بُک ریویو: صحرا میں کھوجی اور ریت کی سرگوشیاں

18 مئ 2022

1990ء کی دہائی کے اوائل تک پاکستانی حدود میں موجود صحرائے تھر پختہ تارکولی سڑکوں سے تقریباً محروم تھا۔ پختہ سڑک صحرا کی مغربی سرحد پر واقع نوکوٹ تک آکر ختم ہوجاتی تھی۔ وہاں سے آگے کا صحرائی سفر اونٹ یا دوسری جنگِ عظیم کے ونٹیج ریو ٹرکوں، جسے مقامی لوگ کیکڑا پکارتے تھے، یا پھر ذاتی جیپوں پر کیا جاتا تھا۔

ان دنوں نوکوٹ سے ضلع تھرپارکر کی انتہائی مشرقی سرحد پر واقع ننگرپارکر تک پہنچنے میں 14 گھنٹے لگ جاتے تھے، آج یہی سفر محض 5 گھنٹوں کی ڈرائیو تک محدود ہوگیا ہے، یہ باتیں سلمان رشید نے اپنی نئی کتاب 'مٹھی: وسپرز ان دی سینڈ' (Mithi: Whispers in the Sand) میں قلمبند کی ہیں۔

سلمان رشید نے اپنے زورِ قلم بالخصوص پاکستان کے مختلف علاقوں کے سفرناموں پر مبنی مضامین سے اپنے مداحوں کا دائرہ وسیع کیا ہے اور انہیں اس خطے کی تاریخ کا مستند ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر جنوبی ایشیا پر سفرناموں کی صنف میں یورپی کولونیلسٹوں کا بیانیہ اندازِ تحریر غالب نظر آتا ہے۔ مگر سلمان رشید کولونیل کارروائیوں کی کہانیوں کا بغور جائزہ لے کر ان کے تعصبات اور ان کی مشکلات کو واضح کرتے ہوئے ایک مقامی شخص کے زاویے نظر کو بیان کرتے ہیں جبکہ جہاں ضرورت پڑے وہاں تاریخ کی درستگی بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: بک ریویو: تاریخ کے مسافر

مصنف نے 1984ء میں اپنی اہلیہ اور دوستوں کے ہمراہ تھرپارکر کا پہلی بار سفر کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں 'ایسا لگتا تھا کہ ہم ایک ایسے ملک میں قدم رکھ رہے ہیں جو اب بھی 19ویں صدی میں تھا'۔

انہوں نے اگلی 4 دہائیوں کے دوران ضلع کے سب سے بڑے شہر مٹھی سمیت اس دُور دراز صحرا کا بارہا سفر کیا اور اسے بدلتے ہوئے دیکھا۔

کتاب میں شامل اپنی تحقیق میں وہ محدود دستیاب مواد کا حوالہ دیتے ہیں، یہ مواد اسٹینلی نیپئر ریکس (1847ء میں 'تھر اور پارکر' میں مقرر مجسٹریٹ) جیسے برطانوی انتظام کاروں کی تحریروں، گزیٹیرز، لوک کہانیوں اور مقامیوں کی 'نسل درنسل منتقل ہونے والی اجتماعی یادداشتوں' پر مشتمل ہے۔ مقامیوں میں سے چند نے اپنے چشم دید گواہ بزرگوں سے واقعات سن رکھے ہیں۔

2017ء میں آخری سفر سے پہلے وہ اس ضلع کے اپنے متعدد سفروں کے دوران وہاں کے رہائشیوں سے مکالمے کرتے رہے۔ ان میں سے ایک سبز آنکھوں والے سوڈا ٹھاکر تھے جن کے آباؤ اجداد راجپوت ذات کو 13ویں صدی میں تھر کے اس حصے تک لائے تھے۔ وہ ایک ایسے مالدار تاجر ہیں جنہیں نہ تو اس علاقے سے باہر جانے کی تمنا ہے اور کئی لوگوں کے اصرار کے باوجود نہ سیاست میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔

خانہ بدوش جوگیوں سے بھی گفتگو کی گئی جو یہ مانتے ہیں کہ کوبرا سانپ کو کبھی فطری موت نہیں آتی اور وہ عقاب یا مور کا روپ بدل بدل کر ہزارہا برس زندہ رہ سکتے ہیں۔

مصنف نے محکمہ جنگلی حیات کے ایک افسر سے بھی بات چیت کی جنہوں نے ہندوستانی غزال (Indian gazelle) کو معدوم ہونے سے بچایا اور ضلع میں جنگلی حیات کی پناہ گاہ بنوانے میں مدد کی۔ کتاب کا ایک بڑا حصہ ان شخصی خاکوں پر مشتمل ہے جو قارئین کو صحرا کی زندگی اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کا باریک فہم فراہم کرتے ہیں۔

کسی کھوجی کی طرح سلمان رشید ذاتی مشاہدے اور مختلف تاریخی حوالہ جات سے سراغوں کو چُن کر ان کی کڑیوں سے کڑیاں جوڑتے ہیں۔ مثلاً ان کے علم میں آتا ہے کہ نگرپارکر کے قریب ویراواہ میں واقع پاری نگر نامی شہرِ گمشدہ پانچویں صدی میں کسی وقت میں ایک بین الاقوامی سمندری بندرگاہ کی حیثیت سے ایک خوشحال شہر تھا، یہ اس زمانے کی بات ہے جب سمندر کا خشکی میں پھیلا بازو رن (کَچھ) سے ویراواہ تک پھیلا ہوا تھا۔

مؤخر الذکر جغرافیائی تفصیل کی تصدیق اس نامعلوم یونانی نااخت کی تحریروں سے ہوتی ہے جو پہلی صدی میں انڈس ڈیلٹا سے کشتی رانی کرتا ہوا اس خلیج تک پہنچا جو کَچھ کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ اس یونانی نااخت نے اس خلیج کا ذکر 'سرکم نیوی گیشن آف دی ایسٹرن اوشیئن' (Circumnavigation of the Eastern Ocean) نامی دستی کتاب میں کیا ہے۔ گوگل ارتھ کا استعمال کرتے ہوئے سلمان رشید اس خلیج کی خشک ہوچکی باقیات کو تلاش کرلیتے ہیں جو پاری نگر کے قریب آکر ختم ہوجاتی ہیں۔

اسی طرح سلمان رشید سنگھارو نامی ایک پُراسرار مقام کی طرف ماہرینِ آثارِ قدیم کی توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ 'راکیز میموئر آن دی تھر اینڈ پارکر ڈسٹرکٹس آف سند' (Raikes’s Memoir on the Thurr and Parkur Districts of Sind) کے مطابق وہاں موجود قلعہ (جو 19ویں صدی کے وسط تک کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا تھا) تالپوروں نے تعمیر کروایا تھا مگر سلمان رشید کا اندازہ ہے کہ یہ قلعہ اس دور سے بہت پہلے 15ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ ایک راجپوت شہزادے کی رہائش گاہ رہا تھا۔ قلعے کی تعمیر میں استعمال شدہ نفاست سے تراشا ہوا سفید سنگِ مرمر اور فنِ تعمیر کا شاہانہ کام اسے تالپوروں کے قلعوں سے منفرد بناتا ہے۔

سلمان رشید جب پہلی بار صحرا آئے تھے تب انہیں ٹروٹ نامی ایک دیومالائی نما کردار کی لوک داستان سننے کو ملی تھی۔ ننگرپارکر کے ایک مقامی کے مطابق وہ روزانہ کارونجھر کی پہاڑیوں پر چڑھتا تھا تاکہ دنیا پر نظر رکھ سکے۔ سندھ کی تاریخ اور 1875ء میں برطانیہ میں شائع ہونے والے سوانحی مقالے کا گہرائی سے مطالعہ کرنے پر سلمان رشید نے پایا کہ وہ کردار دراصل 1857ء میں ضلع میں مقررہ کلیکٹر جارج بوتھ ٹائروٹ سے منسوب تھا، جو تھری زبان بولنا جانتا تھا اور مقامی افراد آج بھی اس کا احترام کرتے ہیں ٹھیک جس طرح جیکب آباد والے ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسر اور سیاسی سپریڈنٹ جان جیکب کا احترام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی ریلوے لائنز اور ان کی کہانیاں

اگرچہ تاریخ ہمیں یہ ماننے پر اکساتی ہے کہ سندھ بھر میں 'سامراجی موجودگی کافی حد تک قابلِ قبول' قرار پائی جاتی تھی مگر سلمان رشید کی تحقیق اس کے برعکس خیال پیش کرتی ہے۔

انہیں 1859ء میں برطانوی راج کے خلاف تھری بغاوت کے شواہد ملتے ہیں جس کی قیادت مقبولِ عام فوجی کمانڈر روپلو کوہلی اور راجپوت سردار رانا کرن سنگھ رن پوری نے کی تھی۔ اول الذکر کو سائی گام کے مقام پر پھانسی دی گئی تھی جبکہ مؤخر الذکر کو نگرپارکر کے باہر انڈمان جزائر پر کالا پانی (سیلولر جیل) کی سزا دی گئی۔ ان واقعات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ٹائروٹ کی مقامیوں میں مقبولیت گتھی کا باعث بنتی ہے، خاص طور پر تب جب یہ پتا چلتا ہے کہ وہ بغاوت کو کچلنے میں سرگرم عمل رہا تھا۔

آج ضلع تھرپارکر کو ملک کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں مقامی افراد کے بقول چوری کا تصور تک نہیں پایا جاتا۔ تاہم سلمان رشید کے بقول ہمیشہ سے یہ صورتحال نہیں تھی۔ نکولس وتھنٹنگ نے دسمبر 1613ء میں تھر کے سفر کا آغاز کیا تھا، اس کے سفرنامے سے تھر کی ایک مختلف تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ جیسے ہی یہ انگریز سوداگر گجرات کے شہر احمد آباد سے ننگرپارکر پہنچتا ہے تو اسے بار بار لٹیروں کے ہاتھوں چند لاچار تاجروں کے قتل کی اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔

ننگرپارکر سے ٹھٹہ تک کے سفر کے دوران اسے کئی مرتبہ لوٹا گیا جبکہ اس کے قافلے میں شامل 3 ہندوستانی تاجروں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو جلدی سے گڑھا کھود کر دفن کردیا گیا تھا۔ اس نے واپسی کی راہ لینے کا فیصلہ کیا مگر لوٹتے وقت بھی اسے لوٹا گیا اور اس بار اسے اس کی پوشاک سے بھی محروم کردیا گیا۔

وتھنگٹن، جو سلمان رشید کے مطابق ننگرپارکر آنے والا پہلا یورپی شخص تھا، لکھتے ہیں کہ ننگرپارکر اور ٹھٹہ کے درمیانی علاقے میں مقیم لوگ مغلوں کو نہ لگان دیتے نہ ہی ان کی اطاعت کرتے تھے بلکہ وہ صرف اور صرف مقامی سرداروں کو جوابدہ تھے۔ ان کا پسندیدہ مشغلہ مسافروں کو لوٹنا اور پھر ان کو محفوظ انداز میں اپنی پہرے داری میں اپنی زمینی حدود سے باہر لے جانا تھا تاکہ دوسرے بھی انہیں لوٹ سکیں۔

سلمان رشید لکھتے ہیں کہ 18ویں اور 19ویں صدی میں بلوچ حملہ آوروں نے کَچھ کے شہروں پر حملہ کرنے کے لیے مٹھی کو فوجی مرکز کے طور پر استعمال کیا۔ 1850ء کی دہائی میں تھر پر برطانوی قبضے کے بعد جاکر یہ سلسلہ تھما۔ سلمان رشید لکھتے ہیں کہ، ہوشیار برطانوی انتظام کار جانتے تھے کہ سرکش بلوچوں کو کس طرح اپنے قابو میں لانا ہےاور 2 دہائیوں کے اندر ہی انہیں تھر میں پولیسنگ اور فوجی فرائض سونپ دیے گئے۔

مزید پڑھیے: ’روزانہ سوا سیر سونا دینے والے کارونجھر کو بچانا ہوگا‘

سلمان رشید چند مقامی لوک داستانوں کے مفہوم پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ ماروی کو اغوا کرنے والے عمر نامی سومرو بادشاہ ماوری کی مزاحمت سے متعلق لکھتے ہیں کہ، ماروی کی داستان کو محبت کے گیت کے طور پر ایک زمانے سے گایا جاتا رہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ دانشور اس کہانی کو اس کے اصل پس منظر میں دیکھنے سے قاصر رہے: درحقیقت یہ حکام کے خلاف مزاحمت کی کہانی ہے۔ تھر اور شاید پورے سندھ بھر میں ماروی ہی وہ اکیلا کردار ہے جو ایک غیر معمولی حیثیت کی باغیانہ سورمی کے طور پر نظر آتی ہے۔ ایک نوجوان اور بے کس خاتون جس نے طاقتور بادشاہ کی تمام پیش کشوں کو ٹھکرایا اور دوبارہ اپنی آزادی حاصل کی۔

حکومت نے ماروی کے کنویں کے تاریخی مقام کو اس کے حقیقی رنگ روپ سے محروم کرتے ہوئے جس طرح جدید تعمیرات اور غیر مقامی کونورکارپس کے درختوں کے ساتھ آراستہ کیا ہے وہ مصنف کو ناگوار گزرا ہے۔ یہ کنواں اب ان تھری عورتوں کی رسائی میں نہیں ہے جو یہاں سے اپنے مٹکے بھرا کرتی تھیں۔

اس کتاب میں ایک ایسے تھر کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جو انسان کی بنائی ہوئی سرحدوں کو پار کرجاتا ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل ننگرپارکر تمام تر سرگرمیوں کے بیچ میں پڑتا تھا کیونکہ یہاں سے 2 قدیم بیوپاری راستے نکلتے تھے، جن میں سے ایک گجرات سے شکارپور جبکہ دوسرا گجرات سے ٹھٹہ تک جاتا تھا۔ 2001ء کے زلزلے سے پہلے تک ننگرپارکر کا ٹیراکوٹا چھتوں سے آراستہ بازار لومبارڈی کے کسی گاؤں کا منظر پیش کرتا تھا۔

مگر سلمان رشید اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ تبدیلی ناگزیر ہے اور اس کے اپنے فوائد بھی ہیں۔ انہوں نے 1984ء میں جو تھر دیکھا تھا وہ چند برسوں کے اندر ویسا نہیں رہا۔ جوگی قبیلہ صدیوں سے نگر نگر جاکر سانپوں کا تماشا دکھا کر گزر بسر کر رہا ہے، اسی قبیلے کے پھوٹو نامی رُکن مصنف بتاتے ہیں کہ، 'شاید یہی اچھا ہے کہ ہمارے بچے تعلیم اور کاروبار کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ یوں کم از کم ان کی زندگیاں تو بہتر ہوں گی'۔


کتاب کا نام: Whispers in the Sand

مصنف: سلمان رشید

پبلشر: سنگِ میل، لاہور

آئی ایس بی این: 978-9693533248

صفحات: 216

یہ تبصرہ 25 جولائی 2021ء کو ڈان کے اخبار کے بکس اینڈ آتھرز میں شائع ہوا۔

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف