ای میل

مشترکہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کیا کچھ ہوتا رہا؟

بدھ کے روز اہم سمجھی جانی والی قانون سازی پر پارلیمنٹ کی مہر ثبت کرنے کے لیے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔

اجلاس سے قبل صبح سے ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں چہل پہل شروع ہوچکی تھی۔ سب سے پہلے پارلیمنٹ کا عملہ، اس کے بعد صحافی پھر دونوں ایوانوں کے اراکین اور اس کے بعد حکومتی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی قیادت پہنچی۔ یہ واحد اجلاس تھا جس میں شرکت کے لیے وزیرِاعظم عمران خان بھی اجلاس شروع ہونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے تھے۔

وزیرِاعظم نے اجلاس سے پہلے تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت اور اہم ملاقاتیں کرنی تھیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر ایک صحافی نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ اکثریت ہونے کے باوجود آپ بہت اجلاس کر رہے ہیں کوئی پریشانی ہے کیا؟ جس پر وزیرِاعظم نے جواباً سوال کیا کہ کون سے اجلاس؟ ایک اسپورٹس مین کی طرح وہ بولے کہ ’کھلاڑی ہر وقت مقابلے کے لیے تیار رہتا ہے‘۔ لیکن پھر وزیرِاعظم نے اپنی جماعت اور اتحادیوں کے اجلاس کی صدارت کی جس میں زور دیا گیا کہ آج ہر صورت جیت کر دکھانا ہے۔

ایک طرف وزیرِاعظم حکومتی ممبران کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے تو دوسری جانب اپوزیشن بھی کمیٹی روم میں سر جوڑ کر بیٹھی تھی۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پیپلز پارٹی کی قیادت حکومتی عزائم ناکام بنانے کی حکمتِ عملی بنا رہی تھی۔

یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ حکومتی جماعتوں کو شاید علم تھا کہ بازی حکومت لے جائے گی، کیونکہ عددی اکثریت میں حکومت کا پلڑا بھاری تھا، لیکن جب نتیجہ آیا تو اپوزیشن نے نتائج پر شور مچا دیا کہ یہ بازی حکومت نہیں جیت سکتی، بلکہ ان کی بازی الٹ دی گئی ہے۔

لیکن کل آخر ہوا کیا؟ کیا بازی واقعی پلٹی یا سب کچھ ٹھیک رہا، اس کا جواب یقینی طور پر آنے والے دنوں میں ہمیں مل جائے گا۔

اس تحریر میں تو ہم آپ کو وہ سب کچھ بتانے کی کوشش کریں گے جو کل پارلیمنٹ میں کیمرے کے پیچھے ہوتا رہا اور اس پر میڈیا میں زیادہ بات نہیں ہوئی۔

کمیٹی رومز میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اجلاس ہو رہے تھے تو اسپیکر آفس بھی خاموش نہیں تھا۔ جب پارلیمنٹ کا پہلا مشترکہ اجلاس ملتوی ہوا تو اسپیکر نے اپوزیشن کو 11 نومبر کو ایک خط لکھا کہ آئیے اس مسئلے پر مل کر کام کرتے ہیں اور اتفاقِ رائے سے قانون پاس کرواتے ہیں۔

اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے قائد حزب اختلاف کو لکھا جانے والا خط
اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے قائد حزب اختلاف کو لکھا جانے والا خط

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کی یہ آفر قبول کی اور اس جواب کو اسپیکر تک پہنچانے کا کام اپوزیشن کے اہم رہنماؤں سردار ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ سعد رفیق، سید خورشید شاہ، شیری رحمٰن، شاہدہ اختر علی اور مریم اورنگزیب نے انجام دیا۔

لیکن حیران کن طور پر اسپیکر کی جانب سے مکمل خاموشی چھا گئی اور اس جواب پر اسپیکر کی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ پھر جب ایک بار پھر مشترکہ اجلاس کی تاریخ سامنے آئی تو اپوزیشن نے دوبارہ اسپیکر سے رابطہ کیا مگر اسپیکر صاحب کی جانب سے اس بار بھی خاموشی چھائی رہی۔ یہی وہ خاموشی تھی جس کی وجہ سے ایوان میں اسپیکر کی آزادی کے نعرے گونجے۔

میاں شہباز شریف کی جانب سے اسپیکر اسد قیصر کو لکھا جانے والا دوسرا خط
میاں شہباز شریف کی جانب سے اسپیکر اسد قیصر کو لکھا جانے والا دوسرا خط

دن 12 بجے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ٹھیک ایک بجے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبولﷺ اور قومی ترانے کے اختتام پر اسپیکر سیدھے ایجنڈے پر آئے اور مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کو قانون سازی کے لیے بل پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

لیکن اس عمل پر حزبِ اختلاف کی جماعتیں بپھر گئیں اور اہم قانون سازی پر بات کرنے کا مطالبہ کیا۔ بابر اعوان نے بھی ان کے مطالبے کی حمایت کی اور اسپیکر کو بل مؤخر کرنے کی درخواست کرکے کہا کہ اپوزیشن کے ممبران کو بات کرنے کی اجازت دی جائے، یوں تقاریر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف نے اسپیکر کو پارٹی چھوڑنے کا مشورہ دیا اور اپنے کاندھوں پر بٹھانے کا بھی کہا۔ انہوں نے قانون کو کالا قانون اور حکمرانوں کی نیتوں کو کالی نیت قرار دیا۔ ایک موقعے پر عربی زبان بھی بولے تو ایاز صادق نے انہیں جگت مار دی۔ ہوا یوں کہ بحرین کا پارلیمانی وفد جیسے ہی گیلری میں آیا تو اسپیکر نے انہیں خوش آمدید کہا، یہاں سے شہباز شریف بھی عربی میں اھلاً و سھلاً مرحبا کہنا شروع ہوگئے، جس پر ایاز صادق نے کہا کہ آپ کو عربی میں بات کرتے بھی بہت دن ہوگئے۔

قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کی تقریر کا جواب وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے دیتے ہوئے کہا کہ ہم تاریخ بنا رہے ہیں، یہ کالا قانون نہیں لیکن ہم ماضی کی کالک کو صاف کر رہے ہیں۔ شاید شاہ محمود قریشی یہ بھول گئے کہ وہ جن جماعتوں کی کالک کو صاف کرنے کی بات کر رہے ہیں ماضی میں وہ ان دونوں اپوزیشن جماعتوں کا حصہ رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے خطاب کے بعد اسپیکر نے بلاول بھٹو کو مائیک دیے بغیر مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کو انتخابی اصلاحات کا بل پیش کرنے کی اجازت دی تو اپوزیشن نے پھر سے شور مچا دیا۔ بابر اعوان نے بل پیش کرنے کی اجازت کے لیے تحریک پیش کردی۔ اتنی دیر میں پیپلز پارٹی کے کئی اراکین اسپیکر روسٹرم پر پہنچ گئے۔ کراچی سے منتخب رکن عبدالقادر مندوخیل نے جب احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے اسپیکر کو کچھ کہہ دیا تو کھلے مائیک پر اسپیکر کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’آپ اپنی حد میں رہیں، طریقے سے بات کریں ورنہ میں آپ کو معطل کردوں گا۔ یہ کوئی طریقہ ہے؟‘ اسپیکر نے سارجنٹ کو یہ بھی ہدایات دیں کہ عبدالقادر مندوخیل کو باہر نکالیں، لیکن پھر اس پر عمل نہیں ہوسکا۔

اپوزیشن کے جاری احتجاج پر اسپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو بلا لیا۔ تمام سارجنٹ ایوان کے اندر آگئے اور سب نے اسپیکر ڈائس کو حصار میں لے لیا۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سارجنٹ ایٹ آرمز کو ہاؤس کے ممبران کو کنٹرول کرنے کے لیے اس طرح بلایا گیا ہو۔ جنرل ضیاالحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے اشاروں پر چلنے والی اسمبلی میں بھی سارجنٹ ایٹ آرمز کو اس انداز میں ممبران کے سامنے لاکھڑا کرنے کی روایت نہیں ملتی۔

حالات معمول پر آئے تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اپنی تقریر میں اسپیکر کو ان کی کرسی اور عہدے کی عزت و احترام یاد دلاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم آپ کی عزت کرتے ہیں آپ بھی اپنے عہدے کی عزت کریں‘۔

پھر بلاول نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کے بل پر بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی غیر فعال الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی عمدہ مثال پیش کی کہ اس ایوان کے اندر بھی الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام موجود ہے لیکن وہ کام نہیں کرتا۔ جب پارلیمنٹ کے ممبران ہی اس الیکٹرانک نظام کو استعمال نہیں کرسکتے تو پورے ملک کے لاکھوں پولنگ اسٹیشنز پر 16 مہینوں میں کمپیوٹرائزڈ نظام کیسے نصب ہوسکتا ہے؟

وزیرِاعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوتے ہوئے بھی اجلاس میں پونے دو گھنٹے تک نہیں آئے۔ وہ 2 بج کر 46 منٹ پر اس وقت اجلاس میں آئے جب قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تقاریر کرچکے تھے۔ انہوں نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ شہباز شریف و دیگر اپوزیشن ممبران و لیڈران کرپٹ ہیں، تو شاید وہ یہ سوچ کر اپنے چیمبر میں بیٹھ گئے کہ اب ان لوگوں کی تقاریر سنوں گا تو بھی لوگ سمجھیں گے کہ ان کا حامی ہوں، یا شاید تقریر سننا بھی کسی کی کرپشن کو تسلیم کرنے جیسا ہو۔

حزبِ اختلاف کو الیکٹرانک ووٹنگ کے بل پر تو اعتراضات تھے ہی لیکن ساتھ ہی بل پیش کرنے والے مشیر پر بھی اعتراضات اٹھا دیے گئے۔ قانون سازی کے لیے بل پیش کرنے والے غیر منتخب مشیر برائے پارلیمانی امور ظہیر الدین بابر اعوان پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے اعتراض کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ کوئی بھی مشیر وزیر کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ اس کا اختیار استعمال کرسکتا ہے لیکن یہاں پر ایک غیر منتخب مشیر بل پیش کر رہا ہے۔ اس پر اسپیکر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 93 کے تحت صدرِ مملکت مشیران کا تقرر کرتے ہیں، مشیر پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن ووٹ نہیں ڈال سکتے۔

یہاں اسپیکر نے 18ویں ترمیم کی مثال بھی پیش کی لیکن وہ ایک بات بھول گئے جو بعد میں انہیں یاد دلائی گئی۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کا بل میاں رضا ربانی نے بطور مشیر پیش کیا تھا، حالانکہ وہ مشیر نہیں تھے وہ اس وقت بھی سینیٹر اور 18ویں ترمیم کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ تھے۔

اگلا اعتراض اس سے زیادہ اہم تھا اور وہ یہ کہ دونوں ایوانوں کے ووٹ کیسے گنے جائیں گے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس ہو تو اس میں ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی والی سادہ اکثریت نہیں چلے گی۔ بل کی منظوری کے لیے دونوں ایوانوں کے اراکین کو ملاکر حکومت کو سادہ اکثریت ثابت کرنا پڑے گی اور اس کے لیے 220 ممبران پورے کرنے ہوں گے۔

جب یہ بات ہوئی تو بابر اعوان اور وزیرِ قانون فروغ نسیم اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آئین کے حوالے دے کر کہا کہ آئینی ترمیم کے علاوہ کوئی بھی قانون سازی ایک ووٹ کی اکثریت سے ہوسکتی ہے پھر اسپیکر نے بھی فرمایا کہ جب آئین سیدھی بات کردے تو قواعد پر چلنا ضروری نہیں ہوتا، اور یوں پھر حکومت اپنے 221 بندے پورے کرکے اپوزیشن کو اکثریت دکھانے میں کامیاب ہو ہی گئی۔

لیکن اس وقت تک سابق ڈپٹی اسپیکر جاوید مرتضیٰ عباسی کی جانب سے گنتی پر اعتراض اٹھ چکا تھا جس پر اپوزیشن کی طرف سے ممبران کی گنتی کا ٹاسک انہی کو دے دیا گیا۔ انہوں نے اپنے ساتھ عبدالقادر پٹیل کو ملا لیا۔ یہ دیکھتے ہی مراد سعید آگے بڑھے اور تھوڑی دیر میں دونوں آپس میں الجھ پڑے۔ یہاں اسپیکر کہتے رہے کہ عملہ گنتی کا کام خود کرے اور جلد نتائج سے آگاہ کرے۔

اجلاس میں ووٹنگ کیسے ہوگی؟ کتنے ممبران ہوں گے؟ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے باوجود کچھ غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ایسی صورت میں ذمہ داری چیف وہپ کی ہوتی ہے اور تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر احمد ڈوگر کڑی آزمائش سے گزرتے دکھائی دیے۔ وہ اجلاس کے شروع ہونے سے آخر تک اپنی نشست پر نہیں بیٹھے کیونکہ ان کی ڈیوٹی بندے پورے کرنے کی تھی اس لیے وہ بار بار ممبران کی نگرانی بھی کرتے رہے اور دل ہی دل میں ان کی گنتی کا کام بھی کرتے رہے۔

اجلاس میں سب سے زیادہ غیر حاضر ممبران پیپلز پارٹی کے تھے۔ نواب یوسف تالپور ملک سے باہر ہیں، جام عبدالکریم بجار کراچی میں الجھے معاملات کی وجہ سے اجلاس میں نہیں آئے، پیپلزپارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر سکندر مندھرو بھی اجلاس سے غیر حاضر تھے۔

بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل اور ان کی جماعت کی ممبر شہناز نصیر بلوچ بھی اجلاس سے لاپتہ تھے۔

اسی طرح ایم ایم اے کے آفرین خان بھی اجلاس تک نہیں پہنچ پائے۔ فاٹا سے منتخب ممبر علی وزیر کراچی پولیس کی حراست میں ہیں اور ان کے پراڈکشن آرڈر پر اسپیکر نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ نوید قمر ڈینگی وائرس کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

اسی اجلاس میں خوشاب سے تحریک انصاف کے ممبر ملک احسان ٹوانہ اجلاس میں شریک ہوئے جو اس وقت کینسر کے علاج کے بعد کیموتھراپی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ وہ کورونا سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اجلاس میں آئے تھے۔

تحریک انصاف کے ہی محمد خیال زمان اور راحت امان اللہ بھی بیماری کے باوجود اجلاس میں شریک ہوئے۔ اسی طرح شیخ رشید احمد اپنے بھائی کی وفات کے باوجود اجلاس میں موجود تھے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی ممبر شائشتہ پرویز ملک اپنی عدت پوری کیے بغیر ایوان میں پہنچیں۔ آصف علی زرداری چھڑی کے سہارے ایوان میں گھومتے دکھائی دیے اور اپوزیشن کے واک آؤٹ تک وہ ایوان میں موجود رہے۔

ہال کی گیلری میں بھی اہم لوگ براجمان تھے جن میں پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار، وزیرِاعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، تحریک انصاف کے تازہ رہنما ارباب غلام رحیم اور سابق معاون خصوصی ذلفی بخاری شامل تھے۔ ذلفی بخاری نے آتے ہی ڈاکٹر فیصل سلطان سے ہاتھ ملایا، ارباب رحیم نے انہیں پہچان کر ہاتھ آگے بڑھایا لیکن ذلفی بخاری کی ان پر نظر نہیں پڑی اور وہ آگے بڑھ کر نشست پر بیٹھ گئے۔

اجلاس کے شروع میں تو کئی ممبران اپنی نشستیں ڈھونڈ رہے تھے لیکن دیر سے آنے والے مشیرِ خزانہ شوکت ترین کو بھی مشکل سے اپنی نشست ملی اور وہ بھی پارلیمنٹ کے عملے کی مدد سے۔ جب محسن داوڑ نے اپنی پیش کردہ ترمیم پر وائس ووٹنگ کو چیلنج کیا تو اسپیکر نے گنتی کی رولنگ دی۔ گنتی کے دوران جب وزیرِ دفاع پرویز خٹک کھڑے کھڑے تھک گئے تو اسپیکر کی طرف پیٹھ کرکے اپنی ڈیسک پر بیٹھ گئے۔

تحریک انصاف سے نالاں اور کئی بار جماعت کو چھوڑنے والے عامر لیاقت حسین بھی ایوان میں سرگرم نظر آئے، وہ حزبِ اختلاف کے کئی ممبران سے لڑتے جھگڑتے دکھائی دیے۔ ایک موقع پر انہوں نے سابق ڈپٹی اسپیکر جاوید مرتضیٰ عباسی کے گلے میں ہاتھ ڈالنا چاہا، پھر ایسی تُو تُو، میں میں ہوئی کہ بیچ بچاؤ کے لیے دوسرے ممبران کو آنا پڑا۔ بلآخر حکومتی چیف وہپ نے معاملہ سلجھایا۔

اسی موقع پر وزیرِاعظم عمران خان کو بھی مداخلت کرنا پڑگئی۔ عامر لیاقت کو جب ان کی اپنی نشست پر لایا گیا تو وہ وہاں بھی اطمینان سے نہیں رہ سکے اور یہاں ان کی مسلم لیگ (ن) کے رہنما روحیل اصغر سے لڑائی ہوگئی۔

عامر لیاقت جماعت اور حکومت سے ناراض ہیں یا کم از کم ناراض تھے ضرور۔ اس وجہ سے ایوان میں آتے ہوئے ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ تو حکومت سے ناراض ہیں پھر اجلاس میں کیسے پہنچ گئے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ ’آئے نہیں لائے گئے ہیں‘، مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو اس طرح کا بندوبست کرتے ہیں وہی لائے ہیں۔

شہزاد اکبر وزیرِاعظم کے مشیر ہیں، ان کو ووٹنگ میں حصہ لیتے دیکھا گیا تو اسپیکر کو شکایت لگائی گئی۔ اسپیکر نے مائیک سے اعلان کرکے شہزاد اکبر کو نشست پر بیٹھنے اور ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی۔

ووٹنگ کے موقع پر جب بل کے خلاف ووٹنگ پر مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی طارق بشیر چیمہ نشست پر کھڑے ہوگئے تو ایک حکومتی ممبر نے ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا جناب مہربانی کرکے بیٹھ جائیں اور پھر طارق بشیر بیٹھ گئے۔ حکومتی سینیٹر اعجاز چوہدری باہر نکلنے لگے تو وفاقی وزیر شیریں مزاری نے چیخ کر انہیں واپس آنے کو کہا اور وہ واپس آگئے۔

انتخابی اصلاحات کے بل پر اپوزیشن کی طرف سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد، محسن داوڑ اور پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن کی ترامیم تھیں۔ مشتاق احمد اور محسن داوڑ کی ترامیم ایوان میں لی گئیں تاہم شیری رحمٰن نے اپنی ترمیم ابھی پیش بھی نہیں کی تھی کہ اسپیکر نے اس پر ووٹنگ کروا کر اسے مسترد کرنے کی رولنگ دے دی۔

اس عمل کے خلاف اپوزیشن شور شرابہ کرتی رہی، شیری رحمٰن نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ ’آپ نے صبح اور پورے ہفتے ہم سے جو وعدے کیے وہ جعلی وعدے تھے‘، لیکن اسپیکر نے کسی کی نہیں سنی۔ ایوان میں اپوزیشن کے شور شرابے، احتجاج اور نعرے بازی میں اسپیکر قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کا تقریر کے لیے اٹھتا ہاتھ بھی نہیں دیکھ رہے تھے اور نہ وہ بلاول بھٹو کی آواز سننے کو تیار تھے۔ دونوں رہنما جب اسپیکر کے پاس خود چل کر آئے تب بھی دونوں کی بات کو ٹال دیا گیا جس پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ اس واک آؤٹ سے حکومت کو 33 بل منظور کروانے کے لیے ایک واک اوور مل گیا۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینز پر عام انتخابات کروانے کا بل تو منظور ہوگیا لیکن اس پر عمل درآمد کے کئی مراحل ہیں اور اگر اس پر عمل ہو بھی گیا تو اس کو قبول کرنے اور کروانے کے امتحانات مزید سخت ہوں گے کیونکہ اپوزیشن کہہ چکی ہے کہ یہ ایسی قانون سازی ہے جس سے انتخابات ہونے سے پہلے ہی مشکوک ہوچکے ہیں اور ایسے انتخابات کو ہم نہیں مانیں گے۔


ابراہیم کنبھر اسلام آباد میں مقیم ہیں اور سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این سے وابستہ ہیں۔

ان سے ان کی ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے: [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔