Dawn News Television Logo

سالنامہ: دو حصوں میں تقسیم ہوتی دنیا کس طرف جارہی ہے؟

بائیڈن دنیا کو واضح طور پر 2 گروپوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو سرد جنگ کے زمانے کی سیاست ہے اور بائیڈن کو سرد جنگ کا تجربہ بھی ہے
اپ ڈیٹ 17 دسمبر 2021 04:26pm

2021ء اپنی ہنگامہ خیزی کے ساتھ ختم ہونے کو ہے، ہر نئے سال کے آغاز پر عالمی رہنما روایتی پیغامات میں امن کی بات کرتے ہیں لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا نت نئے تنازعات کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے جو ’امن پسند‘ رہنماؤں کی پالیسیوں کی بدولت جنم لیتے ہیں۔

نیا سال بھی پچھلے برس کے تنازعات کے ساتھ شروع ہو رہا ہے، ان تنازعات میں کمی کے بجائے مزید تناؤ اور کشیدگی کے امکانات زیادہ ہیں۔

دنیا کی 2 بڑی طاقتیں امریکا اور چین عالمی سطح پر بڑے پیمانے کے مقابلے کی تیاری میں مصروف ہیں، مقابلے اور رقابت کا یہ عالم سرد جنگ کے بعد سے اب تک نہیں دیکھا گیا۔ دونوں بڑی جوہری طاقتیں فوجی غلبے، سمندر، خلا، سائبر اسپیس اور اس سے بھی کہیں آگے نئے ہتھیاروں کی دوڑ میں ہیں۔

یہ دشمنی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب امریکی حکام آئے روز سیٹلائٹس پر نچلے درجے کے حملوں کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں، تو امریکی بحریہ جنوبی بحیرہ چین میں گشت کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے، ہائپر سانک میزائلوں کی دوڑ الگ ہے۔

دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تجارت، تائیوان، ٹیکنالوجی سمیت کئی معاملات پر تنازع موجود ہے اور اب اس تنازع میں دنیا کو 2 گروپوں میں بانٹنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔

امریکا جمہوری کانفرنس کے بینر تلے نیا عالمی اتحاد بنانے کو ہے اور چین، روس مغرب کے مقابلے کے لیے نہ صرف خود اکٹھے ہیں بلکہ انہیں بھی اتحاد بنانے کی فکر ہے، جسے یورپی میڈیا ’بیڈ گائیز الائنس‘ کا نام دیتا ہے۔ دنیا کو یہ دکھایا جارہا ہے کہ امریکی قیادت میں فرشتے اکٹھے ہیں جبکہ چین اور روس کے ساتھ دنیا بھر کے ’بدمعاشوں‘ کا ٹولہ جمع ہے، دراصل جھگڑا عالمی معیشت کو چلانے کے طریقہ کار اور معاشی مفادات کا ہے۔ دونوں ملک بڑے تجارتی پارٹنرز بھی ہیں جس کی وجہ سے معاملات سرد جنگ کے زمانے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہیں پھر بھی اس گروپنگ کو سمجھنے کے لیے بار بار سرد جنگ کی مثال دی جاتی ہے۔

امریکی و چینی صدور کی ورچؤل ملاقات

نومبر میں امریکا اور چین کے صدور کے درمیان ورچؤل ملاقات میں کوئی بریک تھرو ممکن نہیں ہوسکا، دونوں صدور نے اپنے اپنے تحفظات کی فہرست ایک دوسرے کے سامنے رکھی اور صرف اس بات پر اتفاق ہوپایا کہ تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوششیں کی جائیں گی۔

اس ورچؤل ملاقات کے صرف 3 ہفتے بعد ہی امریکا نے چین میں فروری میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا اور چین کے سفارتی عہدیداروں نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس سفارتی پھٹکار کا جواب دینے کا اعلان کیا۔

آسٹریلیا سمیت کئی امریکی اتحادیوں نے بھی واشنگٹن کی اس سفارتی بائیکاٹ پالیسی کی پیروی کی۔ عالمی قوتوں کی کشمکش کھیلوں کے میدانوں تک جا پہنچی اور مغربی میڈیا نے چین کو کھیلوں سے باہر رکھنے کی مہم کا آغاز کردیا اور چین کی ٹینس اسٹار پینگ شوائی کا معاملہ سامنے آگیا اور بین الاقوامی ٹینس ایسوسی ایشن نے چین میں ٹورنامنٹ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکا 2019ء سے چین کے حکام پر سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی حتیٰ کہ نسل کشی کا الزام عائد کر رہا ہے جبکہ چین کے مؤقف کو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ بتایا جاتا ہے۔

نومبر میں امریکا اور چین کے صدور کے درمیان ورچؤل ملاقات میں کوئی بریک تھرو ممکن نہیں ہوسکا—رائٹرز
نومبر میں امریکا اور چین کے صدور کے درمیان ورچؤل ملاقات میں کوئی بریک تھرو ممکن نہیں ہوسکا—رائٹرز

امریکا اور چین کے درمیان سمندری تنازعہ

امریکا جنگِ عظیم دوم کے بعد سے اپنی بحری اور فضائی قوت کو بحرالکاہل ریجن میں اپنے بنائے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے لیکن اب چین اس نظام کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ چین نے اس کے مقابلے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائی ہے جسے امریکا چین کی طرف سے ایک چیلنج سمجھتا ہے اور صدر بائیڈن نے چین کی فوجی قوت کے مقابلے کے لیے آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا کے ساتھ اتحاد تشکیل دیا ہے اور دیگر قوموں کے ساتھ بھی اتحادوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کے ان اقدامات کو چین امریکی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش تصور کرتا ہے جو اس کے نزدیک اشتعال انگیزی ہے۔

مسئلہ تائیوان

دونوں قوتوں کے درمیان بڑا فلیش پوائنٹ تائیوان ہے، جسے چین اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔ بیجنگ کے نزدیک تائیوان کو الگ ملک ماننے کا تصور 'ون چائنہ' کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

صدر شی جن پنگ تائیوان کو جلد سے جلد چین کا باضابطہ حصہ بنانے کی تیاری میں ہیں اور اس سال چین کے جنگی طیاروں نے تائیوان کی فضائی حدود کے قریب سیکڑوں پروازیں کرکے پیغام دیا ہے کہ بیجنگ تائیوان کو بزور طاقت بھی اپنا حصہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔

ماضی میں امریکی صدور چین کی طرف سے تائیوان کو بزور طاقت اپنا حصہ بنائے جانے کے امکانات پر مبہم پالیسی اپنائے رہے اور تائیوان کو بھی یہی پیغام دیا گیا کہ وہ امریکی حمایت کے زعم میں یکطرفہ طور پر اعلانِ آزادی سے گریز کرے، اور اس ابہام کا مقصد بیجنگ کو اشتعال دلانے سے گریز تھا۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد اب صدر بائیڈن نے بھی اس ابہام کو تقریباً ختم کردیا ہے اور تائیوان کی حمایت کا واضح اعلان ہوچکا ہے، جس کے بعد امریکی بحریہ کے جنگی بیڑے آبنائے تائیوان میں گشت کرکے بیجنگ کو اشتعال بھی دلاتے ہیں اور تائیوان کو دفاع کی یقین دہانی بھی کرواتے ہیں۔ اکتوبر میں صدر بائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا تائیوان کا دفاع کرے گا، تو صدر بائیڈن نے بلاتوقف جواب دیا، جی ہاں! ہم نے اس کا وعدہ کر رکھا ہے۔

دنیا کی دونوں قوتوں کے درمیان بڑا فلیش پوائنٹ تائیوان ہے—رائٹرز
دنیا کی دونوں قوتوں کے درمیان بڑا فلیش پوائنٹ تائیوان ہے—رائٹرز

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تنازعہ

تجارتی تنازع صدر ٹرمپ دور میں اس وقت سنگین ہوا تھا جب دونوں ملکوں نے 2018ء میں ایک دوسرے کے تجارتی سامان پر بھاری ٹیرف عائد کیے۔ صدر بائیڈن نے ٹیرف کی جنگ وقتی طور پر روک دی ہے لیکن مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ ٹیرف کی یہ جنگ بتاتی ہے کہ دونوں ملک تجارتی طور پر کس قدر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں معیشتوں کو جدا کرنے کا کوئی فیصلہ کس قدر تباہ کن ہوسکتا ہے۔

ٹیرف کی اس جنگ کے نتیجے میں ہی صدر شی جن پنگ نے پالیسی دی تھی کہ چین کی معیشت کا بنیادی انحصار ملکی طلب اور قومی ایجادات پر ہونا چاہیے۔ اب باہمی سرمایہ کاری اور تجارت میں رکاوٹ کا یہ عالم ہے کہ ہولی وڈ نے چین کے ولن بھی اپنی فلموں میں لینا بند کردیے ہیں اور چین نے بھی قومیت پرستی پر مبنی سینما کے فروغ پر کام شروع کردیا ہے۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتی مسابقت

ایک اور بڑی مسابقت ٹیکنالوجی کے میدان میں ہے۔ حال ہی میں مائیکرو سافٹ کی سروس لنکڈ اِن نے چین میں کام بند کیا ہے اور وجہ چین کی سنسرشپ پالیسی بتائی ہے۔ تاہم اب بھی بڑی امریکی کمپنیاں ایپل، ٹیسلا، کوالکوم اور انٹیل چین میں کام کر رہی ہیں لیکن امریکا کو ان کمپنیوں کی چین میں موجودگی کھٹکتی ہے اور واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین امریکی ٹیکنالوجی چرا رہا ہے اور چین میں بننے والی امریکی کمپنیوں کی مصنوعات سائبر حملوں کا باآسانی شکار ہوسکتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی یہ لڑائی صدر ٹرمپ نے ہواوے پر پابندیاں لگا کر شروع کی تھی۔ ہواوے پر پابندی سے چین کو احساس ہوا کہ امریکا کس طرح اپنے معاشی اثر و رسوخ کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی روکنے میں استعمال کرسکتا ہے۔ صدر شی نے مئی میں اس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلوبل اسٹرٹیجک گیم میں ٹیکنالوجی ایجادات سب سے اہم میدانِ جنگ بن گئی ہیں۔ صدر شی نے ٹیکنالوجی میں خود انحصاری پر زور دیا۔ امریکا نے اس کے جواب میں ٹیکنالوجی و معلومات چین تک جانے سے روکنے کا کام زیادہ مستعدی سے شروع کردیا اور اب امریکی ایجنسیاں ٹیکنالوجی کمپنیوں میں چینیوں کی سرمایہ کاری کی سختی سے چھان بین کر رہی ہیں، کئی چینی نژاد امریکی ٹیکنالوجی منتقلی کے الزامات میں گرفتار بھی کیے گئے۔

صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ مشرق ابھر رہا ہے اور مغرب زوال پذیر ہے، صدر شی نے یہ جملہ کورونا وبا سے نمٹنے میں امریکی ناکامی، افغانستان سے افراتفری میں فوجی انخلا اور اندرونی سیاسی منافرت کے تناظر میں کہا تھا، اسی احساس کے تحت چین اب عالمی نظام میں حصہ داری چاہتا ہے۔

امریکی مزاحمت کے نتیجے میں چین بین الاقوامی اداروں کے مقابل اپنے ادارے کھڑے کر رہا ہے جیسے ورلڈ بینک کے مقابلے میں غریب ملکوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے چین نے اپنا بینک قائم کیا ہے، امریکا کے مقابلے میں معاشی، سفارتی اور فوجی اتحاد بھی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کی ان کوششوں کو کچھ مبصرین نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ کچھ مبصرین کو شبہ ہے کہ چین نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے بجائے موجودہ نظام کی بنیادی ہیئت تبدیل کیے بغیر کچھ ایسی ایڈجسٹمنٹ چاہتا ہے جس سے وہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کرسکے۔

کیا چین نیا بین الاقوامی نظام بنانے جارہا ہے؟

نئے بین الاقوامی نظام کو بنتا دیکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ چین ایشیا کی بڑی طاقت ہے اور بحرالکاہل میں اس کی بحری برتری بڑھ رہی ہے اور امریکا اوقیانوس تک سکڑ رہا ہے۔ امریکی اتحاد کے تحت جنہوں نے 70 سال تک اس کی برتری کو قائم رکھا وہ اب بکھرنے کو ہیں۔ چین ریل، بندرگاہوں اور فائبر آپٹک کیبلز، ای پیمنٹ سسٹمز، سیٹلائٹس جیسے ترقیاتی منصوبوں کے جال سے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ 20ویں صدی میں امریکی، جاپانی اور یورپی کمپنیوں نے دنیا کی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کیا اور اب چینی کمپنیاں 21ویں صدی میں اس برتری کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ صدر شی جن پنگ چین کی معاشی طاقت دوسروں کو زیرِ اثر لانے کے لیے کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔

جیو اسٹریٹیجک منظرنامہ چین کے نئے بین الاقوامی نظام، جو چین کی اقدار اور روایات پر مبنی ہوگا، کی تشکیل کا پیغام دیتا نظر آتا ہے۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد بنایا گیا بین الاقوامی نظام بنیادی طور پر لبرل جمہوریتوں نے تشکیل دیا تھا جو عالمگیر انسانی حقوق، فری مارکیٹ، قانون کی حکمرانی، شہریوں کی سیاسی اور سماجی زندگیوں میں ریاست کی محدود مداخلت کے تصور پر عمل پیرا تھیں۔ کثیر قومی ادارے اور بین الاقوامی قوانین بھی انہی بنیادی اصولوں پر استوار ہیں۔ صدر شی کا نیا نظام اس تصور کے الٹ ہوگا، وہ ریاستی کنٹرول کے حامی ہیں، نئے نظام میں ادارے، قوانین اور ٹیکنالوجی ریاستی کنٹرول کو نافذ کریں گے، شخصی آزادیوں کو محدود کریں گے، کھلی منڈی کے تصور پر بھی روک لگائیں گے۔ اس نظام میں معلومات اور سرمائے کے بہاؤ کو ریاست کنٹرول کرے گی اور ریاستی کنٹرول پر کوئی آزاد نگران نہیں ہوگا۔

چین کے حکام اور دانشوروں کو یقین ہوچکا ہے کہ دنیا صدر شی کے وژن کو اپنانے کو تیار ہے اسی لیے چین میں ہر طرف یہی غلغلہ ہے کہ مشرق ابھر رہا ہے اور مغرب ڈوبنے کو ہے۔ خوداعتمادی اچھی ہوتی ہے لیکن حد سے بڑھا اعتماد غلطیوں کا امکان بھی بڑھا دیتا ہے۔ صدر شی اور چین کا نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل کا ایجنڈا شاید پورا ہوجائے لیکن کئی ملک ایسے ہیں جو اس سیاسی اور معاشی ماڈل کو اپنانے کی قیمت کا بھی اندازا لگائے ہوئے ہیں۔

صدر شی نئے نظام کی تشکیل کی ابتدا چین کے نئے نقشے سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس سال اکتوبر میں صدر شی نے اعلان کیا کہ چین کی مکمل وحدت کا تاریخی ہدف پورا کیا جانا لازمی ہے اور یہ ہدف ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ صدر شی کے اس اعلان کا مطلب تھا کہ تائیوان، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرہ چین کو چین کا حصہ بنایا جائے گا اور یہ ان کی پہلی ترجیح ہے۔

اس ایجنڈے پر کام شروع ہوچکا ہے، اور 2020ء میں چین نے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی سے متعلق قانون کا نفاذ کیا اور ہانگ کانگ کو ’ایک ملک، دو نظام‘ فارمولے کے تحت 1997ء میں دی گئی خودمختاری ختم کردی گئی۔ چند مہینوں بعد ہانگ کانگ کو مکمل طور پر چین کا حصہ بنا دیا گیا۔ جنوبی بحیرہ چین پر چین کی خودمختاری کے لیے 7 مصنوعی جزائر بناکر وہاں فوجی اڈے بنائے جاچکے ہیں، اور چین اب اس سے آگے جزائر اور سمندری حدود پر حق جتا رہا ہے۔

سمندر کے اس حصے پر دیگر 5 ملکوں کا بھی دعویٰ ہے جن میں برونائی، ملائیشیا، فلپائن، تائیوان اور ویتنام شامل ہیں۔ سمندر کے اس حصے میں چین اکثر اپنی طاقتور بحریہ، کوسٹ گارڈز کے ساتھ فشنگ ٹرالرز بھجواتا ہے۔ جاپان کے قریب ایک جزیرے پر بھی چین حق جتاتا ہے اور کورونا وبا کے دوران چین کی بحریہ اس علاقے میں گشت کرتی رہی۔ ویتنام کے ایک جہاز کے ساتھ چینی کوسٹ گارڈز کا ایک جہاز ٹکرانے کے بعد غرق آب بھی ہوا۔ ملائیشیا کا دعویٰ جس سمندری حدود پر ہے وہاں چین کی فضائیہ اکثر گشت کرتی ہے، بھارت کے ساتھ بھی چین خونریز سرحدی تصادم میں مصروف رہا ہے۔

2020ء میں چین نے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی سے متعلق قانون کا نفاذ کیا اور ہانگ کانگ کو ’ایک ملک، دو نظام‘ فارمولے کے تحت 1997ء میں دی گئی خودمختاری ختم کردی گئی—فائل فوٹو: رائٹرز
2020ء میں چین نے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی سے متعلق قانون کا نفاذ کیا اور ہانگ کانگ کو ’ایک ملک، دو نظام‘ فارمولے کے تحت 1997ء میں دی گئی خودمختاری ختم کردی گئی—فائل فوٹو: رائٹرز

تائیوان کو بزور طاقت چین کا حصہ بنانے کے اعلانات کے بعد تائیوان کو تسلیم کرنے والے کئی ممالک پیچھے ہٹ گئے جبکہ جاپان اور چند چھوٹے یورپی ملک تائیوان کو تسلیم کرنے لگے۔ امریکا نے تائیوان کو بین الاقوامی اداروں کا رکن بنانے کے لیے قانون سازی کی اور سفارتی روابط بڑھائے۔ چین ان اقدامات سے خائف نہیں بلکہ اپنا اثر بڑھانے میں لگا ہوا ہے۔ امریکا کی ایشیا پیسفک پالیسی کے مقابلے میں چین نے خطے کو جوڑنے کا تصور دیا، علاقے کے ملکوں کو ایک بڑے خاندان سے تشبیہہ دی جن کی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور چینی بڑھتا اثر و رسوخ

چین ایشیا پیسفک میں امریکی اثر و رسوخ کم کرکے برتری لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور کامیاب بھی ہورہا ہے جس کا ثبوت خطے کے ملکوں کے ساتھ امریکا کے مقابلے میں چین کا تجارتی حجم ہے۔ خطے کے ساتھ دُور دراز تک اثر و رسوخ بڑھانے کا سب سے بڑا منصوبہ 2013ء میں بیلٹ اینڈ روڈ کے نام سے شروع کیا گیا جس میں 3 زمینی اور 3 سمندری راہداریاں شامل ہیں جو چین کو ایشیا، یورپ اور افریقہ سے ملاتے ہیں۔

اب بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں ڈیجیٹل، ہیلتھ، پولر سلک روڈ کا بھی اعلان کیا جاچکا ہے اور تمام ملکوں کو شرکت کی عام دعوت ہے۔ چین کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک جیسے کثیر القومی اداروں کے بجائے چین خود کرتا ہے، لینڈر بھی خود مہیا کرتا ہے اور ٹھیکے بھی اسی کی کمپنیوں کو ملتے ہیں۔ یہ نیا چینی ماڈل اب عالمی سطح تک پھیل چکا ہے، جس پر امریکا اور مغربی دنیا سوال اٹھاتے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کی بدولت چین کو عالمی نظام میں اہمیت حاصل ہوچکی ہے اور مالیاتی، ثقافتی، ٹیکنالوجی اور سیاسی اثر بڑھ چکا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ایک اندازے کے مطابق اب 60 ملکوں تک پھیل چکا ہے جس پر چین 200 ارب ڈالر خرچ بھی کرچکا ہے۔

یورپ میں یونان اور برازیل بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے لیے پُرجوش ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چین کے سیاسی اور ثقافتی اثر میں بھی مددگار ہے، جو نئے بین الاقوامی نظام کا اہم جزو ہے۔ ایتھوپیا، جنوبی افریقہ اور سوڈان چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تربیتی ورکشاپس کا حصہ بن رہے ہیں۔ فائیو جی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی چین کو ثقافتی اور سیاسی اثر کے لیے مدد مہیا کر رہی ہیں۔

چین کے ساتھ ڈیجیٹل حوالے سے منسلک ملکوں میں چین کے ڈرامے اور فلمیں چل رہی ہیں جو کمیونسٹ پارٹی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ اس سب کے باوجود 2016ء سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے اور چین کو شاید اب تک مطلوبہ سیاسی نتائج نہیں ملے، کئی ملکوں میں منصوبے منسوخ ہوئے، کئی ملکوں میں مقامی آبادی کے احتجاج کا سامنا ہے، کئی ملکوں میں لاگت تخمینے سے بڑھ گئی۔

چین فوجی اثر و رسوخ کو خطے سے دُور افریقہ تک بڑھا رہا ہے، 2015ء میں صدر شی جن پنگ نے افریقی یونین کو افریقی سیکیورٹی میکنزم کے لیے 10 کروڑ ڈالرز دینے کا اعلان کیا تھا۔ دسمبر 2015ء میں صدر شی جن پنگ نے فورم آن چائنہ افریقہ کوآپریشن سربراہ کانفرنس میں افریقی ملکوں میں 60 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ اسی کانفرنس میں چین نے افریقی اتحادیوں کے لیے 6 کروڑ ڈالرز فوجی امداد کا بھی اعلان کیا تھا۔

2017ء میں چین نے جبوتی میں پہلا سمندر پار فوجی اڈہ بنایا۔ جبوتی بحیرہ احمر کے دہانے پر ہے اور اسٹریٹجک اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ بحیرہ احمر میں امریکا، جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، برطانیہ اور سعودی عرب کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔ چین دنیا میں سیکیورٹی کے لیے 10 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے جس کا بڑا حصہ افریقہ میں خرچ ہوا۔ اس سال نومبر میں ڈاکار میں ہونے والے فورم آن چائنہ افریقہ کوآپریشن کے سربراہ اجلاس کے بعد گینیا میں چین کو فوجی اڈہ ملنے کی خبر سامنے آئی۔ یہ چین کے بین الاقوامی نظام میں بڑا شراکت دار یا نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل کی ایک جھلک تھی۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کا کردار

اب آتے ہیں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف۔ صدر بائیڈن کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائی تھی، اب بائیڈن اور ان کی حریف جماعت کے درمیان بھی اگر کسی معاملے پر اتفاق پایا جاتا ہے تو وہ ہے چین کا مقابلہ۔

ٹرمپ نے چین کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے بین الاقوامی فورمز کو خیرباد کہنا شروع کیا تھا لیکن اب تبدیلی یہ آئی ہے کہ بائیڈن بین الاقوامی فورمز کے حامی ہیں۔ ٹرمپ نے امریکا کے اتحادیوں اور نیٹو کو بھی دھتکار دیا تھا لیکن بائیڈن اتحادیوں اور شراکت داری کی پالیسی دوبارہ اپنا رہے ہیں۔ امریکا کا حال ہی میں سہ ملکی دفاعی معاہدہ ’ آکس‘ اس کی مثال ہے۔ اس معاہدے کو انڈوپیسفک خطے سے امریکی کمٹمنٹ کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ 4 ملکی اتحاد کواڈ بھی بائیڈن کی پالیسی اور چین کو حد میں رکھنے کی پالیسی کی بہترین مثال ہے۔

بائیڈن نے نئے اتحادوں کے لیے جمہوری کانفرنس (سمٹ فار ڈیموکریسی) کا راستہ اختیار کیا۔ پچھلے ہفتے ہونے والی اس کانفرنس کو چین نے منافقت قرار دیا اور مغربی میڈیا نے بھی مدعو کیے گئے ملکوں کے جمہوری انڈیکس شائع کیے۔ دراصل یہ کانفرنس چین اور روس کے لیے پیغام تھی جنہیں دعوت تک نہیں دی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور وزیرخارجہ ورچؤل جمہوری کانفرنس میں شریک ہیں—رائٹرز
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور وزیرخارجہ ورچؤل جمہوری کانفرنس میں شریک ہیں—رائٹرز

صدر بائیڈن دنیا کو واضح طور پر 2 حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو سرد جنگ کے زمانے کی سیاست ہے اور بائیڈن کو سرد جنگ کا تجربہ بھی ہے۔ بائیڈن اگر جمہوریت کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں تو مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت کتنی جمہوری ہے؟ کیا وہاں میڈیا آزاد ہے؟ انسانی حقوق کی پامالی کا ریکارڈ کیا ہے؟ سیاسی انتقام عروج پر نہیں؟ اس سب کے باوجود بھارت جمہوری اور بائیڈن کا پسندیدہ ہے کیونکہ چین کو روکنے کے لیے بھارت امریکا کی ضرورت ہے۔

20 سال پہلے امریکا کی ضرورت پاکستان تھا جب جنرل مشرف کی حکومت تھی لیکن بھارت کے ساتھ ویسی گرمجوشی نہیں تھی حالانکہ وہاں اس وقت کانگریس کے لبرلز کی حکومت تھی۔ مگر امریکا کو مشرف دور کی کھلی آمریت پسند تھی کیونکہ وہ اس وقت کی ضرورت تھی۔ اب لنگڑی لولی جیسی بھی ہے جمہوریت ہے لیکن پاکستان کے ساتھ گرمجوشی باقی نہیں رہی۔

بھارت جمہوری اور بائیڈن کا پسندیدہ ہے کیونکہ چین کو روکنے کے لیے بھارت امریکا کی ضرورت ہے— تصویر: رائٹرز
بھارت جمہوری اور بائیڈن کا پسندیدہ ہے کیونکہ چین کو روکنے کے لیے بھارت امریکا کی ضرورت ہے— تصویر: رائٹرز

اس سے بھی پہلے امریکا پاکستان کا اتحادی تھا کیونکہ بھارت امریکی حریف سوویت یونین کا اتحادی تھا اور چین کے ساتھ بھی اس کی کھلی مخاصمت نہیں تھی۔ جب امریکا ویتنام جنگ میں دھنسا ہوا تھا تو اسے چین کے ساتھ تعلقات بنانے کی سوجھی، چین اس وقت بھی ویسا تھا جیسا آج ہے۔ آج جب چین امریکا کے مقابلے میں کھڑا ہوگیا ہے تو چین کا نظام 'آمرانہ' بن گیا۔

جمہوری اتحاد کی ایک اور امریکی مثال روس ہے۔ روس کے ساتھ امریکا کے تعلقات کئی برسوں سے پست ترین سطح پر ہیں اور مسلسل تیسرا امریکی صدر ایشیا کی مرکزیت یا ایشیا کی طرف جھکاؤ کی پالیسی کا علمبردار بنا ہوا ہے۔ روس نے کریمیا کو ہڑپ کیا اور یوکرین کی سرحدوں پر بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت میں مصروف ہے۔ امریکا اسے قابو میں رکھنا چاہتا ہے لہٰذا امریکا یوکرین کے دفاع کے لیے آگیا کیونکہ روس کے ساتھ براہِ راست ٹکر کے بجائے یوکرین کی مدد پر خرچہ کم ہے۔ یہی یوکرین نیٹو کی رکنیت کے لیے اپیل کرتا رہا لیکن سابق امریکی صدور جارج بش اور براک اوباما نے اس پر توجہ نہ دی اور اب جب روس اور چین کا اتحاد مضبوط نظر آتا ہے تو یوکرین اتحادی بن گیا ہے۔

جمہوریت تو امریکی ترکش کا تیر پہلے بھی تھا لیکن تب چین کی طرف رچرڈ نکسن نے ہاتھ بڑھایا تھا اور جوزف اسٹالن کے ساتھ بھی تعلقات بنائے تھے۔ امریکا نیٹو سمیت پرانے اتحادیوں کے ساتھ بھی ٹرمپ کے بعد دوبارہ عہد و پیماں کر رہا ہے۔

امریکا کے اتحادوں میں سب سے اہم عنصر کی کمی تھی اور وہ تھا اقتصادی پہلو، اب امریکا نئے سال کے آغاز پر انڈوپیسفک اکنامک فریم ورک کا اعلان کرنے کو ہے۔ اس سے پہلے ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ کا معاہدہ موجود تھا لیکن ٹرمپ نے 2017ء میں اس سے نکلنے کا اعلان کیا تھا، اب بھی نئے معاہدے کی تفصیلات دستیاب نہیں لیکن امریکی وزیرِ خارجہ سمیت اعلیٰ حکام خطے کے دورے پر ہیں اور سیکیورٹی کے علاوہ اقتصادی وعدے بھی کر رہے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کا دورہ کرنے والے امریکی وزیرِ خارجہ نے چین کو ایک جارح ملک قرار دیا اور نئے اتحادوں پر بات کی۔


دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات بالخصوص مشرق وسطیٰ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔