ہماری حکومتیں ’کرائے دار‘ ہیں، لیکن خود کو ’مالک مکان‘ ہی سمجھتی ہیں

29 مارچ 2021

ای میل

آئی اے رحمٰن
آئی اے رحمٰن

معلوم ہوتا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے احتساب سے بچنے کے لیے ایک نیا فسانہ ایجاد کرلیا ہے۔

حکومت کا یہ استدلال ہے کہ اسے 5 سال کے لیے حکومت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور حکومت سے 5 سال کے بعد ہی اس کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام جو اس ملک کے حقیقی مالک ہیں، ان کو کوئی حکمران اس قسم کی دلیل نہیں دے سکتا۔

حکومت کی حیثیت ایک کرائے دار جیسی ہے اور اسے اس شرط پر ریاست کا انتظام سونپا گیا ہے کہ وہ اس کے وسائل اور مجموعی حالت کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔

اگر معاہدے کی اس شرط کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو یہ معاہدہ ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کبھی اس کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کرلیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آغاز سے اختتام تک حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھیں۔ اگر یہ نگرانی نہیں کی جاتی تو ریاست کو شدید خطرات لاحق ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے تمام ذمہ دار حکومتوں نے احتساب کا ایک مؤثر نظام تشکیل دیا ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ احتساب کا عمل کسی بھی ادارے کی صلاحیت اور اس کے انتظام میں بہتری لانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے حکومت کی مدت کے اختتام پر احتساب کا عمل بالکل بے معنی ہوجاتا ہے کیونکہ اس وقت احتساب کے نتائج پر عمل کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔

کوئی بھی باشعور سیاسی جماعت احتساب کے عمل سے دُور ہونے کا خطرہ مول نہیں لیتی، اور پھر احتساب کو ہر وقت منفی معنی میں بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ کام بھی احتساب کے ضمن میں ہی آتا ہے کہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جائے جہاں کچھ زیادہ سرمایہ کاری کرکے نسبتاً زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ جن حکومتوں نے بھی دورانِ حکومت احتساب کو نظر انداز کیا ہے انہوں نے بعد میں خود پر عدم اعتماد کی قیمت چکائی ہے۔ کسی بھی ادارے کو وقتاً فوقتاً اپنے احتساب سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک ادارہ اس احتساب کی بدولت بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

کئی اداروں کا خیال ہے کہ وسط مدتی احتساب سے یہ بات جاننے میں مدد ملتی ہے کہ آیا وہ اپنے منصوبوں کے حوالے سے درست سمت میں گامزن ہیں یا نہیں۔ کوئی بھی اچھا ادارہ اس جانج پڑتال سے گھبراتا نہیں ہے بلکہ جو ادارہ اس کو نظر انداز کرتا ہے وہ اپنے ادارے پر موجود اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

حکومت اس جانچ پڑتال کے مشورے کو اپنے خیر خواہوں کی جانب سے ایک دوستانہ مشورہ بھی سمجھ سکتی تھی لیکن شاید حکومت کو لگتا ہے کہ یہ اس کی کارکردگی میں خامیاں تلاش کرنے کا منصوبہ ہے۔ شاید حکومت کا یہ طرزِ عمل اس کی گھبراہٹ کا آئینہ دار ہے کیونکہ دوسری صورت میں تو حکومت کو اسے ایک اچھا موقع سمجھتے ہوئے قبول کرلینا چاہیے تھا۔

پارلیمانی نظام میں ایوانِ نمائندگان عوامی مفاد کے ہر معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے بہت سنجیدہ پلیٹ فارم ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے نابالغ اور عدم تحفظ کا شکار سیاستدانوں کو پارلیمانی گفتگو سے الرجی ہوگئی ہے حالانکہ یہی پارلیمان ان سیاستدانوں کی سیاسی تربیت کا ذریعہ ہے۔ اس پارلیمان کو اب صرف حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بلآخر یہاں نقصان عوام کا ہی ہورہا ہے کیونکہ انہیں اپنے معاملات کے انتظام سے روکا جارہا ہے۔ یہ کام صرف اس صورت میں ممکن ہے جب عوامی معاملات پارلیمان میں بحث کے بعد حل کیے جائیں۔

ایوان میں بحث و مباحثہ نہ ہونے سے عوام کے سیاسی شعور کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ عوام کے منتخب کردہ اراکین کی جانب سے ایوان کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور کیا زیادتی ہوسکتی ہے؟

اس عمل کی وجہ کوئی بھی ہو، لیکن بہرحال اس سے نقصان عوام کا ہی ہورہا ہے کیونکہ انہیں ان اداروں تک رسائی سے روکا جارہا ہے جہاں سے انہیں سیاسی شعور حاصل ہوسکتا ہے۔ مستقبل میں مؤرخ ہمارے سیاستدانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا، جو عوام کو سیاست کا فن سکھانے اور انہیں باشعور بنانے میں ناکام رہے۔

جمہوری ممالک میں پارلیمان کے اجلاس جتنے زیادہ اور جتنے طویل ہوسکیں، وہ ہوتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ممالک میں پارلیمان کے کم از کم اجلاس کے عدد کو پورا کرنے کی ہی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں پارلیمانی معاملات کو ایوان کے اندر نہیں بلکہ ایوان کے باہر حل کرنے کی روایت چل پڑی ہے اور کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہے۔

کبھی کبھی کچھ لوگ جمہوری روایات کے فقدان پر نوحہ کناں نطر آتے ہیں لیکن کوئی بھی اس بات پر توجہ نہیں دیتا کہ جمہوری روایات دراصل جمہوری اقدار پر مسلسل عمل کے نتیجے میں پروان چڑھتی ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کے سفر میں تسلسل نہیں رہا۔ ایک ایسا ملک جہاں سیاست صرف دھوکا دہی کا کھیل بن کر رہ گئی ہو وہاں سیاست میں عوامی شمولیت کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔

جمہوری حکومت تو دُور کی بات ہے پاکستان جیسے کئی ترقی پذیر ممالک کو جمہوری سیاست کا بھی بہت محدود تجربہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ابھی تک جمہوریت کے باریک رموز سے واقف نہیں ہوئے۔ لیکن جب تک سیاسی جماعتیں جمہوری راستے پر قائم ہیں تب تک عوام کو اس حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں حکومت کے اندر سے ہونے والے احتساب کو سمجھا جاتا ہے کہ حکومت پر سے اس کی سیاسی جماعت کی گرفت کمزور ہوگئی ہے۔ جہاں بھی سیاسی جماعتیں اپنے اراکین اور حکومت پر کنٹرول حاصل کرتی ہیں وہاں احتساب کا نظام کمزور نہیں ہوتا۔ لیکن دنیا کی تقریباً تمام ہی حکومتیں اپنی جماعتوں کو ڈرائیونگ سیٹ سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور نتیجے کے طور پر جمہوریت کو کچھ نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

نابالغ معاشروں میں احتساب کو ایک طرح کی سزا اور جماعتوں کے کام کرنے کے طریقوں میں مداخلت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ احتساب ان کے لیے اتنا ہی ضروری ہے کہ جتنا کسی مشین کے چلنے کے لیے تیل ضروری ہوتا ہے۔


یہ مضمون 25 مارچ 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔