کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مئی میں 63 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگیا

اپ ڈیٹ 26 جون 2021
بڑھتا ہوا درآمدی بل ایک بڑا تجارتی خسارہ پیدا کررہا ہے اور اس نے موجودہ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
بڑھتا ہوا درآمدی بل ایک بڑا تجارتی خسارہ پیدا کررہا ہے اور اس نے موجودہ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں ملک میں مسلسل چھٹی مرتبہ کمی کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) 63 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگیا جس کی وجہ سے حکومت کے پاس سرپلس 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2020 میں شروع ہونے والا مسلسل خسارہ مالی سال 2021 کی پہلی ششماہی میں پیدا ہونے والے فوائد کو ختم کر رہا ہے۔

اس سال مئی میں خسارہ اپریل کے 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بہت زیادہ رہا، تاہم دسمبر کے 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے خسارے سے کم تھا۔

مزید پڑھیں: رواں مالی سال کے 10 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ 77 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مئی 2020 میں ملک نے 32 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا سرپلس حاصل کیا تھا۔

تاہم دسمبر کے بعد سے خسارے کا حجم کم ہونا شروع ہوا اور جنوری میں 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، فروری میں 5 کروڑ ڈالر، مارچ میں 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور اپریل میں 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر پر آگیا تھا۔

مئی میں ہونے والے بڑے خسارے نے مالی سال 2021 کے خاتمے پر کرنٹ اکاؤنٹ کے سرپلس میں رہنے کے امکان کو کم کر دیا ہے جس کی وجہ جون میں ایک اور خسارے کا سامنا کرنے کے لیے بہت تھوڑی رقم کا رہ جانا ہے۔

مالی سال 21-2020 کے جولائی تا مئی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے سرپلس میں ہے جس سے اس سال کے آخر میں سرپلس ہونے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔

اس سے قبل اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ مالی سال 2021 میں خسارے ترسیلات زر کے مضبوط امکانات کے پیش نظر جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم رہنے کی توقع کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرنٹ اکاؤنٹ پہلے 9 ماہ میں 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس ریکارڈ

رواں مالی سال کے نو ماہ کے اختتام پر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ اکاؤنٹ 17 سال کے بعد سرپلس ہوگیا ہے جس سے معیشت کو طویل عرصے تک خسارے کے بڑے دباؤ سے نکلنے میں مدد ملے گی۔

تاہم بڑھتا ہوا درآمدی بل ایک بڑا تجارتی خسارہ پیدا کر رہا ہے اور اس نے موجودہ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالا ہے۔

مالی سال 2011 کے 11 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ مالی سال 2020 کی اسی مدت کے مقابلے میں 30 فیصد اضافے سے 27 ارب 46 کروڑ ڈالر رہا۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے ایک فیصد تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی نے درآمدی بل کو آگے بڑھایا ہے جس کے نتیجے میں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

چند بینکروں نے یہ بھی بتایا کہ جون میں ملک سے زرمبادلہ کا بہاؤ زیادہ ہوگا کیونکہ مالی سال اختتام کی طرف آرہا ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ کمپنیاں بھی اپنے واجبات کی ادائیگی کرتی ہیں، جبکہ مالی سال کے اختتام پر قرضوں کی ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں