بک ریویو: چائنہ روم

21 اکتوبر 2021

سنجیو سہوتا کا ناول China Room جنوبی ایشیائی مصنفین کی لکھی ان 2 تصانیف میں شامل ہے جسے رواں سال بُکر پرائیز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ 2015ء میں سہوتا کے آخری ناول The Year of the Runaways کو مین بُکر پرائیز اور دی ڈیلن تھامس پرائیز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، جبکہ یورپین یونین پرائیر برائے ادب سے نوازا گیا تھا۔

کبھی حال تو کبھی ماضی میں بیان کی گئی یہ دو رُخی کہانی غیر منقسم ہندوستان میں مقیم مہر اور 1990ء کے انگلینڈ میں مقیم ان کے پڑپوتے کے گرد گھومتی ہے۔ دونوں کرداروں کو نہ صرف خونی رشتہ جوڑتا ہے بلکہ ان دونوں کی اس معاشرے سے آزادی کی جنگ بھی ان میں ایک تعلق پیدا کردیتی ہے جو انہیں اپنی صنفی و نسلی شناخت کے باعث مخصوص دائروں تک محدود رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

کہانی 1929ء کے دیہی پنجاب سے شروع ہوتی ہے جہاں بچپن میں دلہن بننے والی مہر اپنے شوہر کی شناخت سے پردہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہے۔

مہر، ہربنز اور گرلین کی شادیاں 3 بھائیوں سے ایک ہی تقریب میں ہوئی تھی۔ یہ دیورانیاں اور جیٹھانیاں اپنے دن کا زیادہ تر وقت ایک الگ تھلگ کمرے میں ایک ساتھ گزارا کرتی تھیں جسے چائنہ روم پکارا جاتا تھا۔ اس کمرے کو یہ نام وہاں موجود پتھر کے بنے شیلف میں ترچھی کرکے رکھی گئی چین کے روایتی ڈیزائن سے مزین پرانی پلیٹوں کی وجہ سے دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: بک ریویو: ملے جو کہکشاں میں

مہر کے شوہر کی شناخت کی پُراسراریت کہانی کے ساتھ جڑی رہتی ہے، اور اسے سہوتا نے کہانی کے مرکزی تنازع اور کلائمکس بنانے کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔

بظاہر حقیقت سے پرے نظر آنے والی اس کہانی کو بدنام زمانہ پدرسری سماج کی تلخیاں تقویت بخشتی ہیں جو افسوس کے ساتھ آج بھی دیہی بھارت میں قائم و دائم ہے، مگر 20ویں صدی میں اس کا غلبہ اور بھی مضبوط تھا۔ صنفی اعتبار سے چلتی آرہی روایات کو قائم رکھنے کے لیے عورت کی محکومی عام سی بات تصور کی جاتی تھی اور سخت پردہ کروایا جاتا تھا، یہی پہلو اس کہانی میں کنفیوزن کا سبب بنتا ہے۔

تینوں دلہنوں کو ہر وقت بھاری مخملی نقاب پہننے اور پورے دن چھوٹے موٹے یا گھریلو کام کاج کی ہدایت کی جاتیں اور انہیں کسی بھی مرد سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان فرسودہ روایات کو قائم رکھنے کے پیچھے گھر کی خاتون سربراہ یعنی ان کی ساس مائی ہے۔ وہ اپنے بیٹوں کی بیویوں کو جب چاہے اپنے پاس طلب کرلیتی ہے، میاں بیوی میں کسی قسم کی رومانویت کی شمع روشن ہونے نہیں دیتی اور اپنے بیٹوں کو ان کے لیے پہلے سے متعین راہ پر چلانے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیاری رہتی ہے۔

کتاب کا سرورق
کتاب کا سرورق

اس ناول کا جو ایک پہلو مجھے مضطرب کرتا ہے وہ مائی کی عمومی نفرت بھرے رویے کو پیش کرنے کا انداز ہے۔ کہانی میں آگے چل کر جس طرح مائی اپنے بیٹوں پر سختیاں کرتی ہے اس کی کوئی معقول وجہ دینے کے لیے قارئین کو کسی قسم کا پس منظر نہیں دیا گیا۔ تاہم مائی کا کردار ایک ذی شعور سماجی تبصرے کے طور پر نظر آتا ہے کہ کس طرح یہ مسئلہ صنف سے نہیں بلکہ ذہنیت سے جڑا ہے۔

چائنہ روم میں رہنے والی خواتین نرم مزاج، حالات کی ماری تابعدار انسانی وجود ہی نہیں رکھتیں بلکہ بعض اوقات وہ جرم کی مرتکب بھی قرار پاتی ہیں۔ نسوانی جبرو استحصال کہانی میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

کہانی کے دوسرے بیانیے میں مہر کا پڑپوتا لندن سے اپنے چچا کے گھر پہنچتا ہے جہاں اس کی کڑوے مزاج کی چچی مائی کے کردار سے مماثلت رکھتی ہے۔ وہ اتنی سخت طبع اور ظالم ہے کہ اپنے شوہر کو بھی تھپڑ رسید کردیتی ہے۔ چونکہ چچی کے بارے میں بیان کردہ پس منظر میں جبری شادی کا تذکرہ کیا گیا ہے اس لیے ان کی ظالمانہ روش کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے۔

مزید پڑھیے: بک ریویو: کراچی وائس: لائف اینڈ ڈیتھ ان اے کنٹیسٹڈ سٹی

اس نوعمر لڑکے نے انگلینڈ سے بھارت کا سفر اپنے وجود پر طاری 2 بُرائیوں سے جنگ کی خاطر کیا ہے۔ پہلی بُرائی ہیروئن کے نشے کی عادت ہے اور دوسری برطانیہ میں اس کے اہلِ خانہ اور خود اس کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کی وجہ سے نسل در نسل منتقل ہوتا ذہنی صدمہ ہے۔

چچی کے ہاتھوں گھر سے باہر نکالے جانے کے بعد وہ دیہی پنجاب میں گاؤں سے دُور نامعلوم خاندانی فارم چلا جاتا ہے اور وہیں ہیروئن کا نشہ چھوڑنے کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

کہانی کو دو رخی انداز میں بیان کرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ کس طرح ماضی حال کو آگاہی دیتا ہے لیکن چونکہ دونوں مرکزی کرداروں کی جہتیں آپس میں نہیں مل پاتیں یا یوں کہیے کہ وہ ایک دوسرے کو اپنے تجربات سے آگاہ نہیں کرتے اس لیے یہ مقصد بڑی حد تک پورا نہیں ہوپاتا۔

مہر کا پوتا فارم میں موجود چائنہ روم میں رہنا شروع کردیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی پڑ دادی نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ وہیں قید وبند میں گزارا تھا۔ وہ لوہے کی سلاخوں کو دیکھتا ہے اور مقامی لوگوں سے قصے سنتا ہے جس کے مطابق وہ ایک بڑے اسکینڈل میں بُری طرح پھنس چکی تھی۔ تاہم وہ اس کہانی کو گہرائی سے جاننے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھاتا۔

مہاجرین کس قدر جذباتی تناؤ اور نسل در نسل جاری تعصب کے ذہنی صدمے کا سامنا کرتے ہیں، اسے سہوتا نے اپنی کہانی میں بھرپور انداز میں بیان کیا ہے۔

دوسری کہانی میں اس طرح کے واقعات کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ کہانی کے دوسرے مرکزی کردار کو اپنے ہم جماعت کی تقریب سالگرہ یاد آتی ہے جہاں ہم جماعت کے نسل پرست والد نے اسے گھر کی دہلیز سے بھگا دیا تھا۔ قریبی جھیل کے گرد دو چکر لگانے کے بعد جب وہ سست قدموں سے چلتے گھر لوٹتا ہے تو اس کا والد 'امید اور فکر کی ملی جلی کیفیت سے پوچھتا ہے‘ کہ اسے تقریب میں مزہ آیا یا نہیں۔ وہ لڑکا ہاں میں جواب دیتا ہے، یہ سن کر اس کے والد کے چہرے پر راحت دوڑ جاتی ہے۔

مہاجرین کی پہلی نسل کی جدوجہد کو اس کے والد کی کوششوں کے ذریعے دکھایا گیا ہے جو اپنے اہل خانہ کو اچھی زندگی دینے کے لیے مصروف رہے۔ وہ لڑکا اپنے والد کو یاد کرتا ہے جو پورا دن بھاری اینٹیں ڈھویا کرتے اور پیٹھ پر کھرونچوں اور رستے ہوئے زخموں کے ساتھ گھر لوٹتے تھے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ مار پیٹ کرنے والے آدمیوں کو بھی یاد کرتا ہے جو فقط 'ادھیڑ عمر بھوری رنگت والے آدمی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ہی ارادے سے ایسا کر رہے تھے'۔ وہ ایسی جگہ تھی جہاں سرِعام تشدد کا نظارہ ہر نکڑ پر دیکھنے کو مل جاتا تھا، چونکہ اس جگہ پر سکون پانا تقریباً ناممکن تھا اس لیے وہ ذہنی انتشار کا شکار ہوتا چلا گیا۔

مزید پڑھیے: بک ریویو: اے پرومیسڈ لینڈ

حالات و واقعات سے مہر کی اجنبیت بھرپور انداز میں نظر آتی ہے کیونکہ وہ باہر کی اس دنیا سے مکمل طور پر منقطع تھی جہاں برٹش راج سے آزادی کی جدوجہد زور پکڑ رہی تھی۔

'ملک و ریاست کے مختلف حصوں میں کیا ہو رہا ہے اسے کچھ خبر نہیں تھی بلکہ اسے یہ تک پتا نہیں تھا کہ اس کے کمرے سے 10 میل آگے ہزاروں افراد فرقہ ورانہ فسادات میں مارے جاچکے ہیں۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں کو جوتوں کے ہار پہننے پر مجبور کیا جا رہا ہے، غیر ملکی کپڑے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، یا رات کے وقت کبھی کبھار ڈھول پیٹنے کی جو آوازیں وہ سنتی ہے وہ دراصل برٹش دور کے خاتمے کی نوید ہیں۔'

کتاب کے آخر میں ایک تصور ہے جس میں شیرخوار سہوتا کو ان کی دادی تھامے ہوئے ہیں۔ یوں یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ نصف کہانی خودنوشت پر مبنی ہے۔ ناول China Room ان اندرونی زندگیوں کا جذباتی قصہ ہے جو بیرونی دنیا میں طاقتور نظام سے متاثر رہتی ہیں۔


کتاب کا نام: چائنہ روم

مصنف: سنجیو سہوتا

ناشر: ہارویل سیکر، برطانیہ

آئی ایس بی این: 1911215851-978

صفحات: 256


یہ تبصرہ 5 ستمبر 2021ء کو ڈان، بکس اینڈ آتھرس میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں