متنازع قانون سازی کا معاملہ: اسپیکر قومی اسمبلی نے کمیٹی تشکیل دے دی

اپ ڈیٹ 24 جون 2021
کمیٹی اپنی سفارشات اسپیکر قومی اسمبلی کو پیش کرے گی۔  - فائل فوٹو:ڈان نیوز
کمیٹی اپنی سفارشات اسپیکر قومی اسمبلی کو پیش کرے گی۔ - فائل فوٹو:ڈان نیوز

قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں کی مشاورت سے متنازع قانون سازی کے معاملے پر مشاورت کے لیے اسپیکر اسمبلی نے کمیٹی تشکیل دی۔

کمیٹی، اسے بھیجے گئے معاملات کے حوالے سے اپنے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) کو وقتاً فوقتاً حتمی شکل دے گی اور اپنی سفارشات اسپیکر قومی اسمبلی کو پیش کرے گی۔

کمیٹی میں حکومت کی جانب سے وزیردفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ سمیت وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ فہمیدا مرزا، وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: عوام کی جیب خالی ہے تو بجٹ جعلی ہے، منظور نہیں ہونے دیں گے، شہباز شریف

اس کے علاوہ کمیٹی میں اتحادی جماعتوں سے خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی بھی رکن ہیں۔

کمیٹی میں اپوزیشن سے شاہد خاقان عباسی، سردار ایاز صادق، رانا ثنا اللہ، شاہدہ اختر علی، نوید قمر، شازیہ مری اور آغا حسن بلوچ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں قومی اسمبلی میں حکومت نے ایک ہی روز میں ریکارڈ قانون سازی کرتے ہوئے والدین کے تحفظ کا آرڈیننس، حقوق جائیداد برائے خواتین کا بل، وفاقی دارالحکومت میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن کے بل سمیت دس قوانین کثرت رائے سے منظور کرلیا تھا۔

حکومت کے اس اقدام پر اپوزیشن کی سخت تنقید پر اسپیکر قومی اسمبلی نے قانون سازی کے حوالے سے کمیٹی کے تشکیل دینے کا وعدہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

بعد ازاں بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی قانون سازی آئین اور قانون سے متصادم ہے، ان میں کئی قانونی سقم ہیں۔

شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہم نے آواز اٹھائی لیکن توجہ نہیں دی گئی اور پھر سینیٹ میں جا کر اپوزیشن نے اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو مخاطب کرکے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ کمیٹی بننی چاہیے۔

جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس ضمن میں بات ہوچکی ہے، اس کی تحقیقاتی کمیٹی بنے گی جس میں دونوں بینچز کی جانب سے اراکین شامل ہوں گے اور قانون سازی کے عمل کا جائزہ لیں گے۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں