مسلم لیگ (ن)، عمران خان اور عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور کرے، پیپلز پارٹی

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2021
پہلے عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے کیونکہ ان کی برطرفی کے بعد وزیراعظم کو ہٹانا آسان ہوگا، شازیہ مری - فائل فوٹوـپیپلز پارٹی ویب سائٹ
پہلے عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے کیونکہ ان کی برطرفی کے بعد وزیراعظم کو ہٹانا آسان ہوگا، شازیہ مری - فائل فوٹوـپیپلز پارٹی ویب سائٹ

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایسے کام کے لیے وقت سازگار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے اسلام آباد سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان سے نجات کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی چاہیے اور اپوزیشن لیڈر (شہباز شریف) کو فوری طور پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی چاہیے‘۔

شازیہ مری نے کہا کہ پہلے عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی برطرفی کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ہٹانا آسان ہوگا۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم میں اصل پھوٹ کب اور کیوں پڑی؟

حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں رکھنا قوم سے غداری کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں بے مثال اضافے اور حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ آٹا، چاول، گھی، دالیں اور یہاں تک کہ سبزیوں جیسی ضروری اشیا غریبوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کو آہستہ آہستہ خط غربت سے نیچے دھکیلا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے 20 اکتوبر سے اپنے الگ الگ پلیٹ فارمز سے ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مہم کا آغاز کر رکھا ہے اور اسی مناسبت سے ملک کے مختلف علاقوں میں کئی ریلیوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔

پیپلز پارٹی نے مارچ میں پی ڈی ایم کو اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں پر اختلافات کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کا ملک بھر میں جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان

اس وقت اس نے پی ڈی ایم کی قیادت کو تجویز دی تھی کہ تحریک عدم اعتماد کو نہ صرف وزیر اعظم کے خلاف بلکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف بھی لایا جائے۔

پیپلز پارٹی نے تجویز دی تھی کہ انہیں اس اقدام کو کامیاب بنانے کے لیے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) سے بات کرنی چاہیے لیکن مسلم لیگ (ن) نے اس خیال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی وجہ سے مسلم لیگ (ق) سے ہاتھ نہیں ملا سکتے۔

مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی مثال دیتے ہوئے اس آپشن کو مسترد کیا تھا کہ اپوزیشن ایوان میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود تحریک عدم اعتماد کے ذریعے سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے میں ناکام رہی تھی۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں