فالوورز کے لیے فنا ہوتے بچے

01 دسمبر 2021
بچوں کو مناسب وقت دیجیے اور ایسا تعلق قائم کیجیے کہ جس سے ان کو بھی فائدہ ہو اور آپ کو بھی  پچھتانے کا موقع نہ ملے۔
بچوں کو مناسب وقت دیجیے اور ایسا تعلق قائم کیجیے کہ جس سے ان کو بھی فائدہ ہو اور آپ کو بھی پچھتانے کا موقع نہ ملے۔

علاؤالدین اپنی سوزوکی پک اپ وین میں سوار ہوکر سوات کی تحصیل کبل میں واقع توتانو بانڈئی کی طرف جا رہے تھے۔ انہوں نے نکلنے سے پہلے اپنے 17 سالہ بیٹے حمیداللہ کو اس لیے خدا حافظ نہیں کیا کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ وہ سو رہا ہوگا، مگر حمیداللہ پوری رات جاگا تھا اور صبح اپنے زیرِ تعمیر نئے گھر کی چھت کا جائزہ لینے چلا گیا۔

گاڑی چلاتے ہوئے 3 گھنٹے گزرے تھے کہ علاؤالدین کا فون بجا۔ فون پر ان کے کزن نے انہیں فوری طور پر ہسپتال آنے کا کہا۔ علاؤالدین سمجھے کہ ان کے بھتیجے عظمت علی کو کچھ ہوگیا ہے۔

وین کو موڑتے وقت انہوں نے خاندان کے دیگر افراد سے فون پر رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ہوا کیا ہے۔ مگر کسی سے جواب موصول نہ ہوا۔ بالآخر انہوں نے حمیداللہ کو فون کیا مگر اس کی جگہ عظمت علی نے فون اٹھایا۔ پریشانی کے عالم میں علاؤالدین نے پوچھا کہ حمیداللہ کہاں ہے؟

ان کے بھتیجے نے بتایا کہ حمیداللہ نے خود کو گولی مار دی ہے۔ گھر والے اسے ہسپتال لے کر گئے ہیں۔ صدمے کی حالت میں علاؤالدین نے اپنی وین مینگورہ میں سیدو شریف کی ہسپتال کی طرف دوڑائی۔ مگر جب وہ ایمرجنسی روم پہنچے تب تک ان کے بیٹے کی لاش کو وصول کرنے کا وقت ہوچکا تھا۔

'اس دن میری دنیا ہی اجڑ گئی'، علاؤالدین ضلع کبل کے علاقے قلعہ گئی میں واقع اپنے چھوٹے گھر میں بیٹھے اس سانحے کو بیان کر رہے تھے۔

11ویں جماعت کا طالب علم حمیداللہ 50 ہزار فالوورز کے ساتھ اپنے شہر کا مشہور ٹک ٹاکر تھا۔ 8 مئی 2021ء کو حمیداللہ اور ان کے کزنز نے پکنک پر جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

حمیداللہ کے کزن عظمت علی نے ای او ایس کو بتایا کہ سارے لڑکے حمیداللہ سے 30 فٹ دُور پکنک کے لیے کھانا پکا رہے تھے کہ اچانک انہوں نے گولی چلنے کی آواز سنی۔ جب وہ حمیداللہ کے پاس دوڑتے پہنچے تب انہوں نے اس کی ٹانگ پر خون دیکھا۔ بعدازاں انہوں نے اس کے سر کو بھی خون میں تر پایا۔

لڑکے اسے کندھوں پر اٹھا کر سڑک تک لے گئے جہاں انہوں نے سیاحتی وین کے ڈرائیور کو ہسپتال تک چھوڑنے کے لیے کہا۔ قلعہ گئی سے سیدو شریف جانے والا راستہ چونکہ ناہموار اور آڑا ٹیڑھا ہے اس لیے ہسپتال تک پہنچنے میں 3 گھنٹے کا وقت لگ گیا۔

حمیداللہ کے ایک دوسرے کزن لیاقت علی کا کہنا ہے کہ حمیداللہ نے زیریں دیر سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح کے سامان سے پستول اٹھائی تھی۔ پولیس افسران نے واقعے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ 'حمیداللہ گولیوں سے بھری پستول پکڑ کر خودکشی کا دکھاوا کر رہا تھا'۔ غلطی سے فائر ہونے کی وجہ سے حمیداللہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

قلعی گئی ایک ایسا علاقہ ہے جو زیریں دیر کو ضلع سوات سے جوڑتا ہے۔ علاؤالدین کے کزن شیر بہادر بتاتے ہیں کہ قلعی گئی کے زیادہ تر مرد اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جیسے دبئی یا سعودی عرب چلے جاتے ہیں۔

ای او ایس سے گفتگو کرتے ہوئے علاؤالدین نے بتایا کہ 'میں نے گھر سے دُور سعودی عرب میں پورا پورا دن مزدوری کرکے اپنے بیٹے کو بڑا کیا تھا۔ میں نے اس کی ہر خواہش پوری کی اور حال ہی میں اپنے گھر والوں کے لیے نیا گھر بنوانے کے لیے میں نے 10 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔ مگر اس کی موت کے بعد میں نے تعمیراتی کام روک دیا ہے کیونکہ اب میری زندگی بے مقصد ہوچکی ہے'، انہوں نے ایک گہرا سانس لیا۔

گھر سے دُور رہنے والے مزدوروں کا مقصد ظاہر ہے کہ اپنے خاندانوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور بچوں کو بہتر مستقبل دینا ہوتا ہے۔ بچے اپنے بیرونِ ملک مقیم والد سے تحفے لانے کی درخواست کرتے ہیں۔ بیٹے الیکٹرانکس، موبائل فونز اور موٹرسائیکل کی فرمائش کرتے ہیں۔ اپنے گھر والوں سے دُور یہ لوگ اس طرح کی فرمائشوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ شیر بہادر غمگین لہجے میں کہتے ہیں کہ 'بعض اوقات ان کے تحفے لطف کے بجائے بربادیوں کا سبب بن جاتے ہیں'۔

نوعمروں میں موبائل فون کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے نتیجے میں ٹک ٹاک جیسی سوشل میڈیا ایپلیکشنز کا استعمال بعض اوقات وقت گزاری کی سرگرمی کو جان کے خطرے میں بدل دیتا ہے۔ ان ایپلیکشنز پر چند نوجوان صارفین کی فالوورز بڑھانے کی خواہش انہیں ایک خطرناک لت میں مبتلا کرسکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ فالوورز حاصل کرنے کے لیے وہ دیگر صارفین کو متاثر کرنے کے لیے خطروں سے بھرے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی مناسب نگرانی کے فقدان کی وجہ سے علاؤالدین جیسے کئی والدین اپنے بچوں کو ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھے ہیں۔

شیر بہادر کہتے ہیں کہ انہوں نے قلعی گئی میں اکثر نوجوانوں کو موبائل فون کے استعمال کا عادی پایا ہے اور اسکول کا کام کرنے کے بجائے وہ دن کے کئی گھنٹے موبائل پر صَرف کردیتے ہیں۔ حکومت نے 21 جولائی کو 'غیرمناسب مواد' کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی لیکن نوجوان اب بھی پابندیوں کو بالائے طاق رکھنے والے ورچؤل پرائیوٹ نیٹ ورک یا وی پی این کے ذریعے ٹک ٹاک تک رسائی رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم ٹک ٹاک سے ملتی جلتی پاکستانی ویڈیو شیئرنگ کی ایپلیکیشن اسنیک ویڈیو پر کوئی قدغن نہیں اور نوجوانوں میں اس کی مقبولیت بھی بڑھ رہی ہے۔

حمیداللہ کی موت کے ایک ماہ بعد کرم باغ کا رہائشی 14 سالہ شوکت علی حادثاتی طور پر گولی چلنے کے واقعے میں ہلاک ہوا تھا۔ سوات کبل کی مقامی پولیس کے مطابق شوکت علی اپنے دوست کو یہ دکھا رہا تھا کہ حمیداللہ نے کس طرح خود کو گولی ماری تھی۔ جب اس نے ٹرگر کو چھوا تو گولی اس کے سر میں جا لگی۔

بچوں کی آن لائن سرگرمی پر نظر

18 سالہ معین علی ایک دہاڑی پیشہ شخص ہے جو شانگلہ میں مرغیوں کو گاڑی میں بھرتا اور گاڑی سے اتارتا ہے۔ وہ اپنا زیادہ تر فارغ وقت سوشل میڈیا بالخصوص ٹک ٹاک پر گزارتا ہے۔ معین علی پر جوکھوں بھرے کام دکھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فالوورز حاصل کرکے شہرت پانے کا جنون سوار ہے۔

جولائی میں معین علی نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں اسے روتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ وہ عیدالاضحیٰ پر خودکشی کرلے گا اور اس کی آخری رسومات 12 بجے کے بعد ادا کی جائیں گی۔ جس کے بعد مقامی سماجی کارکنان نے اس کی ویڈیو کے اسکرین شاٹ لیے اور فیس بک پوسٹ کرتے ہوئے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے معین سے رابطہ کیا اور ویڈیو ہٹوائی۔ پولیس نے اسے مستقبل میں اس قسم کی حرکتوں سے باز رہنے کے لیے خبردار بھی کیا۔

مگر سعد عمر اتنا خوش قمست ثابت نہ ہوسکا۔ بشام سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ ٹک ٹاکر نے 7 جون کو اپنے گھر میں پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی تھی۔ سعد نے بھی اپنی خودکشی کے حوالے سے ویڈیو پوسٹ کی تھی مگر اس پر کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔ سعد عمر کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بیٹے نے ایک رشتہ دار کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تھا مگر چونکہ لڑکی کی پہلے کہیں اور منگنی ہوچکی تھی اس لیے انہوں نے رشتے سے انکار کردیا تھا۔ اس کی خودکشی کے پیچھے یہی وجہ ہوسکتی ہے۔

لاہور میں مقیم سارہ نقوی سینٹرل پارک میڈیکل کالج ٹیچنگ ہسپتال سے بطور کلینکل ماہر نفسیات وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات پر کوئی شک نہیں ہے کہ سوشل میڈیا نے نوجوانوں اور خاص طور پر 10 سے 24 برس کی عمر کے افراد کی ذہنی صحت پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے ہیں۔

ڈاکٹر سارہ نقوی نے جب اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے اشتراک سے چترال میں ایک سروے کیا تو علاقے میں 12 سے 30 برس کی عمر کے افراد میں خودکشی کا دوسرا سب سے بڑا سبب سوشل میڈیا کے استعمال کو پایا۔ سروے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جو افراد روزانہ 2 یا اس سے زائد گھنٹے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں وہ خراب ذہنی صحت کا شکار رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی ذہنی الجھن اکثر انہیں ڈپریشن میں مبتلا کردیتی ہے۔

ڈاکٹر سارہ نقوی کہتی ہیں کہ 'نوعمروں میں سوشل میڈیا کا استعمال خود اعتمادی میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ وہ اپنا موازنہ دیگر سے کرتے ہیں اور اس طرح ان کی خوداعتمادی کم ہوجاتی ہے اور خطرہ مول لینے کا رویہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ آج کل اکثر ٹک ٹاکرز خطرناک حالات میں ویڈیوز کی عکس بندی کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں'۔

شانگلہ کی تحصیل چاکسار سے تعلق رکھنے والا 13 سالہ قدرت اللہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز کی وجہ سے کافی مشہور تھا جن میں اسے ترک ڈراما سیریز ارتغرل کے اسٹنٹ کی نقل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔ 4 اپریل کو قدرت اللہ نے اپنا کرتب دکھانے کے لیے چھت سے رسی باندھ کر کودنے کی تیاری مکمل کرکے موبائل فون کیمرا کو ریکارڈنگ پر لگا دیا، مگر حادثاتی طور پر رسی اس کے گلے میں پھنس گئی جس کے نتیجے میں اس کا گلا گھٹنے لگا۔ 3 گھنٹوں بعد قدرت اللہ کی والدہ نے اسے چھت پر مردہ حالت میں پایا۔

اس کے والد غلام حبیب کا اب یہ کہنا ہے کہ اگر انہیں پتا ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا ویڈیو کی عکس بندی کے دوران مرسکتا ہے تو وہ قطعاً بستر پر سونے نہیں جاتے۔ شادی کے 20 برس بعد پیدا ہونے والا قدرت اللہ ان کی اکلوتی اولاد تھا۔ غلام حبیب کہتے ہیں کہ اپنے بیٹے کو اچھی طرح پالنے اور اور آرام دہ زندگی دینے کے لیے انہوں نے اپنی زرعی زمین بیچ دی تھی، مگر ٹک ٹاک نے اس کی زندگی بہت ہی جلدی چھین لی۔

اسلام آباد میں مقیم انسانی حقوق کے کارکن اور ٹی وی پروڈیوسر حماد حسن بچوں کی بہتر زندگی کے لیے والدین کی رہنمائی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'والدین کو اپنے بچوں کی ٹک ٹاک پر سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ایسی بہت سی ویڈیوز ہیں جن کے بچوں پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'آپ ٹک ٹاک کو کسی حد تک 'سماجی بُرائی' بھی پکار سکتے ہیں'۔

دوسری طرف ڈاکٹر سارہ نقوی والدین کو سمجھداری سے اپنی ذمہ داری نبھانے کی تجویز دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'لوگ اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے دُور نہیں رکھ سکتے کیونکہ پڑھائی اور دیگر مقاصد کے لیے بھی ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس سماجی مسئلے کی ایک اہم وجہ گھر والوں کی معاونت، مناسب توجہ اور دیکھ بھال میں برتی جانے والی کوتاہی ہے'۔

ان کا کہنا ہے کہ 'آج کل گھر کے افراد اپنا زیادہ تر وقت موبائل فون پر گزارتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ والدین اپنے بچوں کو نہ صرف بڑوں بلکہ دوستوں کی حیثیت سے بھی وقت دیں۔'

وہ والدین کو مشورہ دیتی ہیں کہ 'بچوں کو مناسب وقت دیجیے اور ایسا تعلق قائم کیجیے کہ جس سے ان کو بھی فائدہ ہو اور آپ کو بھی پچھتانے کا موقع نہ ملے'۔


یہ مضمون 10 اکتوبر 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

اپنی رائے دیجئے

2
تبصرے
1000 حروف
Masood Ahmed Dec 01, 2021 02:08pm
بہت اثرانگیز اور دردناک رپورٹ ہے۔
Ahsan Khalil Dec 02, 2021 11:41am
TIK TOK should be banned for always.............