افغانستان ابھی ہمارا دردِ سر، دردِ دل ہی رہے گا

07 جولائ 2021

رات کے اندھیرے میں امریکیوں نے بگرام ایئر بیس خالی کردیا۔ امریکیوں نے افغان کمانڈر کو بیس حوالے کرنا تو دُور کی بات، اسے تو بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

اس بیس کے اب نئے کمانڈر جنرل میر اسد اللہ کوہستانی ہیں۔ کوہستانی کا کہنا ہے کہ ’پہلے تو ہم امریکی افواج کا یوں اچانک چلے جانا افواہ ہی سمجھے لیکن صبح 7 بجے تصدیق ہوئی کہ امریکی واقعی بیس خالی کرکے چلے گئے ہیں‘۔

افغان سیکیورٹی دستے بیس تک پہنچتے، اس سے پہلے ہی لوٹ مار کرنے کے لیے لوگ بیس میں گھس گئے۔ افغان سیکیورٹی فورسز پہلے تو لوٹ مار کرنے کے لیے آنے والوں کو طالبان ہی سمجھے، لیکن بعد میں ان سے بیس خالی کروا لیا گیا۔

بگرام بیس پر امریکی لگ بھگ 35 لاکھ آئٹم چھوڑ کر گئے ہیں۔ ان میں پانی کی بوتلیں، موبائل فون اور گاڑیاں شامل ہیں۔ اکثر گاڑیوں کی چابیاں نہیں مل سکیں۔ اسی بیس پر ایک جیل بھی ہے جس میں 5 ہزار قیدی بھی ہیں۔ ان قیدیوں میں اکثریت طالبان کی ہے۔

افغان فورسز کے اہلکار امریکی فوج کی جانب سے چھوڑے گئے گٹار استعمال کررہے ہیں—رائٹرز
افغان فورسز کے اہلکار امریکی فوج کی جانب سے چھوڑے گئے گٹار استعمال کررہے ہیں—رائٹرز

افغان شہری بگرام بیس سے ملنے والے سامان کو اپنی دکان پر فروخت کررہا ہے—رائٹرز
افغان شہری بگرام بیس سے ملنے والے سامان کو اپنی دکان پر فروخت کررہا ہے—رائٹرز

اکثر گاڑیوں کی چابیاں نہیں مل سکیں—ٹوئٹر
اکثر گاڑیوں کی چابیاں نہیں مل سکیں—ٹوئٹر

امریکا کی بگرام بیس سے یوں روانگی کو رشیا ٹوڈے، ایشیا ٹائم اور دی ڈپلومیٹ نے مزے لے لے کر بیان کیا ہے۔ افغان کمانڈر کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے ہمیں بگرام خالی کرنے کی تاریخ 8 جولائی بتائی تھی لیکن وہ 6 دن پہلے ہی خاموشی سے روانہ ہوگئے۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم بیس کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے 24 گھنٹے پہلے اپنی تیاری مکمل کرلیں۔

ایشیا ٹائم کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے بگرام بیس خالی کرنے سے پہلے سابق امریکی صدور بارک اوباما اور جارج بش سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انہیں افغانستان سے انخلا کے اپنے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔ صدر بش نے اس ٹیلی فون کال کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ بش کی خاموشی اور ٹرمپ کو نظر انداز کرنے کا مطلب ایشیا ٹائم نے یہ نکالا ہے کہ صدر بائیڈن کے فیصلے کو ری پبلکن پارٹی کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں ڈیوڈ وون ڈریہل نے لکھا کہ ’رات کی تاریکی میں بگرام ایئر بیس خالی کیا گیا۔ امریکی انخلا بدصورت انداز میں جاری ہے۔ بگرام وہ بیس ہے جہاں امریکی صدور، آرمی جنرل، سینیٹر کانگریس مین اور اعلی حکام جاتے رہے اور سب ہی کو اس کا پتہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن اس ناکام جنگ کا اختتام کرنے جا رہے ہیں تب بھی انخلا بہتر طریقے سے ہوسکتا تھا۔

ان سب معاملات کی روشنی میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی ہے۔ انہیں نتائج کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ دوحہ معاہدے پر اصرار کیے بغیر افغانستان سے جا رہے ہیں۔ بگرام بیس خالی کرنے سے متعلق اطلاع دینے تک کی زحمت نہیں کی گئی۔ وہ بھی اس حال میں جب وہاں واقع جیل میں ہزاروں طالبان قیدی موجود ہیں۔

اس صورتحال میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امریکیوں نے تو اپنی طرف سے بگرام بیس کو طالبان کے حوالے کر ہی دیا تھا، اگر یہ قیدی طالبان بگرام بیس کا کنٹرول سنبھال لیتے تو ساری دنیا کا ہی تراہ نکل جانا تھا۔ ایسا ہونا کوئی بہت دُور از امکان یا غیر ممکن نہیں تھا۔

افغان طالبان نے ایک دعوت و ارشاد جلب و جذب کمیشن بنا رکھا ہے۔ اس کی سربراہی امیر خان متقی کر رہے ہیں۔ امیر خان متقی کو طالبان حلقوں میں پالیسی سازی، مذاکرات اور پلاننگ میں اہم ترین دماغ سمجھا جاتا ہے۔ افغان سوشل میڈیا سائٹس پر امیر خان متقی کی سرگرمیاں دلچسپ ہیں۔

حال ہی میں ریلیز ہوئی ایک ویڈیو میں وہ شیعہ وفد کے ساتھ بیٹھے بات کر رہے ہیں۔ ان سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ آپ کی مذہبی سوچ کی وجہ سے آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ افغانستان سب افغانوں کا ہے۔ اس پر سب کا حق ہے۔

طالبان کا قائم کردہ یہ کمیشن وسیع اختیارات رکھتا ہے۔ افغان سیکیورٹی فورسز کے جو اہلکار ہتھیار ڈال رہے ہیں، زیادہ تر اسی کمیشن کی کارکردگی اور منصوبہ بندی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر قبائلی عمائدین کو شامل کرکے افغان سیکیورٹی اہلکاروں سے مذاکرات کیے جارہے ہیں۔

ترک نیوز ویب سائٹ ٹی آر ٹی کا کہنا ہے کہ افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو سرنڈر کرانے میں سب سے زیادہ مدد حزبِ اسلامی کے لوگ کر رہے ہیں۔ یہ وفد بناکر چیک پوسٹوں پر جاتے ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں سے کہتے ہیں کہ کیوں لڑ رہے ہو؟ کس کا دفاع کررہے ہو؟ مطلب یہ ہوتا ہے کہ دفاع تو ہمارا کر رہے ہو تو ہمیں ضرورت نہیں ہے۔

روس کے خلاف سرگرم رہنے والی عسکری قوت حزبِ اسلامی امریکا کے خلاف بھی لڑی اور پھر اشرف غنی سے معاہدہ کرکے سائیڈ پر ہوگئی۔ اب سرنڈر کروانے میں طالبان کی مددگار ہے۔

افغان سیکیورٹی اہلکار ایک حد تک ہی ہتھیار ڈالیں گے، بہت سے ان میں لڑنے کو ترجیح دیں گے۔ 40 فیصد علاقے میں افغان سیکیورٹی فورسز فضائی مدد کے بغیر بھی علاقے کا دفاع کرے گی اور طالبان سے لڑے گی۔ ان لڑنے والوں کے ساتھ جو بھی کچھ کرنا ہے اس کی حکمتِ عملی طالبان کا ملٹری کمیشن طے کر رہا ہے۔

امیر خان متقی کے زیرِ نگرانی دعوت و ارشاد کمیشن اہم طالبان مخالف لیڈروں سے بھی رابطے میں ہے۔ افغان طالبان کا وفد تہران پہنچا ہے۔ وہاں وہ یونس قانونی کی سربراہی میں آئے افغان گروپ جس میں اہم تاجک، ازبک اور شیعہ شخصیات شامل ہیں ان سے مذاکرات کرے گا۔

افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیر متوقع ہے۔ امریکی انخلا اعلانیہ ہونے کے باوجود حیران کن ہے۔ ریجنل دارالحکومت اس وقت حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ امریکی انخلا کا یوں تیزی سے ہونا کسی کے لیے متوقع نہیں تھا۔ تاجکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد بند کردی ہے اور 20 ہزار نئے دستے اپنی سرحد پر تعینات کردیے ہیں۔ روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے تاجک اور ازبک صدر سے بات کی ہے اور دونوں ملکوں کو یقین دلایا ہے کہ روس ان کی مدد کرے گا۔

پاکستان نے بھی طور خم بارڈر وقتی طور پر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کیا ہے۔ افغانستان سے بہت گہرائی سے منسلک ہونے اور ایک پالیسی رکھنے کے باوجود، ہم افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے لیے کوئی بہت زیادہ تیار نہیں تھے۔ اس کا کچھ اندازہ اس بریفنگ سے بھی ہوتا ہے جو پارلیمنٹ کو دی گئی۔

امریکی تو اس ناکام جنگ سے جان چھڑا کر جا رہے ہیں۔ کرسچن سائنس مانیٹر کے مطابق ’امریکا کو افغانستان سے اب کوئی خطرہ نہیں۔ وہاں جتنا بھی مشکل علاقہ ہو ، جہاں بھی دہشتگرد چھپے بیٹھے ہوں امریکا صلاحیت رکھتا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کرسکے، تو ایسی صورت میں اب وہاں بیٹھے رہنے کا جواز نہیں‘۔

امریکی یہاں بیٹھے تھک گئے یا بور ہوگئے، لیکن ایک بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ ہمارے لیے افغانستان امریکا سے بارگیننگ کے لیے ایک اچھا ٹول تھا جو اب نہیں رہے گا۔ اب یہ بھی عین ممکن ہے کہ امریکی اب اپنے قوانین کی روشنی میں ہم سے پابندی پابندی کھیلنا شروع کردیں، لیکن ہمارا زیادہ سنگین مسئلہ ایک اور ہے۔

ترکی کابل ایئر پورٹ کا انتطام سنبھالنے کے لیے رکنا چاہتا ہے۔ چین کو افغانستان کے حوالے سے اب اپنے خدشات ہیں۔ ترکی کی آمد پر وہ اپنی بے چینی چھپا نہیں رہے۔ طالبان کو کابل پہنچنا ہے۔ یہ تینوں ہمارے ہمدرد یا دوست ہیں۔ یہ جب افغانستان میں زور آزمائی کریں گے تو ہماری سر دردی میں اضافہ ہی ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں