امریکا: ذہنی دباؤ کے شکار بھائیوں نے اہل خانہ کو قتل کرکے خودکشی کرلی

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2021

ای میل

تفتیش کاروں کے مطابق بھائی ڈپریشن کا شکار تھے—فوٹو: واشنگٹن پوسٹ
تفتیش کاروں کے مطابق بھائی ڈپریشن کا شکار تھے—فوٹو: واشنگٹن پوسٹ

امریکی ریاست ٹیکساس میں مقیم بنگلادیشی نژاد دو بھائیوں نے شدید ذہنی دباؤ کے باعث اپنے اہل خانہ کے تمام اراکین کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بنگلادیشی نژاد خاندان چند سال قبل ہی امریکی ریاست نیویارک سے ٹیکساس منتقل ہوا تھا اور بظاہر ان کا خاندان انسان دوست اور محبت بانٹنے والا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکساس کے شہر ڈلاس کی پولیس کے تفتیش کاروں کے مطابق مذکورہ واقعہ 6 اپریل کو پیش آیا اور پولیس نے گھر سے اہل خانہ کے تمام اراکین کی لاشیں برآمد کرلیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق گھر سے برآمد ہونے والے ڈیٹا اور سوشل میڈیا پوسٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اہل خانہ کو دو بھائیوں نے قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔

تفتیش کاروں کے مطابق دو بھائیوں 21 سالہ تنویر توحید اور 19 سالہ فرحان توحید نے اہل خانہ کے باقی دیگر 4 افراد کو پہلے قتل کیا، جس کے بعد انہوں نے خود کو گولیاں مارلیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد قتل

تفتیش کاروں نے بتایا کہ اہل خانہ کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرنے والے دونوں بھائیوں نے انسٹاگرام پر ایک طویل خط بھی شیئر کیا، جس میں دونوں نے اپنی ذہنی صحت اور ڈپریشن پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ وہ کس قدر تنگ آ چکے تھے۔

تفتیش کاروں کے مطابق مذکورہ واقعے کے بعد تنویر توحید کا انسٹاگرام اکاؤنٹ غیر فعال کردیا گیا۔

تنویر توحید نے اپنے خط میں بتایا تھا کہ وہ کس قدر ڈپریشن کا شکار تھے اور انہوں نے ذہنی پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کس طرح کے علاج کروانے سمیت خود کو اذیت دینے کے سلسلے شروع کر رکھے تھے۔

ساتھ ہی خط میں فرحان توحید کی ڈپریشن کا بھی بتایا گیا اور لکھا گیا کہ وہ بھی کس قدر ذہنی اضطراب اور پریشانی کا شکار تھے۔

تفتیش کاروں اور ذہنی صحت اور جرائم پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں بھائیوں میں سے کسی ایک بھائی نے خاندان کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کا منصوبہ تیار کیا ہوگا اور دوسرے نے منصوبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہوگا۔

مذکورہ واقعہ ڈلاس کے نواحی علاقے ایلن میں پیش آیا—فوٹو: لاس اینجلس ٹائمز
مذکورہ واقعہ ڈلاس کے نواحی علاقے ایلن میں پیش آیا—فوٹو: لاس اینجلس ٹائمز

اسی حوالے سے لاس اینجلس ٹائمز نے بتایا کہ دونوں بھائیوں نے ڈپریشن کے باعث خود کو گولیاں مارنے سے قبل اپنے خاندان کے تمام 4 افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

دونوں بھائیوں نے 77 سالہ دادی الطاف النسا، 56 سالہ والدہ آئرن الاسلام، 54 سالہ والد توحید الاسلام اور 19 سالہ بہن فرحین توحید کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔

اہل خانہ کو قتل کرنے کے بعد ممکنہ طور پر دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو تھوڑے فاصلے سے فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

واقعے کی اطلاع کے بعد قریب میں رہنے والے کئی بنگلادیشی افراد جائے وقوع پر پہنچے اور خاندان کی انسانیت اور محبت بھرے رویے کی تعریف کی۔

مزید پڑھیں: امریکا: ماں کا اپنے ہی 3 بیٹوں کو قتل کرنے کا اعتراف

ڈپریشن کے باعث اہل خانہ کو قتل کرکے خودکشی کرنے والے دونوں بھائیوں کے کلاس فیلوز نے بتایا کہ بظاہر دونوں بھائی ٹھیک لگتے تھے جب کہ ان کا خاندان بھی ٹھیک اور محبت کرنے والا تھا مگر اچانک اس واقعے نے سب کو حیران کردیا۔

اپنے ہی خاندان کے افراد کی جانب سے اہل خانہ کو قتل کرکے خودکشی کرنے کا مذکورہ واقعہ امریکا میں پہلا نہیں ہے بلکہ امریکا بھر میں حالیہ چند سال میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق ایک رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2006 سے اب تک ایسے واقعات میں امریکا بھر میں 452 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2006 سے اب تک ایسے واقعات میں کسی ایک یا دو افراد کی جانب سے بیک وقت پورے خاندان کو قتل کرنے کے واقعات میں 217 افراد جب کہ خاندان کے کسی ایک یا دو افراد کو قتل کرنے کے واقعات میں 207 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکا میں جہاں ڈپریشن کے باعث اپنے ہی اہل خانہ کو قتل کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، وہیں ڈپریشن کے شکار افراد کی جانب سے دوسرے مقامات پر بھی فائرنگ کرکے لوگوں کو قتل کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔