جنگ بندی میں معمولی پیش رفت کے باوجود اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری

اپ ڈیٹ 20 مئ 2021
حماس نے 8 گھنٹے تک اسرائیل پر کوئی راکٹ فائر نہیں کیا---فوٹو: بشکریہ الجزیرہ
حماس نے 8 گھنٹے تک اسرائیل پر کوئی راکٹ فائر نہیں کیا---فوٹو: بشکریہ الجزیرہ

امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد جنگ بندی کے حوالے سے معمولی پیش رفت دیکھی گئی ہے لیکن اسرائیل نے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق غزہ میں حماس کے ایک عہدیدار نے پیشگوئی کی کہ آئندہ چند دنوں میں جنگ بندی ہو لیکن اسرائیلی وزیر نے کہا کہ مقاصد کے حصول تک حملے جارہی رہیں گے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فورسز کا غزہ میں قطری ہلال احمر کے دفتر پر حملہ

اسرائیل نے غزہ میں حماس کے ٹھکانے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس پر اسرائیل کا مؤقف سامنے آیا کہ موجودہ کشیدگی کے بعد بھی وہ مسلح گروہ کو آئندہ کے حملوں سے باز رکھنا چاہتا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں 65 بچے، 39 خواتین سمیت 230 فلسطینی جاں بحق اور ایک ہزار 700 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

اسرائیل میں حماس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 12 اسرائیلی ہلاک اور 336 زخمی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آر ایس ایف کا غزہ میں میڈیا دفاتر پر اسرائیلی حملے کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع

امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم پر کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا۔

دوسری جانب مصری سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقین نے جنگ بندی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے لیکن اس کی تفصیلات پر کام جاری ہے۔

حماس کے ایک سیاسی عہدے دار موسسا ابو مرزوق نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ ایک یا دو دن میں جنگ بندی ہو جائے گی اور یہ جنگ بندی باہمی معاہدے کی بنیاد پر ہوگی۔

اسرائیل کے انٹیلی جنس وزیر ایلی کوہن نے کہا کہ ’نہیں، ہمیں یقینی طور پر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے لیکن جب تک ہم اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوجاتے حملے نہیں روکے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل میڈیا کی عمارت پر حملے کا جواز فراہم کرے، امریکا کا مطالبہ

الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ کے امن سفیر نے حماس کے چیف اسمعیل سے قطر میں ملاقات کی۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ امن سفیر ان دنوں قطر میں موجود ہیں تاکہ اسرائیل اور غزہ کے مابین جنگ بندی کے عمل میں تیزی لائی جاسکے۔

اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی ایجنسی نے کہا کہ غزہ میں لگ بھگ 450 عمارتیں تباہ یا بری طرح متاثر ہوگئی ہیں جن میں 6 ہسپتال اور 9 بنیادی نگہداشت صحت مراکز شامل ہیں۔

غزہ سے تقریباً 52 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرچکے ہیں۔

بدترین انسانی بحران

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں اب تک 219 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں 63 بچے بھی شامل ہیں اور اب تک ایک ہزار 530 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھر اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ 10 مئی سے اب تک حماس نے اسرائیل پر 3 ہزار 700 راکٹ داغے ہیں جس کے نتیجے میں ایک ہندوستانی اور دو تھائی شہریوں سمیت 12 افراد ہلاک اور 333 زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ راتوں رات مسلح گروہوں نے جنوبی اسرائیل کی طرف 50 راکٹ فائر کیے جن میں سے 10 کو ناکارہ بنا دیا گیا اور وہ غزہ کے اندر ہی گر گئے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے رات میں جنوبی غزہ میں زیر زمین حماس کے 40 اہداف کو نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل نے کب اور کیسے فلسطین پر قبضہ کیا، کتنی زندگیاں ختم کیں؟

اسرائیل کی بمباری کے بعد غزہ کی 20 لاکھ آبادی عالمی امداد کی منتظر ہے کیونکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ تقریبا 72 ہزار شہری اپنے گھروں سے نکل اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

تازہ جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند یہودیوں نے رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں مسلمانوں پر حملہ کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے علاقے شیخ جراح میں فلسطینی خاندانوں کو گھروں سے جبری طور پر بے دخل کرنے کا واقعہ پیش آیا۔

فلسطین کے مرکز اطلاعات کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہیبرون کے قریب ایک فلسطینی خاتون کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جس کے بعد 10 مئی سے اب تک مغربی کنارے پر ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں