'رواں برس ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف بآسانی حاصل ہوجائے گا'

اپ ڈیٹ 01 ستمبر 2021
جولائی اور اگست دونوں ماہ کے لیے 6 کھرب 90 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا —فائل فوٹو: ثوبیہ شاہد
جولائی اور اگست دونوں ماہ کے لیے 6 کھرب 90 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا —فائل فوٹو: ثوبیہ شاہد

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی اور اگست میں ہدف سے 23 فیصد زائد ریونیو اکٹھا کیا اگر یہی رفتار جاری رہی تو سالانہ وصولیوں کا ہدف بآسانی حاصل ہوجائے گا۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے گزشتہ 2 ماہ میں 8 کھرب 50 ارب روپے اکٹھے کیے جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں اکٹھے ہونے والے ریونیو سے 51 فیصد زائد ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے چیئرمین نے ٹیکس جمع کرنے والے ادارے کی تنظیم نو کا روڈ میپ پیش کیا اور اعلان کیا کہ رواں مالی سال کے دوسرے ماہ مہینے میں ریونیو کلیشن میں 45 فیصد اضافہ ہوا۔

ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران ڈاکٹر اشفاق احمد کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ریونیو کلیکشن 4 کھرب 34 ارب روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ برس کے 3 کھرب روپے کے مقابلے 45 فیصد زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جولائی کی ریونیو کلیکشن پر وزیراعظم ایف بی آر کے معترف

انہوں نے بتایا کہ ریونیو کلیکشن اگست کے مہینے کے لیے مقرر کردہ ہدف سے 85 ارب روپے یا 24 فیصد زائد رہی۔

اسی طرح جولائی اور اگست دونوں ماہ کے لیے 6 کھرب 90 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا جبکہ ریونیو کلیشن ایک کھرب 59 ارب روپے یا 263 فیصد بڑھ کر 8 کھرب 49 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

تاہم گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریونیو میں 41 فیصد یا 6 کھرب 3 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

ڈاکٹر اشفاق احمد نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر نے کووڈ 19 کے بحران کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر نے ٹیکس وصولی کے ہدف سے 30 ارب زیادہ حاصل کرلیے

خیال رہے کہ حکومت نے بجٹ تیار کرتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مالی سال 2021 میں اکٹھے کیے گئے 47 کھرب 21 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2022 میں 58 کھرب 29 ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

تاہم ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ 2 ماہ کی کارکردگی کی بنیاد پر وہ پُر امید ہیں کہ رواں مالی سال کا ریونیو کلیشکن کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔

ڈاکٹر اشفاق احمد نے واضح کیا کہ ان کی توجہ آٹومیشن، ٹیکس دہندگان کی سہولت، ٹیکس قوانین کو آسان بنانے، ٹیکس کے نفاذ میں بہتری اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات پر مرکوز ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ترجیحی توجہ ریونیو کی پیداوار پر ہوگی جبکہ اصلاحات پر بھی توجہ دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اپنے طریقے سے ریونیو بڑھائیں گے، آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق نہیں، وزیر خزانہ

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کے فراہم کردہ فنڈ سے چلنے والے منصوبے کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آلات کو اپ گریڈ کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے حالیہ سائبر حملے میں ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ہیک کیے جانے کی تردید کی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا استعفیٰ ایف بی آر ڈیٹا سسٹم پر سائبر حملے سے منسلک نہیں تھا۔

تبصرے (1) بند ہیں

ندیم احمد Sep 01, 2021 05:24pm
اشیاء کی لمبی لسٹ ہے جن پر موجودہ حکومت نے 17 % سیلز ٹیکس نافذ کیا۔ اسکے علاوہ مہنگی بجلی ،گیس، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ، ایکسچینج ریٹ میں اضافہ کی وجہ سے مہنگی امپورٹ اور کسٹم ڈیوٹی، جس کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمت فروخت میں اضافہ ہو جانا اس سے ٹیکس کولیکشن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگی ایل این جی کی خریداری اس کی مثال ہے۔