حسینہ معین: سنہری دنوں کی بازگشت

حسینہ معین تمام تر جدیدیت کےباوجود مشرقی خاتون ہونے کی بہترین مثال تھیں جنہوں نے اپنی کہانیوں سے معاشرے کی تربیت میں اپنا حصہ ڈالا
اپ ڈیٹ 29 مارچ 2021 01:12pm

پاکستانی ڈراما نگاری کی کہکشاں سے ایک روشن ستارہ ٹوٹا اور ہم ایک عظیم ڈراما نگار سے محروم ہوگئے۔ وہ اپنے نام کی طرح، روح سے دلکشی اور زندگی کی خوبصورتیوں کو اپنے کرداروں کے ذریعے، ٹیلی وژن کی اسکرین پر پیش کرنے والی ایسی حسینہ تھیں جن کے یہاں تہذیب و اقدار کی پیروری کرنا معین تھا۔

وہ حسینہ معین تھیں، جنہوں نے صرف ڈراما نگاری کو ہی اپنی توجہ کا مرکز نہیں بنایا بلکہ اس پیشے سے کئی نسلوں کی ذہنی پرورش بھی کی۔ اپنے فرض کو مقدم جانا اور اس کام کے لیے اپنی پوری زندگی صرف کردی۔ ہم کہانی کے گھنے سائے سے محروم ہوگئے ہیں۔ کہانی کے منظرنامے پر اداسی ہے۔ ان کے تخلیق کردہ کردار بھی اس وقت دلگیر ہیں۔ ڈرامے کی دنیا میں تہذیب کی روشن علامت اور ہر دل عزیز شخصیت ہم سے رخصت ہوئی۔

حسینہ معین کو سب حسینہ آپا بھی کہتے تھے کیونکہ وہ اس قدر شفقت اور محبت سے لبریز لہجے میں گفتگو کرتی تھیں کہ کوئی وجہ نہ ہوتی کہ ان سے ذاتی تعلق نہ بنا لیا جائے۔ وہ پورے پاکستان کی حسینہ آپا تھیں۔ ان کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں تصور کیا جائے تو یہ 10، 20 برسوں کی بات نہیں بلکہ نصف صدی پر پھیلا ہوا سلسلہ ہے۔ انہیں دیکھنے کے بعد ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کسی فن کے لیے اپنی زندگی کو تج دینا کیا ہوتا ہے اور کسی پیشے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردینے کی قربانی کیا ہوتی ہے۔

وہ بطور کہانی نویس اور ڈراما نگار مختلف ذرائع (میڈیمز) کے لیے لکھتی رہیں۔ انہوں نے ابتدائی طور پر بچوں کے معروف رسالے ’بھائی جان‘ سے لکھنے کی شروعات کی۔ یہ وہ دور تھا جب اس رسالے میں آج کے کئی نامور لوگ لکھ رہے تھے، جیسے رضا علی عابدی، غازی صلاح الدین اور دیگر، ان کے ہمراہ حسینہ آپا بھی اپنی جگہ بنا رہی تھیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ زمانہ طالب علمی میں بھی لکھنے کے حوالے سے متحرک رہیں اور اسکول کی طرف سے طلبا کے تحریری مقابلوں میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ انہوں نے 7ویں جماعت سے لکھنے کی شروعات کی اور اس دور میں بہت سارے اعزازات اپنے نام کیے۔

حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں اور 26 مارچ 2021ء کو کراچی میں انتقال کیا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی کے چند برس ہندوستان میں گزارے، پھر اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرکے راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ چند برسوں کے بعد 1950ء کی دہائی میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئیں۔ 1960ء میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے گریجویشن کیا اور جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ کے موضوع پر ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں۔ طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں۔

ریڈیو پاکستان سے لکھنے کا پیشہ ورانہ آغاز کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مشہور زمانہ پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ کے لیے صوتی کھیل لکھے۔ ڈراما نگاری کے حوالے سے ان کی زندگی میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے انہیں ایک ڈراما لکھنے کی پیشکش کی گئی۔ معروف شاعر افتخار عارف اسکرپٹنگ کے شعبے کے سربراہ تھے، انہوں نے حسینہ آپا کو راغب کیا کہ وہ ڈراما نگاری کریں۔ انہوں نے اس وقت عید کے لیے ایک خصوصی کھیل ’عید کا جوڑا‘ لکھا جس کے مرکزی کرداروں میں نیلوفر علیم اور طلعت حسین تھے جبکہ معاون کرداروں میں عشرت ہاشمی اور خالد نظامی تھے۔ یہ ڈراما بہت پسند کیا گیا۔

حسینہ معین 1941ء میں کانپور میں پیدا ہوئیں
حسینہ معین 1941ء میں کانپور میں پیدا ہوئیں

انہوں نے لکھنے کا باقاعدہ آغاز ریڈیو پاکستان کے پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ سے کیا
انہوں نے لکھنے کا باقاعدہ آغاز ریڈیو پاکستان کے پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ سے کیا

انہوں نے اسی دور میں کچھ ڈرامے تھیٹر کے لیے بھی لکھے جو اسٹیج بھی ہوئے، مگر بہت جلد ان کی پوری توجہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کی طرف ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی سے لے کر اگلے 40 برس تک وہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کرتی رہیں اور بے پناہ شہرت سمیٹی۔ ان کی پہلی ڈراما سیریل ’شہزوری‘ تھی جس کو انہوں نے مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ کیا تھا۔ اس ڈراما سیریل نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس کے بعد حسینہ معین پاکستان میں ایک مقبول ڈراما نگار بن چکی تھیں۔

حسینہ معین کا شمار ایسے قلم کاروں میں ہوتا تھا، جن کی وجہ شہرت کتاب نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کا میڈیم رہا۔ انہوں نے پاکستان میں ادبی رجحان کی ایک نئی جہت کو متعارف کروایا۔ وہ جہت ٹیلی وژن کے لیے ’اصل اسکرپٹ‘ تخلیق کرنا تھا۔

ماضی میں ریڈیو پاکستان کی حد تک تو اسکرپٹ کا عمل دخل تھا، مگر پاکستان ٹیلی وژن شروع ہوا تو ابتدائی طور پر جتنے ڈرامے بنائے گئے ان کی بنیاد پاکستانی ناول نگاروں کے لکھے ہوئے ناول ہوتے تھے۔ ان ناولوں سے کہانیاں ماخوذ کرکے انہیں ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ پہلی مرتبہ حسینہ معین نے کسی کہانی کو ماخوذ کیے بنا، ٹی وی کی ضرورت کے مطابق، اسکرین کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اوریجنل اسکرپٹ لکھا اور اس پر کامیاب ڈراما بنا، اس ڈرامے کا نام ’کرن کہانی‘ تھا۔ پاکستانی ٹیلی وژن کے لیے یہ ان کا دوسرا ڈراما تھا۔

حسینہ معین، دلیپ کمار سے ملاقات کرتے ہوئے
حسینہ معین، دلیپ کمار سے ملاقات کرتے ہوئے

حسینہ معین معروف شاعرہ پروین شاکر کے ساتھ
حسینہ معین معروف شاعرہ پروین شاکر کے ساتھ

اس کے بعد سے حسینہ معین نے بے شمار کہانیاں تخلیق کیں، اور وہ سب اسکرپٹس کی شکل میں تخلیق ہوئیں۔ کبھی ان اسکرپٹ کردہ کہانیوں کے ذریعے اسٹیج پر کھیل پیش کیے گئے، تو کبھی ان کو ریڈیو اور کبھی فلم کے پردے پر نشر کیا گیا۔ انہوں نے تھیٹر، ریڈیو اور پھر ٹیلی وژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے، صرف یہی نہیں بلکہ ٹیلی وژن کے لیے ٹیلی فلمیں بھی لکھیں۔ مختلف مواقع پر خصوصی طور پر لکھے گئے ڈراموں کی روداد الگ ہے۔ 40، 50 سال پر محیط ان کی پیشہ ورانہ زندگی، ان کے لکھے گئے ڈراموں، طویل دورانیے کے کھیلوں، ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

ڈراما سیریل کی فہرست

حسینہ معین کے لکھے گئے ڈراموں میں ’شہزوری’، ’کرن کہانی’، ’انکل عرفی’، ’زیر زبر پیش’، ’پرچھائیاں’، ’ان کہی’، ’تنہائیاں’، ’دھوپ کنارے’، ’رومی’، ’بندش’، ’دُھند’، ’بالائے جان’، ’آہٹ’، ’پڑوسی’، ’کسک’، ’تان سین’، ’قہار’، ’جانے انجانے’، ’پل دو پل’، ’دیس پردیس’، ’آنسو’، ’دی کیسل’، ’ایک امید’، ’شاید کہ بہار آئے’، ’تیرے آجانے سے’، ’میرے درد کو جو زباں ملی’، ’تم سے مل کر’، ’اک نئے موڑ پر’، ’کیسا یہ جنون، آئینہ’، ’چھوٹی سی کہانی’، ’کشمکش’، ’تنہا’، ’سارے موسم اپنے ہیں’، ’تنہائیاں نئے سلسلے’، ’میری بہن مایا’، ’انجانے نگر’ اور ’محبت ہوگئی تم سے’ شامل ہیں۔

طویل دورانیے کے ڈراموں اور ٹیلی فلموں کی فہرست

’نیا راستہ’، ’ہیپی عید مبارک’، ’گڑیا’، ’مہم جو’، ’عید کا جوڑا’، ’رابطہ’، ’روشنی’، ’میکے کا بکرا’، ’چلتے چلتے’، ’ساگر کے آنسو’، ’چھوٹی چھوٹی باتیں’، ’دھندلے راستے’، ’چپ دریا’، ’سنگسار’، ’موسم گل’، ’دعا’، ’گھروندا’، ’وقت کو تھام لو’، ’اوپر گوری کا مکان’۔

فیچر فلموں کے لیے لکھے گئے مکالمے یا کہانیاں

۔ یہاں سے وہاں تک (1978)

۔ نزدیکیاں (1986)

۔ حنا (1991۔ ہندوستانی فلم)

۔ کہیں پیار نہ ہو جائے (1998)

حسینہ معین نے ہندوستان کے لیے ایک فلم ’حنا‘ جبکہ ایک ڈراما ’تنہا‘ لکھا، اس کے علاوہ ان کے ایک اور معروف ڈرامے ’دھوپ کنارے‘ کو ہندوستان میں دوبارہ فلمایا گیا۔ انہوں نے کئی عالمی شہ پاروں سے ماخوذ کھیل بھی لکھے، ان میں ہندوستانی ادیب مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول پر مبنی ڈراما ’شہزوری‘، امریکی ادیب ہنری جیمز کا ناول ’دی پورٹریٹ آف دی لیڈی‘، برطانوی ادیبہ ڈیفنی ڈی موریے کا ناول ’مائی کزن ریچل‘ اور امریکی ادیب جان اسٹین بیک کا ناول ’پرل‘ شامل ہیں۔

برِصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے معروف موسیقار اور مغل دور کی عظیم شخصیت تان سین کی زندگی پر بھی سوانحی ڈراما لکھا۔ ان کی لکھی ہوئی ایک ٹیلی فلم ’گڑیا‘ نے جاپان کے شہر ٹوکیو میں بہترین اسکرپٹ کا ایوارڈ بھی جیتا۔ یہ پی ٹی وی کی پروڈکشن تھی اور شیریں خان اس کی ہدایت کارہ تھیں۔ فلم ’حنا‘ جس کے مکالمے حسینہ آپا نے لکھے تھے، راج کپور صاحب کی فلم تھی، ریلیز کے بعد یہ کامیاب رہی اور ہندوستان کی طرف سے یہ فلم آسکر ایوارڈز کے لیے غیر ملکی فلم کے طور پر نامزد کی گئی تھی۔

حسینہ معین نے سب سے زیادہ کام پاکستان ٹیلی وژن کے لیے کیا۔ یہاں بھی کچھ ہدایت کار ایسے ہیں، جن کے ساتھ زیادہ کام کیا، ان میں سرفہرست محسن علی، شیریں خان، شعیب منصور، شہزاد خلیل، ساحرہ کاظمی، علی رضوی، رعنا شیخ اور دیگر شامل ہیں۔

ان کے لکھے ہوئے کرداروں کو نبھانے والے فنکار بھی امر ہوگئے۔ ان کے ڈراموں سے کئی فنکاروں نے کیریئر کی ابتدا کی اور کچھ نے بے حد عروج پایا۔ ان میں سرفہرست شکیل، روحی بانو، جمشید انصاری، جاوید شیخ، راحت کاظمی، ساحرہ کاظمی، مرینہ خان، شہناز شیخ، طلعت حسین، بہروز سبزواری، ساجد حسن، خالدہ ریاست، ثانیہ سعید، روبینہ اشرف، فضیلہ قاضی، زیبا بختیار، آصف رضا میر، نادیہ جمیل، نادیہ خان، ریحان شیخ، ثمینہ پیرزادہ اور دیگر شامل تھے۔

وہ کچھ عرصے سے آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی سے بھی وابستہ تھیں۔ وہ وہاں گورننگ باڈی کی رکن رہیں اور ادبی کمیٹی کی سربراہی بھی کی۔ کورونا کی آمد سے قبل، گزشتہ برس میں نے ان سے ڈان اردو کے لیے بات کی، اس گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی خود نوشت لکھ رہی ہیں جو معروف اشاعتی ادارے دانیال پبلی کیشنز، کراچی سے شائع ہوگی۔

اس کے علاوہ وہ ایک ویب سیریز اور ایک فلم بھی لکھ رہی تھیں۔ میرا بھی حسینہ آپا سے ایک محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔ وہ ہمیشہ بڑی شفقت سے ملتیں، پہلی مرتبہ، آج سے تقریباً ایک دہائی پہلے، میں نے ان کا انٹرویو ان کے گھر پر ہی کیا، جہاں انہوں نے میری خاطر مدارت بھی کی۔ وہ جب بھی ملتیں بہت شفقت فرماتیں۔ آخری ملاقات کچھ عرصہ قبل ڈان ٹی وی کے شو میں ہوئی تھی، جس میں مجھے ان کے ساتھ ڈرامے کے موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع کی ایک یادگار تصویر بھی ہے جس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کی طرح پُرسکون دکھائی دے رہی ہیں۔

ان کا لکھا گیا یہ ڈرامہ مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ ہے
ان کا لکھا گیا یہ ڈرامہ مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ ہے

کچھ عرصہ قبل ڈان ٹی وی کے شو میں حسینہ معین سے ملاقات ہوئی
کچھ عرصہ قبل ڈان ٹی وی کے شو میں حسینہ معین سے ملاقات ہوئی

ان کے لکھے گئے کرداروں کو نبھانے والے فنکار بھی امر ہوگئے
ان کے لکھے گئے کرداروں کو نبھانے والے فنکار بھی امر ہوگئے

اس اداس کردینے والے موقع پر ہم نے خاص طور پر کچھ ایسی شخصیات سے گفتگو کی جن کا حسینہ معین سے گہرا تعلق رہا ہے۔ وہ ان کے جانے کو کیسے محسوس کر رہے ہیں، وہ ان کی گفتگو میں جھلک رہا ہے۔


حوری نورانی


ان کے متوقع ناشر اور معروف اشاعتی ادارے کی سربراہ حوری نورانی صاحبہ سے گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ ’معروف صحافی آصف نورانی نے ان کو راضی کیا تھا کہ وہ اپنی یادداشتیں رقم کریں اور مجھے اس سلسلے میں ان کے ساتھ جوڑا۔ وہ اپنی سوانح عمری پر کام کر رہی تھیں، پھر انہوں نے اپنی ایک اور خواہش کا اظہار مجھ سے کیا تھا کہ ان کے ڈراموں کو کتابی شکل میں چھاپا جائے تو انہیں اتنی توجہ نہیں ملتی، اس لیے وہ اپنے مقبول ڈراموں کو ناولوں کی صورت دینا چاہ رہی تھیں تاکہ وہ کہانیاں عہدِ حاضر کے ادب سے پیوستہ ہوجائیں۔ میں پُرامید ہوں کہ ان کی ایسی تمام خواہشات پر عمل کرتے ہوئے ہم ان کی کتابیں شائع کریں گے۔ وہ جب بھی مجھے ملا کرتیں، یہی کہتیں کہ میں تمہاری کتابوں پر کام کر رہی ہوں۔ یقین نہیں آتا وہ اس طرح اچانک ہم سے بچھڑ گئی ہیں‘۔


احمد شاہ


آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے صدر جناب احمد شاہ نے اظہار خیال کیا کہ ’ان کی رحلت میرا ذاتی نقصان ہے، ایسا لگتا ہے جیسے میری ماں چلی گئی ہو۔ وہ ایک رجحان ساز ڈراما نویس تھیں جنہوں نے اپنے ڈراموں میں لڑکیوں اور خواتین کے مضبوط کردار تخلیق کیے۔ انہوں نے اپنے ڈراموں میں نعرے بازی نہیں کی، نہ ہی عورتوں کے حقوق کے لیے شور مچایا، بلکہ اپنے قلم سے عہد جدید کی عورت کے تصور کو عام کیا۔ میرے نزدیک ڈرامے کے شعبے میں جیسی شہرت حسینہ آپا کو ملی، وہ کسی کو نصیب نہ ہوئی۔ فنکاروں میں بہروز سبزواری ہوں، جاوید شیخ، جمشید انصاری، مرینہ خان، شہناز شیخ اور چاہے کوئی اور سب انہی کے ڈراموں سے مقبول ہوئے۔ انہوں نے جو ڈراما لکھ دیا، اس کردار میں فنکار مقید ہوکر رہ گئے، ساری زندگی وہ کردار ان کا حوالہ بنے رہے۔ یہ کمال حسینہ معین کے قلم کا ہی تھا جنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے شاندار ڈرامے لکھے۔ مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑے گا کہ پی ٹی وی نے ان کے ڈراموں سے بے شمار دولت کمائی، ان کے ڈراموں کو مختلف زبانوں میں ڈب کرکے بیرون ملک بھیجا گیا، نشر مکرر بھی کیا، خوب کمائی ہوئی، مگر کسی نے ان کو رائلٹی نہ دی، جو معاہدے کے مطابق ان کا حق تھی، انہیں اس بات کا قلق رہا اور وہ اس پر بہت دل گرفتہ تھیں‘۔


ثانیہ سعید


اس موقع پر معروف اداکارہ ثانیہ سعید، جنہوں نے حسینہ معین کے مشہورِ زمانہ ڈرامے ’آہٹ‘ میں بھی کام کیا تھا، انہوں نے ہم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک زیرک ڈراما نگار تھیں، جب تک ان کا اظہار خیال کرنے کو دل کرتا رہا، وہ لکھتی رہیں، جب قدریں بدلیں، زمانہ اور رویے بدلے، تو انہوں نے خاموشی اختیار کرلی، لکھنا بند کردیا۔ اظہار کا بھی ایک کوٹہ ہوتا ہے، جو زیادہ سوچتا سمجھتا ہے، وہ لکھنے میں بھی اتنا ہی محتاط ہوجاتا ہے۔ نئی نسل تو ان کے کام سے واقف ہی نہیں ہے، انہوں نے ویسے ہی لوگوں کے ساتھ کام کیا جن سے وہ مطمئن ہوتی تھیں، چاہے وہ ہدایت کاری ہو یا اداکاری، وہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتی تھیں، میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے ان کے کئی ڈراموں میں کام کیا‘۔


انور مقصود


پاکستان کے معروف ڈراما نگار، شاعر، مصور اور میزبان، جناب انور مقصود نے اس موقع پر صرف ایک ہی جملے میں ان سے اپنے تعلق کو سمیٹتے ہوئے کہا۔ ’حسینہ معین کو یاد کرنے کے لیے سیکڑوں باتیں ہیں، بھولنے کے لیے ایک بات بھی نظر نہیں آتی ہے‘۔

وہ ایک رجحان ساز ڈراما نویس تھیں جنہوں  نے اپنے ڈراموں میں لڑکیوں اور خواتین کے مضبوط کردار تخلیق کیے
وہ ایک رجحان ساز ڈراما نویس تھیں جنہوں نے اپنے ڈراموں میں لڑکیوں اور خواتین کے مضبوط کردار تخلیق کیے

انور مقصود کہتے ہیں کہ حسینہ معین کو بھولنے کے لیے کوئی بات نظر نہیں آتی
انور مقصود کہتے ہیں کہ حسینہ معین کو بھولنے کے لیے کوئی بات نظر نہیں آتی

پاکستان کے شوبز کی معروف جوڑی، راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی سے بھی اس موقع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسینہ معین کے 3 مشہور ڈراموں میں سے ایک ’دھوپ کنارے‘ تھا۔ اس کی ہدایات ساحرہ کاظمی نے دی تھیں جبکہ اس میں اداکاری راحت کاظمی نے کی تھی اور ان کے مدمقابل مرینہ خان تھیں۔ فنکاروں میں بدر خلیل، قاضی واجد، عذرا شیروانی، عشرت ہاشمی، ساجد حسن و دیگر تھے۔ راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی نے اس موقع پر ہم سے بات کرتے ہوئے حسینہ معین کو کچھ یوں یاد کیا۔


راحت کاظمی


راحت کاظمی کے خیال میں ’حسینہ معین نے 4 دہائیوں تک ڈراما نگاری کی، ان کو ایک خفیف سا شکوہ تھا کہ انہیں تمغہ حسن کارکردگی بہت دیر سے ملا، بہرحال پھر بھی وہ بہت شائستہ مزاج اور مہذب خاتون تھیں۔ انہوں نے پاکستان میں سنجیدہ رومانوی نوعیت کی کامیڈی لکھی، جو ہمارے یہاں بہت کم کم لکھی گئی۔ انہوں نے ایسی کہانیاں تراشیں، جن میں معاشرے کے مثبت پہلو دیکھے جاسکتے ہیں، تہذیب و تمدن کا نمونہ کہانیاں، جن سے متاثر ہوئے بغیر ممکن نہیں تھا‘۔


ساحرہ کاظمی


ساحرہ کاظمی نے اپنی یادوں کوکھنگالتے ہوئے کہا کہ ’میری ان سے بہت دوستی تھی، ہرچند کے ہم نے کام بھی ساتھ کیا۔ میں نے صرف ان کے لکھے ہوئے ڈرامے کی ہدایت کاری ہی نہیں دی بلکہ کئی ایک ڈراموں میں اداکاری بھی کی جن میں ’پرچھائیاں‘ اور ’سنگسار‘ شامل ہیں۔ پھر یہ میری خوش نصیبی تھی کہ میں نے ان کے ڈرامے ’دھوپ کنارے‘ کی ہدایات دیں جس کو پھر کلاسیکی ڈرامے کا درجہ بھی ملا۔ حسینہ معین سے میرا تعلق راولپنڈی کے زمانے سے تھا۔ میں جب پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ ہوئی تو اکثر ایسا ہوتا کہ وہ ٹیلی وژن آتیں تو میرے کمرے میں ہی تشریف رکھتیں اور ہم ڈھیروں باتیں کرتے۔ میرے اور ان کے پختہ تعلقات کی ایک وجہ اور بھی تھی، اور وہ یہ کہ وہ عورت کے ایسے جدید تصور پر یقین رکھتی تھیں جس میں عورت کے حقوق پورے ہوں اور عورت مرد دونوں برابر ہوں۔ اس برابری ہی میں زندگی کا حسن ہے۔ وہ مجھ سے اور میں ان سے اس نکتہ پر بھی متفق تھیں، اس لیے ہم میں ذہنی ہم آہنگی تھی۔ ان کے ڈراموں کی خواتین ایک طرف شرارتی تھیں، تو دوسری طرف بہت محبت کرنے والی بھی تھیں، انہوں نے لڑکیوں اور عورتوں کے تصور کو بہت مثبت اور درست سمت میں دکھایا، جس سے ہم اب بھی سبق لے سکتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کو چاہیے کہ ان کے ڈراموں کو دوبارہ نشر کرے، تاکہ آج کی نئی نسل اس کلاسیکی کام سے بھی واقف ہوسکے‘۔

وہ عورت کے جدید تصور پر یقین رکھتی تھیں جس میں اس کے حقوق پورے ہوں اور اسے برابری ملے
وہ عورت کے جدید تصور پر یقین رکھتی تھیں جس میں اس کے حقوق پورے ہوں اور اسے برابری ملے

انہوں نے لڑکیوں اور عورتوں کے تصور کو بہت مثبت اور درست سمت میں دکھایا
انہوں نے لڑکیوں اور عورتوں کے تصور کو بہت مثبت اور درست سمت میں دکھایا

وہ ادبی رچاؤ، تہذیب اور تمدن کے رنگ میں کہانیاں تخلیق کرتی تھیں۔ پاکستان میں ڈرامے کی سنہری تاریخ میں حسینہ معین کی کہانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ ان کے تخلیق کیے ہوئے کردار ہماری یادداشت میں زندہ رہیں گے۔ بے شک، ہم سے اس نسل کی ایک نمائندہ شخصیت جدا ہوگئی ہے جس کے یہاں اخلاقیات اور اقدار سب سے پہلے تھیں۔

حسینہ معین اپنی تمام تر جدیدیت کے باوجود مشرقی خاتون ہونے کی بہترین مثال تھیں جنہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے معاشرے کی تربیت میں اپنا حصہ ڈالا۔ وہ لوگ جنہیں پیسے سے زیادہ تہذیب کا پاس تھا، یہ اس آخری نسل کے بجھتے ہوئے چند چراغوں میں سے ایک تھیں، کیونکہ ہم شاید ہی پھر ایسی جہاں دیدہ اور روح پرور شخصیات دیکھ پائیں گے۔

آج پاکستان کے ڈرامے کا منظرنامہ سوگوار ہے، ان کی یاد میں وہ کردار بھی اداس ہیں جن کو لکھ کر حسینہ معین ڈراما نگاری میں امر ہوچکیں۔ ہمارا بچپن بھی دلگیر ہے جس میں ان کے ڈراموں سے وابستہ یادوں کے نقوش جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔