موٹاپے کا شکار بنانے والی یہ غذائی عادات آپ کے اندر بھی تو موجود نہیں؟

08 جون 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کیا جسمانی وزن میں تیزی سے ہوتے اضافے یا موٹاپے سے پریشان ہیں ؟ تو آپ کی عام نظر آنے والی غذائی عادات اس کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جی ہاں واقعی آپ کی پلیٹ میں غذا کی مقدار اور کتنی تیزی سے اسے کھاتے ہیں، یہ عادات تعین کرتی ہیں کہ آپ کتنا زیادہ کھاسکتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب لوگ زیادہ مقدار میں غذا کو پلیٹوں میں بھرتے ہیں تو وہ زیادہ کیلوریز جزوبدن بناتے ہیں۔

اسی طرح جو لوگ بہت زیادہ تیزی سے کھاتے ہیں یا بڑے نوالے چباتے ہیں وہ بھی ضرورت سے زیادہ مقدار میں غذا کھالیتے ہیں۔

امریکا کی پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ غذا کی مقدار صحت پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے، بللکہ جسمانی جسمانی وزن میں اضافہ کیسے ہوتا ہے۔

تحقیق کے لیے 44 مردوں اور خواتین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور انہیں 4 ہفتوں تک ہر ہفتے ایک بار دوپہر کا کھانا کھلایا جاتا۔

ان افراد کو مختلف مقدار میں میکرونی اور پنیر پانی کے ساتھ فراہم کیا جاتا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی جاتی تاکہ ان کے کھانے کی رفتار، مقدار اور نوالے کے حجم کی جانچ پڑتال بھی کی جاسکے۔

تحقیق میں شامل افراد 18 سے 68 سال کی عمر کے تھے اور ان میں 45 فیصد کا جسمانی وزن زیادہ تھا یا وہ موٹاپے کے شکار تھے۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگ زیادہ تیز رفتاری سے کھاتے ہیں یا بڑے نوالے چباتے ہیں یا زیادہ نوالے لیتے ہیں یا دیر تک کھاتے ہیں تو اس سے کیا اثر ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ جب ہم تیزی سے کھاتے ہیں تو یقیناً کھانا کم وقت تک ہمارے منہ میں رہتا ہے اور جب ہم بہت بڑے نوالے چباتے ہیں تو بھی غذا بہت کم وقت ہمارے منہ یں ہوتی ہے، تو دماغی سگنلز کو ہمیں یہ آگاہ کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے کہ اب پیٹ بھر گیا ہے اور کھانے سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کم توانائی فراہم کرنے والی غذا کو جزوبدن بناتے ہیں تو جسم کو توانائی تو کم ملتی ہے مگر بہت زیادہ مقدار جسم کے اندر پہنچ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ پانی والی غذائیں جیسے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کرنا بہتر آپشن ہے یا سست رفتاری سے غذا سے لطف اندوز ہوکر کھانا بھی بسیار خوری سے بچاتا ہے، مگر ایسا لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جلد امریکن سوسائٹی فار نیوٹریشن کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں