انہوں نے صرف 50 گیندوں پر 3 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 81 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر کوئٹہ کی جیت کی بنیاد رکھی۔ عثمان اپنے پی ایس ایل ڈیبیو پر ہی سنچری بنا جاتے، لیکن ریورس سوئپ کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے۔

گوکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے یہ کامیابی سکھ کا سانس ثابت ہوگی، لیکن اب بھی کوئٹہ کو بہت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ وہ اپنے آدھے یعنی 5 میچ کھیل چکا ہے اور صرف 2 پوائنٹس کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔ پھر ایک اور افسوسناک خبر یہ بھی ہے کہ اس سیزن کے لیے گلیڈی ایٹرز کی 'ڈائمنڈ پِک' ٹام بینٹن کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں، جس کا اعلان انہوں نے خود ٹوئٹر پر کیا ہے۔ اس لیے کوئٹہ کو اب پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوں گے۔

گوکہ ملتان سلطانز کا حال بھی کچھ مختلف نہیں، لیکن پھر بھی انہیں نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے گلیڈی ایٹرز پر برتری حاصل ہے۔ اس لیے کوئٹہ اور ملتان دونوں کو اپنا 'گیم اٹھانا' ہوگا، ورنہ اب تک جیسا کھیل انہوں نے پیش کیا ہے، اس کے بعد اگلے مرحلے میں پہنچنے کا امکان مشکل نظر آتا ہے۔ اب انہیں سب کچھ داؤ پر لگانا ہوگا اور ہر مقابلہ آخری میچ سمجھ کر کھیلنا ہوگا۔

کراچی کنگز بمقابلہ پشاور زلمی

نیشنل اسٹیڈیم نے کوئٹہ کے جشن سے پہلے دن میں ایک اور دلچسپ مقابلہ دیکھا، جہاں مسلسل 3 میچ جیت کر خطرناک رُوپ دھارنے والا پشاور زلمی اور لاہور کے ہاتھوں تازہ زخم کھانے والے کراچی کنگز مقابل تھے۔

ٹاس کراچی نے جیتا اور کچھ ہی دیر میں صرف 34 رنز پر پشاور کے 3 کھلاڑی آؤٹ کرکے مقابلے پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ روی بوپارا کی 58 اور شرفین روتھرفورڈ کی 46 رنز کی اننگز اور دونوں کی پانچویں وکٹ پر 82 رنز کی شراکت داری پشاور کو مقابلے میں واپس لائی۔ یہاں تک کہ آخر میں ‏عماد بٹ کی مختصر طوفانی اننگ نے اسکور کو 188 رنز تک پہنچا دیا۔ انہوں نے صرف 7 گیندوں پر 27 رنز بنائے، اور اس دوران آخری اوور میں 32 رنز بھی لوٹے۔

یہ بدقسمت باؤلر تھے ڈینیئل کرسچن، جنہوں نے پی ایس ایل تاریخ میں کسی ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز کھانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہیں ملا کر کراچی نے کُل 7 باؤلرز آزمائے، لیکن پشاور کو 188 رنز تک پہنچنے سے نہ روک سکے۔

آخری اوور میں 32 رنز کے غیر معمولی اضافے کے بعد جو کسر رہ گئی تھی، وہ ہدف کے تعاقب میں پہلی ہی گیند پر شرجیل خان کے آؤٹ سے پوری ہوگئی۔ 4 اننگز میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری بنانے والا بلے باز پہلی ہی گیند پر صفر پر نکل جائے تو دباؤ آنا فطری تھا، لیکن کراچی کنگز کو ایک ایسی سہولت میسر ہے جو پی ایس ایل میں کسی ٹیم کے پاس نہیں، یعنی ان کے پاس بابر اعظم ہیں۔

بابر ایک اینڈ پر ایسے جم گئے کہ آخر تک کوئی انہیں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکا۔ بہرحال، انہیں دوسرے اینڈ سے کسی کے اچھے ساتھ کی ضرورت تھی۔ 189 رنز کے تعاقب میں کراچی ابتدائی 7 اوورز میں صرف 43 رنز ہی بنا پایا تھا اور 3 کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔

جب صرف 78 گیندوں پر 146 رنز درکار تھے، 'پریزیڈنٹ' محمد نبی نے اپنا جادو دکھایا۔ انہوں نے صرف 35 گیندیں کھیلیں، 4 چھکے اور 8 چوکے لگائے اور 67 رنز بنا کر میچ کا رُخ ہی بدل دیا۔ بابر اعظم 47 گیندوں پر 77 رنز کے ساتھ فاتحانہ میدان سے لوٹے۔

ڈین کرسچن نے ایک اوور میں 32 رنز کھانے کے بعد بلے بازی میں ایک چھکا اور 2 چوکے لگا کر کسی حد تک ازالہ کردیا، لیکن عماد بٹ کو یہ میچ بہت مہنگا پڑا۔ انہوں نے جہاں اپنی مختصر اننگ میں خوب چھکے چوکے لگائے تھے، وہیں باؤلنگ میں کھائے بھی بہت۔ انہوں نے اپنے 4 اوورز میں 56 رنز دیے، جس میں اننگ کے 16ویں اوور میں 25 رنز کھانا بھی شامل ہے۔

بظاہر تو ایسا لگتا ہے پشاور کی شکست کی وجہ بابر اور نبی کی شاندار اننگز تھیں، لیکن اصل وجہ تھی زلمی کی مایوس کُن فیلڈنگ۔ انہوں نے کیچ پکڑنے کے کئی آسان مواقع ضائع کیے، جن میں محمد نبی کا 20 رنز پر کیچ چھوڑنا بھی شامل ہے جو پشاور کو بہت مہنگا پڑا۔ اس کے علاوہ مس فیلڈنگ کے ذریعے بھی مفت کے رنز بانٹے جنہوں نے اتنے سخت میچ میں فیصلہ کُن کردار ادا کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں میچوں میں افغان کھلاڑی مردِ میدان قرار پائے۔ کراچی کی کامیابی میں محمد نبی اور کوئٹہ کی جیت میں قیس احمد، یعنی افغان چھائے ہوئے ہیں!

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف