کیا سیب کا سرکہ واقعی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے؟

02 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

سیب کے سرکے کو متعدد افراد صحت کے لیے جادوئی سمجھتے ہیں۔

سیب کا سرکہ سیبوں کے عرق سے بنتا ہے اور بظاہر اس میں کچھ خاص نظر نہیں آتا۔

مگر بیشتر افراد کا ماننا ہے کہ سرکے کی دیگر اقسام کے مقابلے میں سیب کا سرکہ واقعی حیران کن جادوئی اثرات کا حامل ہے۔

اس کا معتدل ذائقہ اور مہک بھی اس کی ساکھ کو بڑھاتی ہے۔

اس سرکے کے حوالے سے جو لوگ جن فوائد کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے، وہ جان لیں۔

جسمانی وزن میں کمی

موٹاپے کے شکار افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں رضاکاروں کو روزانہ ایک یا 2 اونس سیب کا سرکہ (پانی یا کسی اور سیال کے ساتھ ملاکر) پلایا گیا تو ان کا جسمانی وزن کچھ زیادہ تیزی سے کم ہوا، بالخصوص توند کی چربی گھٹ گئی۔

تاہم ایسے کوئی شواہد موجود نہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکے کی بہت زیادہ مقدار پینا زیادہ وزن کم کرتا ہے یا اس کی رفتار کو تیز کردیتا ہے۔

بلڈ شوگر میں کمی

یہ سرکہ ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بھی مددگار ہے۔

کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرنے میں یہ سرکہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے، تاہم ذیابیطس کا علاج یا ادویات کا متبادل نہیں۔

مگر کھانے وقت پانی یا خوراک میں 2 چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو ملانا بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لاسکتا ہے، تاہم گردوں کے امراض کے شکار افراد کو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

اگر ہائی بلڈ شوگر کو کنٹرول نہ کیا جائے تو امراض قلب، گردوں کے امراض، فالج اور بینائی کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

انسولین کنٹرول

یہ سرکہ کھانے کے بعد انسولین کی سطح کو کم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے، ہمارے خلیات کو اس ہارمون کی ضرورت خون سے گلوکوز کے حصول کے لیے ہوتی ہے، تاکہ جسمانی توانائی برقرار رہ سکے۔

مگر انسولین کی زیادہ مقدار کا اخراج جسم کے لیے اس کی حساسیت کو کم کرتا ہے جسے انسولین کی مزاحمت کا عارضہ بھی کہا جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن جاتا ہے۔

جراثیموں کے خلاف مؤثر

سیب کا سرکہ تیزابیت کے باعث کچھ جراثیموں کا خاتمہ کرتا ہے، یہ غذا میں بہترین کام کرکے اسے بیکٹریا سے صاف کرتا ہے۔

تاہم یہ سرکہ کسی خراش یا زخم کی صفائی کے لیے زیادہ اچھا نہیں، بلکہ اس میں موجود تیزابیت سے جلد کو نققصان پہنچ سکتا ہے۔

بالوں کی خشکی

اگر بالوں کی خشکی کا سامنا ہے تو سیب کا سرکہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ایسے شواہد تو موجود نہیں جن سے ثابت ہوتا ہو کہ یہ سرکہ بالوں میں بیکٹریا یا فنگس کا خاتمہ کرتا ہے، تاہم اس سے سر دھونا خشکی کے مسئلے کو کم کرسکتا ہے۔

تاہم اگر استعمال کے بعد مسئلہ برقرار رہے تو پھر کسی ڈرمالوجسٹ سے مشورہ کرنے کے بعد ہی اسے استعمال کریں۔

بالوں میں موجود جوؤں کا خاتمہ

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ یہ سرکہ اس ننھی مخلوق سے نجات کا اچھا ذریعہ ہے تام سائنس کا اس حوالے سے کچھ اور کہنا ہے۔

گھریلو ٹوٹکوں میں بھی یتون کے تیل، پیٹرولیم یا دیگر کے مققابلے میں اس سرکے کو سب سے آخر میں رکھا جاتا ہے۔

جیلی فش کا ڈنک

جی ہاں یہ سرکہ اس تکلیف دہ ڈنک کے حوالے سے مؤثر ہے، اس مقصد کے لیے متاثرہ جگہ کو سرکے ملے گرم پانی میں ڈبو دیں، اس کے بعد یہ سرکہ جیلی فش کے زہر کو کام کرنے سے روک دے گا۔

دانتوں کی سفیدی

جی ہاں یہ سرکہ دانتوں کی سفیدی بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے مگر اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے ورنہ دانتوں کی سطح متاثر ہوسکتی ہے۔

سرکے ملے کھانے یا پانی کو پینے کے بعد کم از کم 30 منٹ بعد دانتوں پر برش کرلیں، اگر دانتوں کی رنگت مکمل طور پر بدل چکی ہے تو بہتر ہے کہ کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

صحت مند معدہ

سرکے کی تلچھٹ میں ایسے زندہ بیکٹریا ہوتے ہیں جو پروبائیوٹیکس کی طرح کام کرتے ہیں اور ممکنہ طور پر اس سرکے کو معدے کی صحت کے لیے مفید بناتے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے سائنسی شواہد موجود نہیں۔

خلیات کا تحفظ

پھلوں، سبزیوں، کافی اور چاکلیٹ میں پولی فینولز موجود ہوتے ہیں، یہ اینٹی آکسائیڈنٹس ہیں جو خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں جس سے کینسر اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

تو سیب کے سرکے میں موجود پولی فینولز اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، مگر اس بارے میں تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

بلڈ پریشر

چوہوں کے لیے تو یہ سرکہ بلڈ پریشر کو معمول پر لانے کے لیے جادوئی اثر ہے مگر انسانوں کے بارے میں زیادہ تحقیقی کام نہیں ہوا۔

ایسا ممکن ہے کہ اس سرکے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھا جاسکے مگر اس حوالے سے مزید شواہد کی ضرورت ہے۔

کھانے کی اشتہا کم کرے

ناشتے میں سفید ڈبل روٹی کے ساتھ اس سرکے کو کا استعمال کھانے کی اشتہا کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم گندم کے ساتھ زیادہ اثر دیکھنے میں نہیں آتا۔

سرکے کی زیادہ مقدار فائدہ مند نہیں

ایک سے 2 کھانے کے چمچ سرکہ روزانہ استعمال کرنا کافی ہوتا ہے، کیونکہ ایسے شواہد موجود نہیں کہ اس سے زیادہ مقدار مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

درحقیقت زیادہ مقدار سے معدے کے مسائل، دانتوں کی سطح خراب ہونے اور پوٹاشیم کی سطح کم ہوسکتی ہے، بلکہ یہ جلاب کی طرح کام کرسکتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں