اغوا کا کیس: 'زیادتی ثابت نہیں ہوئی'، عدالت کا لڑکیوں کو والدین کے ساتھ بھیجنے کا حکم

اپ ڈیٹ 06 اگست 2021
اپنے بیان میں لڑکیوں نے بتایا کہ وہ گھر سے سیر کرنے نکلی تھیں، ملزمان نے راستے سے اغوا کرلیا — فوٹو: ڈان نیوز
اپنے بیان میں لڑکیوں نے بتایا کہ وہ گھر سے سیر کرنے نکلی تھیں، ملزمان نے راستے سے اغوا کرلیا — فوٹو: ڈان نیوز

ہنجروال سے اغوا ہونے والی لڑکیوں کے کیس میں لاہور کی مقامی عدالت نے ان کو والدین کے ساتھ بھیجنے کا حکم دے دیا جبکہ میڈیکل رپورٹ میں لڑکیوں سے زیادتی ثابت نہیں ہوئی۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے بازیاب کی گئی 4 لڑکیوں کو ضلع کچہری میں پیش کیا جبکہ پولیس کی جانب سے ملزمان کو پیش کیا گیا۔

پولیس نے چاروں لڑکیوں کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی جس کے مطابق لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ثابت نہیں ہوئی۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق چاروں لڑکیوں کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جن کی حتمی رپورٹ بعد میں پیش کی جائے گی۔

عدالتی حکم پر لڑکیوں کے میڈیکل کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: 4 بچیوں کے اغوا کے 5 ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

جوڈیشل مجسٹریٹ وسیم وارث کی جانب سے لڑکیوں کے بند کمرے میں 164 کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جس میں انہوں نے والدین کے ساتھ جانے کی استدعا کی۔

اپنے بیان میں لڑکیوں نے بتایا کہ وہ گھر سے سیر کرنے نکلی تھیں، ملزمان نے راستے سے اغوا کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے انہیں اپنے گھر قید میں رکھا وہاں سے ساہیوال لے کر گئے، ملزمان ہمارا نکاح کروانا چاہتے تھے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے لڑکیوں کو اپنی تحویل میں لینے کی استدعا کی۔

عدالت نے لڑکیوں کی حوالگی پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد میں سنایا گیا اور عدالت نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں والدین کے ساتھ بھیجنے کا حکم دے دیا۔

عدالتی حکم پر چاروں لڑکیوں کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی ضلعی عدالت نے 4 لڑکیوں کے مبینہ اغوا میں ملوث 5 افراد کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے سے کردیا جبکہ دو خواتین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

ساتھ ہی جوڈیشل مجسٹریٹ نے ساہیوال سے بازیاب ہونے والی چاروں لڑکیوں کا میڈیکل کروانے کا حکم دیا تھا اور لڑکیوں کے بیان کے لیے آج کا دن مقرر کیا تھا۔

عدالت نے ملزمان کو نوٹس جاری کر تے ہوئے کہا تھا کہ ملزمان کی موجودگی میں لڑکیوں کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا، پولیس ملزمان اور لڑکیوں کو عدالت میں پیش کرے۔

مزید پڑھیں: لاہور سے لاپتا 4 بچیاں ساہیوال سے بازیاب، ملزم گرفتار

یاد رہے کہ لاہور کے علاقے ہنجروال سے 30 جولائی کو لاپتا ہونے والی 4 لڑکیوں کو پولیس نے تین روز قبل ساہیوال سے بازیاب کرالیا تھا۔

واقعے کا مقدمہ بازیاب ہونے والی دو لڑکیوں کے والد کی مدعیت میں تھانہ ہنجروال میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا تھا کہ لڑکیاں 30 جولائی کو رات 8 بج کر 30 منٹ پر اورنج ٹرین کے سفر کی غرض سے گھر سے نکلی تھیں اور اس کے بعد سے لاپتا ہیں۔

پولیس نے ابتدائی تفتیش میں 2 خواتین سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا تھا، بعد ازاں ساہیوال پولیس نے رکشہ ڈرائیور قاسم کو گرفتار کیا، جس نے لڑکیوں کی نشاندہی کی اور پولیس نے انہیں بازیاب کرایا۔

پولیس کے مطابق ملزم قاسم نے چاروں لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں