نور مقدم قتل: مشتبہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع

24 جولائ 2021
پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا— فوٹو بشکریہ
پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا— فوٹو بشکریہ

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل مشتبہ ملزم ظاہر ذاکر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع کردی ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا، ظاہر ذاکر جعفر کے خلاف منگل کو رات گئے ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی گئی تھی اور مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعذیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل کے الزام میں درج اس مقدمے کے تحت ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں سابق پاکستانی سفارتکار کی بیٹی قتل

ملزم کے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی تکمیل کے بعد آج انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور دلائل سننے کے بعد جج نے ان کے ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزم کو 26 جولائی بروز پیر دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزم کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور اس پر سنگین جرم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا ہے لہٰذا تفتیش کے لیے دو دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جاتا ہے۔

اس کیس کے پراسیکیوٹر ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے قتل میں استعمال کیا گیا اسلحہ برآمد ہوا ہے جس میں ایک چاقو، ایک پستول اور ایک آہنی ہتھیار شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی کے قتل کا مقدمہ مشتبہ شخص کے خلاف درج

انہوں نے مزید بتایا کہ ذاکر جعفر کی تحویل سے ان کا اپنا اور نور دونوں کا فون برآمد ہونا باقی ہے اور اسی مقصد کے تحت ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں 11 دن کی توسیع کی درخواست کی۔

شکایت کنندہ کے وکیل ایڈووکیٹ شاہ خاور نے بھی عدالت سے ریمانڈ میں 11 دن کی توسیع کی درخواست کی تھی، شاہ خاور نے کہا تھا کہ اس معاملے میں زیادہ سے زیادہ 14 دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنا ممکن ہے اور چونکہ تین روزہ ریمانڈ مل چکا ہے لہٰذا 11 دن کا ریمانڈ دیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس قاضی جمیل الرحمٰن نے جمعہ کے روز اس وحشیانہ قتل کی تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ ملزم کا نام ایکزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست دیں۔

مزید پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے کوششیں تیز

تحیقیقاتی ٹیم یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ ملزم کا پاکستان، امریکا یا برطانیہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ ہے یا نہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں