افغانستان کی بدلتی صورتحال، 'پرانی دوستی، دشمنی میں بدل گئی'

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2021
چند لوگ خطے میں آنکھیں بند کرکے امریکا کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، مولانا فضل الرحمٰن کا  اے این پی کے سیکریٹری جنرل پر تنقید - فائل فوٹو: ڈان نیوز
چند لوگ خطے میں آنکھیں بند کرکے امریکا کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، مولانا فضل الرحمٰن کا اے این پی کے سیکریٹری جنرل پر تنقید - فائل فوٹو: ڈان نیوز

پشاور: افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال نے پرانی دوستی کو دشمنی میں بدل دیا ہے، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان لفظی تکرار دیکھی گئی جہاں مولانا فضل الرحمٰن پر جنگ زدہ ملک میں لاکھوں پختونوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں گزشتہ روز ایک عوامی جلسے کے دوران قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے درمیان تنازع اس وقت شروع ہوا جب مولانا فضل الرحمٰن نے افغانستان میں اہم فوجی فوائد حاصل کرنے پر افغان طالبان کو مبارکباد دی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے جنوبی وزیرستان کے مکین علاقے میں مدرسوں کے طلبہ سمیت اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’(افغان) طالبان کو مبارکباد کیوں نہ دیں، انہوں نے 20 سال کی جنگ کے بعد افغانستان میں امریکا کو شکست دی ہے، امریکا اور اس کے اتحادیوں (نیٹو) نے انہیں (طالبان) کو دہشت گرد کہا تھا لیکن میں نے ہمیشہ انہیں مجاہد کہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی کروں گا‘۔

مزید پڑھیں: پاک ۔ افغان بارڈر پر نیم فوجی دستوں کی جگہ فوج تعینات

انہوں نے اپنے ناقدین کو جے یو آئی (ف) کے افغان صورتحال کے بارے میں مؤقف سمجھنے کو کہا اور کہا کہ ان کی پارٹی جنگ لڑنے والے دونوں اطراف کے درمیان بات چیت کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے حالیہ فوجی فوائد کے باوجود افغان طالبان سے مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے ایک ایسے وقت میں افغانستان سے متصل جنوبی وزیرستان کے ضلع کا دورہ کیا جب طالبان نے صدر اشرف غنی کی حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیوں اور فتوحات کا دعوٰی کیا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے رہنما عبد الجلیل جان نے ڈان کو بتایا کہ پارٹی کے سربراہ نے 25 سال کے بعد جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے مقامی چیپٹر نے مولانا فضل الرحمٰن کو مقامی مدرسوں کے طلبہ کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرنے کی دعوت دی تھی۔

دونوں جماعتیں حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ بھی ہیں۔

اے این پی کا نام لیے بغیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ چند لوگ خطے میں آنکھیں بند کرکے امریکا کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن سے اس کی توقع نہ کریں، قوم پرست انہیں سیاست کرنا نہ سکھائیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے چمن بارڈر کھولنے سے تجارتی سرگرمیاں بحال

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اے این پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل افتخار حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ افغانستان کے لاکھوں پختونوں کے خون سے رنگے ہیں۔

پشاور سے بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ کو مسخ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان میں بدامنی کو جاری رکھنے کے لیے حقانیوں اور اسامہ بن لادن کی حمایت کی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’آپ (فضل الرحمٰن کے) ہاتھ لاکھوں پختونوں کے خون میں رنگے ہیں اور آپ نے افغانستان میں جہاد کے نام پر مالی فوائد حاصل کیے‘۔

اے این پی رہنما نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے رہنما اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر افغان طالبان کی حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر اور انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل نے اپنی کتابوں میں انکشاف کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن افغان طالبان کے حامی تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں